fbpx

Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

درحقیقت…..(استادسب کیلئے ہوتا ہے)

…….تحریر: ڈاکٹرمحمد حکیم……..

میں نے چترال شہر کے سایورج پبلک سکول (لینگ لینڈ)کے علاوہ باقی 2002 تک تمام پبلک سکولوں میں پڑھایا ہے۔میں بحیثیت ایک سابقہ مدرس آپکو وہ واقعات پہنچانا اپنا فرائض منصبی سمجھتا ہوں۔ جنکی بنا پر ہمارے معاشرے کے چھوٹے بچوں سےلیکر کالج کےجوانوں تک کے ناکامی اور کامیابی کےاسباب منحصرہیں۔سب سے پہلے میرے درس وتدریس کا آغاز چترال پبلک سکول چترال کے طلباء کو ریاضی پڑھانے سے ہوا۔ اس وقت میں اور حضرت استاد محترم مرحوم ادینہ خان صاحب بابائے ریاضی چترال ایک ساتھ ریاضی پڑھاتے تھے۔مڈل کلاس تک میں پڑھاتا اور میٹرک کلاسس کو وہ پڑھاتےتھے۔چونکہ فکری اختلاف کی وجہ سے میں نےاس ادارے سےاستعفٰی دے دیا۔اسی طرح جب میں نے اس ادارے کو چھوڑا تو اسی ادارے کے بہت سے طلباء میرے گھر ٹیوشن پڑھنے آنے لگے۔ جو آجکل بہت ہی اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں۔اور قوم کو بہترین خدمات فراھم کررہےہیں۔
مجھے اس بات پر بے حد فخر ہے کہ میں ابنے شا گردوں کا استاد رہا اور وہ میرے استاد رہے۔ شاید یہ صفت اللّٰہ پاک نے صرف مجھے عطاء فرمایا۔اگر کوئی دائمی طالب علم ہے اور استاد وہ میں ہی ہوں۔ کیونکہ سیکھنا سکھانا میرامحبوب مشغلہ ہے۔
محترم قراء صاحبان !
اسی طرح میرے پاس آرندو سے بریپ تک طلباء پڑنے آئے اور آجکل کامیابیوں سے مزین زندگی گزار رہے ہیں۔اللّٰہ پاک ان سب کو اس دنیاء اور اُس دنیا میں دائمی کامیابیوں سے سرفراز فرمائیں۔
اب دو واقعات میں ایک سکول کےزمانے کا آپ حضرات کو گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ جن کی بناء پر آپ وہ وجوہات سمجھ جاؤ گے۔کہ کیا انسان ازل سے جاہل پیدا ہوتا ہے یا اس کو یہ دنیاء،مدرسہ،محلہ،ماحول جاہل یا نا خواندہ بنادیتے ہیں۔ اس مضمون کا کلیتًا و نتیجتًا فیصلہ آپ پر جھوڑتا ہوں۔ کہ ہماری کوتاہیوں کے سبب کتنے ماؤں کےلاڈلے بڑہے ہوکر ملک کے عظیم قومی اثاثہ بننے کی بجائے دہشت گرد اور وحشتناک بن جاتے ہیں۔ اس سب کا بوجھ اس ملک پر بھاری ہوجاتا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک دن سب سے بڑے اسلامی ادارےسے آنے والے اور پی ٹی وی میں پروگرام کرکے قوم پاکستان کو علمی تکنیلی کدوررتون کو درست کرنے اور اسلامی انقلاب بھرپا کرنے کے دعویدار میرےچوتھی جماعت کے کلاس میں تشریف لاتے ہیں۔میرے طلباء مؤدبانہ انداز میں میرے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے احتراماً کھڑے ہوتے ہیں۔ میں بھت خوش ہوتا ہوں۔کیونکہ ایک منصف وقت سکول میں داخل ہوا ہے۔یہ یقینًا میرے کوتاہیون اور میرے اچھائیون کو جھانچھیں گے۔ کمی کا سزا دیں گے۔اجھائی کا جزاء دیں گے۔ اور غریب اور کمزور حال طلباء کا حال احوال پوچھیں گے۔ مگر دو سوال ریاضی میں پوچھنے کے بعد جب میرے شاگردون نے بہادری سے جواب دیا۔ مجھے بھت خوشی ہوئی۔ لیکن بعد میں مجھے بہت ہی نادم ہونا اس وقت پڑا۔جب اس منصف نے سوائے ایک طالبہ کے علاوہ کسی اور کی طرف رحم کے منصفانہ آنکھون سے اس لئے نہیں دیکھا کہ اُن میں کسی کا باپ کوئی تعلیم یافتہ تھا اورنہ بڑا عہدہ دار۔
حضرت منصف نے مجھ سے پوچھا بیٹا آپ اس بچی کو جانتے ہوں یہ کس کی بیٹی ہے؟میں نے کہا بہت اچھا جانتا ہوں۔ تو اس نے کہا اس کا خاص خیال رکھنا یہ فلانے کی بیٹی ہے۔ قسم اس خدا کی جس نے مجھے زندگی عطاء کی ہے کہ میں نے جواب دیا۔ جناب والا آپ کیوں نہیں کہتے سب کا خیال رکھو۔کیا اس کلاس میں صرف یہی ایک ہی بیٹی ہے۔اور کوئی پیارا بیٹا اور پیاری بیٹی آپ کو نظر نہیں آئی۔ آپ سکول کے معیار ناپنے آئے ہیں۔یا اپنے دوست یا سیاسی ہمنوا کے بیٹی کے حال احوال پوچھنے آئے تھے؟
تو اس نے کچھ نہیں کہا۔وہ سمجھ گئے حق والے کبھی نا حق کی حمایت نہیں کرتے۔ آپ سمجھ گئے کہ ایک ادارہ جس کو ابھی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج بننا چا ہئے تھا۔ کچھ ایسے لوگون کے ہاتھوں یرغمال ہوا۔کہ وہ ،وہ کچھ نہ بن پایا۔جس کی قوم کو ضرورت تھی۔ اگر دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ روح ایمانی ظاقت سے خالی ہوں کھوکلے نعرے صرف تکھا دیتے ہیں۔انقلاب نہیں دلاتے۔
میں ایک اور واقعہ بھی آپ کوسنا ہی دیتا ہوں تاکہ ہمیں معلوم ہوں۔ کہ کیا انسان ازلی نا اہل ہوتے ہیں یا بنا دئیے جا تے ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ پھولون کے ھنستےمسکراتےگلشن میں ،میں نے دو پھول مرجھاتے ہوئے پایا۔تو ان کی سبب جاننے کی کوشش کی۔ وہ اسطرح کے میں ایک کلاس میں پڑھاتے ہوئے چند دنوں میں دو پیارے طلباء کو دیکھا۔وہ ایسے تھے جیسے ان پر امریکی یا روسی طیارون نے بمباری کی ہو۔اور ان کے والدین اس میں شہید ہو چکے ہوں۔ ہمیشہ غمگین اور پریشان پھر ہراستاد کے نظر میں پست۔ اصل میں وہ غریب تھے۔اور انکے والدین نے سکول کے دروازے دیکھے تک نہیں تھے۔ پھر گھریلورہنمائی تھی اور نہ اساتذہ کی محبت شامل حال تھی۔ ان دو پیارے معصوموں کی رات تو رات تھی۔لیکن دن بھی ان کے لئے ویسی ہی تاریک تھی۔اور کمال یہ تھا کہ ان کو ایک ساتھ بٹھایا جاتا تھا۔
اچانک معمول کے برعکس میں نے فیصلہ کیا۔ک میں بھی ایک استاد ہوں۔ قیامت کے دن اللّٰہ پاک ضروران دو معصوم پھولوں کےبارے میں مجھ سےپوچھیں گے۔تو میں کیاجواب دون گا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی توجہ ان دو پیارے معصوموں پر مرکوز کروں۔تاکہ میرے ان سے استاد کے رشتے کا حق ادا ہوسکے۔ بحر کیف سب سے پہلےمیں نےفیصلہ کیا کہ ان کو حوصلہ دے دوں۔ان کوترغیب دے دوں کہ وہ کچھ بات کرنے کی عادی ہوجائیں۔ تاکہ استاد سے اپنے حق مانگنے کے قابل ہوجائے۔ میں نے کلیہ سوچا۔کہ سب سے پہلے وہ خوش ہوجائیں۔ جسطرح اس کلاس میں دوسرے طلباء خوش ہیں۔مسکراتے ہیں۔میں نے کہا کل سب لطیفہ یادکرکے آجاؤگے۔چونکہ میرا حدف صرف یہی دو بچے تھےباقی تودوسرے اساتذہ کے لاڈلے اور تعلیم یافتہ والدین کے بچے تو تھے۔ اس لئے جونہی میں نے کہا کہ کل سب کو لطیفہ یاد کرکے آناہے۔تو صبح سب نے آکر میرےپوچھنے پرہاتھ اٹھایا کہ سر ہم لطیفہ لائےہیں۔ مگربدقسمتی سے وہ دوپھر بھی غمگین اورنہ خوش ۔میں نےکہا جب تک یہ دو بندے لطیفہ یاد کرکے نہ آئیں۔ توپھر میں سب کوسزا دونگا۔انکی بھی مدد کریں۔تاکہ کل یہ بھی لطیفہ یادکرکے آئیں۔ جب صبح میں کلاس میں داخل ہوا کہ کیا دیکھتا ہوں۔کہ ایک باغ میں مرجھائےہوئےدو پھولون کوسراب ہوتےہوئے دیکھا۔کہ وہ دونون کھل رہےتھے۔زندگی میں پہلی باران کو دیکھا۔اور میں نے کہا آج ان میں سے ایک آگےآئے گا اور لطیفہ سنائے گا۔ تو ایک ساتھی آگے آیا اور ابھی لطیفہ شروع کیا ہی نہیں تھا۔ کہ زور زور سے ہنسنے لگا۔۔پھر کہا ً کہ ایک لڑکا ً پھر ہنسنے لگا۔حتٰی کہ کئی بار مسکرانے کے بعد اس نے کہا۔ سر ایک لڑکا ایک درخت میں سیب چرانےکے واسطے چھڑ گیا تھا۔ نیچے سے آواز آئی اچھا آپ سیب چرا رھے ہیں۔میں جاتا ہوں ذرا آپ کے والد کو بتا دیتا ہوں۔ تو اوپر سے آواز آئی کہ میرے والد کو کیا بتاتے ہوں۔وہ تو خود دوسری درخت پر چھڑا ہوا ہے۔۔۔ھاھا ھا ھا ھا ھا ھا۔ اتنے میں سارا کلاس مسکرانےلگا۔اور وہ طلباء جنہوں نے زندگی میں مسکراہٹ کے لفظ کو بھول چکے تھے مسکراکر ہمیں خوشی کے آنسو بہانےکا موقع فراہم کرکے دل کو تسکین بخشیں۔
تو ہمیں چاہئے کہ کہ ہم فرد کا نہیں قوم کےبچون کا استاد بنیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔