fbpx
تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ….ٹیچر ز ٹرنینگ اور ایجوکیشن بورڈ 

پہلے خبر آئی تھی کہ حکومت نے تربیت اساتذہ کے اداروں کو بند کر نے کا فیصلہ کیا ہے پھر خبر آگئی کہ حکومت نے ایجو کیشن بورڈوں کی اہم آسامیوں پر باہر سے لوگ لانے کی سمر ی تیار کی ہے شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے لوگ حیراں ہیں کہ حکومت تعلیم کے محکمے کو تجر بہ گا ہ بنا نے پر کیوں تُلی ہو ئی ہے ؟ اساتذہ کی تربیت محکمہ تعلیم کا اہم شعبہ رہا ہے پوری دنیا میں اس کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے 1960 ء کے عشر ے میں اساتذہ کی تربیت کے ادارے گُل بہار پشاور، ہر ی پور ، ڈئی آئی خان ، ورسک اور لنڈی کوتل میں قائم تھے وقت گذ ر نے کے ساتھ ان میں اضا فہ کی ضرورت محسوس کی گئی اور ان کی تعداد بڑ ھا دی گئی ریجنل انسٹیٹوٹ فار ٹیچر ز ایجو کیشن (RITE) کے نام سے تربیتی ادارے دیگر جگہوں میں بھی قائم کئے گئے نصاب تعلیم اور تربیت اساتذہ کی الگ نظا مت قائم کی گئی جس کا دفتر ایبٹ اباد میں رکھا گیا ڈائر یکٹو ریٹ آف کریکو لم اینڈ ٹیچر ز ایجو کیشن (DCTE) کو مضبو ط اور مستحکم ادارہ بنا یا گیا اور اس کام میں اچھی حکومتوں کے کئی سال لگے شاعر کا مصر عہ ہے ’’ بستی بسا نا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے ‘‘ ان اداروں سے تربیت پانے والے مرد اساتذہ اور خواتین اُستا نیاں صوبے کے طول و عرض میں خد مات انجام دے رہی ہیں 2018 ء میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ اساتذہ کی بھر تی کے لئے پیشہ ورانہ تعلیم کی شرط ختم کر دی جارہی ہے شرط ختم کر کے حکومت نے وضا حت جاری کی کہ آئیند ہ اساتذہ کی تربیت بھر تی ہو نے کے بعد کی جائیگی مگر ایک سال کے اندر اساتذہ کی تربیت کے اداروں کو تالا لگا نے کا حکم آیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اساتذہ کی تربیت کا پورا نظام ختم کر دیا جا رہا ہے نہ رہے با نس نہ بجے بانسر ی سردست اس بات کا علم کسی کو نہیں کہ حکومت کو ایسی اوٹ پٹا نگ تجا ویز کو ن دے رہا ہے ؟ حکومت کس کی مشاورت سے اس طرح کے فیصلے کر رہی ہے؟ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ صو بے کے تعلیمی بورڈوں کی کلید ی آسا میاں باہر سے آنے والوں کو دی جا رہی ہیں محکمہ تعلیم کا ان بورڈوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا سکول ، کالج ،کلاس روم ، اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے ساتھ ایجو کیشن بورڈوں کا تعلق ختم ہو جائیگا باہر سے آنے والے لوگ بورڈوں کا انتظام سنبھا لینگے جنرل ضیا ء اور جنر ل مشرف کے ا دوار میں ایجو کیشن بورڈوں کا انتظام تو پ خانہ کے افیسروں کو سونپ دیا جاتا تھا وہ چند سال نئے نئے تجر بے کر کے اپنے پیچھے ملبہ اور کچرا چھوڑ کر چلے جاتے تھے اب بھی باہر سے آنے والے لوگ یہی کا م کرینگے ریکارڈ کی درستگی اور بعد میں آنے والوں کی رہنمائی کے لئے اہم سماجی ، معاشرتی اور عوامی مسائل پر قلم اُٹھا نا قلمکا ر کی ذمہ داری ہے آج کل اخبارات میں جو تجاویز ، مشورے،تجزئیے یا تبصرے آرہے ہیں ان کے مخاطبین موجودہ حکمران نہیں بلکہ آنے والے وقتوں کے لوگ ہیں جہاں تک تربیت اساتذہ کے اداروں کو ختم کرنے کا مسئلہ ہے اس کے دو پہلو ہیں ایک پہلو یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں بڑے شہروں میں قائم رائٹ RITEکالجوں میں داخلے بہت کم ہوئے اس وجہ سے پورے صوبے سے ان کالجوں کا خاتمہ کیا جا رہاہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ اساتذہ کے لئے تربیت کی شرط ختم کردی گئی تربیتی اداروں کی کیا ضرورت ہے؟ اس حوالے سے معقول اور قابل عمل رائے یہ ہے کہ تربیت اساتذہ کی شرط ختم کرنے کے بعد حکومت نے دورانِ ملازمت اساتذہ کی تربیت کا عندیہ دیا ہے اگر چترال ، ڈی آئی خان اورمانسہرہ جیسے دور دراز اضلاع میں قائم تربیتی اداروں کو بند کر دیا گیا تو اِن سروس ٹریننگ کے لئے مرد اور خواتین اساتذہ کو کہا ں لے جایا جائے گا ؟ پشاور میں پائیٹ(PITE)کے نام سے جو ادارہ قائم ہے اس کی استعداد بہت محدود ہے اور یہ ممکن نہیں کہ چترال سے ڈی آئی خان تک تمام اضلاع سے مر د اور خواتین اساتذہ کو پشاور لا کر PITEمیں رکھا جائے یہ قابل عمل منصوبہ نہیں ہے اگر حکومت کسی خاص وجہ سے DCTEکو ختم کرکے سارا کام PITEکو دینا چاہتی ہے تو یہ بھی افسوس ناک بات ہے حکومت کو ماضی میں بھی جھانکنا چاہئیے مستقبل پر بھی غور کرنا چاہئیے 100سال حکومت کرنے کے بعد بھی ایک دن جانا ہے جانے کے بعد حکومت کیا چاہتی ہے ؟ کیا یہ چاہتی ہے کہ اس کو ہٹلر ،اور یحیےٰ خان کی طرح یادکیا جائے اور کہا جائے کہ سب کچھ تباہ کرکے یہاں سے اُٹھ گئے؟ اگر یہ نہیں چاہتی تو پہلے سے قائم اداروں کو توڑ پھوڑ کر بر باد کر نے کی جگہ ایسے اداروں کو مستحکم کیا جائے ، چترال ، ڈئی آئی خان اور ما نسہر ہ کے RITE کالجوں میں آخر ی سال تک طلبا ء اور طالبات کی تعداد پوری تھی تعداد میں کوئی کمی نہیںآئی ، معیار کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا پھر ایسے اداروں کو بند کر نے کا کیا جواز بنتا ہے ؟ یہی حال ایجو کیشن بورڈوں کا ہے امتحا نی نظام شعبہ تعلیم کا اہم ترین نظام ہے اس شعبے کے ما ہر ین ہی اس کو چلا سکتے ہیں با ہر سے آنے والا افسر اپنے لبا س ، اپنے ٹھاٹ باٹ اور اپنے پروٹو کو ل کے حساب سے سب کو متا ثر کر یگا مگر امتحا نی نظام کو 3 سالوں میں بر باد کر کے رکھ دیگا اُس کے جا نے کے بعد پھر کوئی ماہر تعلیم آکر اس کو دو بارہ درست کر یگا ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق