موازنہ کیجئے۔ – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

موازنہ کیجئے۔

……..تحریر:اقبال حیات اف برغذی……..

اقوام متحدہ کی طرف سے ہر سال مارچ کی آٹھ تاریخ کو حقوق نسوان کا عالمی دن بڑے اہتمام سے منایا جاتاہے۔ اس عالمی دن کو منانے اور عورت کے حقوق کا رونا رونے والوں میں وہ اقوام پیش پیش ہیں ۔جن کا ماضی عورت نام کی مخلوق کے خون سے الودہ رہا ہے۔ ان ہی اقوام نے عہد قدیم میں عورت کو ذلیل اور ادنیٰ درجہ کی مخلوق قراردی تھی۔ لڑکی کا ہو نا ہم چشموں میں ننگ وعار تصور کیا جاتا تھا۔ دختر کشی کی وحشیانہ رسم کے رواج پرتر س کھانے والا کوئی نہ تھا۔ ارض الہی کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا ۔جہاں اس ستم رسیدہ صنف نازک کے حقوق بے دردی سے پامال نہ ہوتے ہوں۔ جبرو استبداد اور ظلم وزیادتی کی یہ خونین کیفیت جب حد سے تجاوز کرگئیں۔ تو رب کائنات کا دریائے رحمت جوش میں آیا۔ اور دنیاکو امن وانصاف کا گہوارہ بنانے کیلئے اس کائنات کی سب سے معزز ومکرم شخصیت محمد الرسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا۔ جنہوں نے عورت کو ذلت وخواری کی عمیق گہرائیوں سے نکال کر عزت وشرف کے آسمان پر بیٹھایا ۔زندگی کے ہر شعبے اورہر موڑ پر اس سے تعظیم وتکریم کی بلندی پر پہنچایا۔ اور جنت کو ماں کے قدموں کے نیچے ہونے کا تصور دیا۔ بیٹی کے رشتے کی بنیاد پر دو بیٹیوں کی تعلیم وتربیت اور شادی سے خوش اسلوبی کے ساتھ فراغت کو جنت میں اپنی ہم نشینی کے درجے سے نوازا۔ شریک حیات کی نسبت سے عورت کی اہمیت اور وقعت کو اُجاگر کرتے ہوئے ۔دنیا کی تمام چیزوں میں عورت اور خوشبو کو پسند کرنے کا اعلان فرمایا ۔ ان نوازشات کا دائرہ صرف زبانی اعلانات تک محدود نہ رہا۔ بلکہ کردار اور عمل نمونے کے ذریعے عورت کے ساتھ ہونے والے ظلم و بربریت سے تار تار دامن کو محبت، پیار اور عزت واحترام کی پھولوں سے بھردئیے۔ اور صنف نازک کے گلشن کی ایسی ابیاری کی ۔کہ جس کی درخشان و تابانی سے تاریخ اسلام بلکہ تاریخ انسانیت کے اوراق جگمگاتے ہیں۔ دین محمدی کے اندر عزت و مقام کے تاج کے حصول کے بعد عورت نے بھی فانی دنیائے اسلام میں ایسے عظیم کرداروں سے تاریخ کو سجا دئیے ہیں اور وفاداری وقربانی وایثار کی وہ داستان چھوڑیں ۔جن پر تاریخ جتنا بھی فخر کرئے کم ہے۔
آج عورت کی ازادی اور حقوق کے ٹھیکہ داروں اور دعویداروں پر یہ حقیقت بھی عیان ہے۔ کہ دین محمدی قوم کی تعمیر و تربیت میں عورت کی اہمیت سے انکاری نہیں ۔۔۔۔اور اس ضمن میں اس صنف نازک کے لئے حصول علم کی ضرورت کوبھی تسلیم کرتا ہے۔ اور ماں کی گود کو بچے کی سب سے پہلی درس گاہ کے تصور کا خالق بھی اسلام ہے۔۔۔۔اور اس سے ایسی موثر درسگاہ تصور کرتا ہے۔ کہ یہاں کا سیکھا ہوا سبق ذہین وقلت پر پتھر کی لکیر کے مماثل ہوتا ہے۔ اور اس کا اثر پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے۔ ۔۔ایک صحابی حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ میں جو قوت وخطابت ،لسانی طاقت اور قو ت گویائی ہے وہ کسی دوسرے کی وجود میں نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے فرمایاتمہیں معلوم بھی ہے کہ میں نے کس خاتون کا دودھ پیا ہے۔ یہ اس دودھ کی تاثیر ہے کہ قدرت نے مجھے مذکورہ کمالات سے نوازا ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں مذہب اسلام جہاں عورت کو بنیادی حقوق سے نوازتاہے ۔وہاں دین فطرت ہونے کی بنیاد پر طرززندگی کے اسلوب کی بھی تعلیم سے نوازا ہے۔ اس دین میں زندگی کے حقوق کے دامن کی وسعت کے ساتھ ساتھ شتر بے مہار کی طرح من چاہے زندگی کے تصور کی گنجائش نہیں۔ اسلام انسانیت کے آن گنت کے تقاضوں سے انسان کو باخبر رکھتا ہے۔ اور شرم وحیا کی تعلیم کے ذریعے انسانیت کی تحقیر وتذلیل کا سد باب کرتا ہے۔ ان ارفع مقاصد کے حصول کے لئے مذہب اسلام عورت کے لئے پردے کے اہتمام کی ہدایت کرتے ہوئے۔ وقران بی بیو تکن (گھروں کے اندر ٹکنے کا حکم دیتا ہے۔) کیونکہ عورت ایک درشہوار ہے۔ اور ہر قیمتی چیز پنہان رکھ کر حفاظت کا متقاضی ہوتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ پرودگار عالم نے عورت کے وجود کو محبت کی بارود سے بھر دیا ہے۔ اور مصنوعی و بناؤٹی جذبات اور نامحرم کی نظروں کی چنگاری سے یہ بارود کا ڈھیر شعلوں میں بدل سکتا ہے۔ اور پوری معاشرتی زندگی کی تباہی پر فتح ہوسکتی ہے۔ ان عوامل کے برعکس زندگی کا جو رنگ یورپ میں نظر آتا ہے۔ اس سے عورت اپنی مختلف قابل احترام حیثیتوں کو کھو کر ایک دل بہلانے والی چیز کے رنگ مین ڈھل چکی ہے۔ اور اولاد کے احترام ،شوہر کی نگہبانی اور رشتے ناتوں کی لذت سے محروم عریانیت اور بے پردگی کے حق کی جال میں تڑپان ہے اور زندگی کی حقیقی رنگ اور لذتوں کو ترستی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

موجودہ مہنگائی کے تناسب سے پنشن میں 100فیصداضافہ کیاجائے۔آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن صوبائی صدر فدامحمددرانی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن کے صوبائی صدرخیبرپختونخوا فدامحمددرانی نے چترال میں منعقد ایک ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔