fbpx

Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

پی ٹی آئی ضلعی صدرکاجدوجہدکرنے والوں کوسیاسی یتیم کہناعوامی مسائل سے ناواقفیت اورافسوس ناک ہے.امیر اللہ

چترال (چترال ایکسپریس)پاکستان پیپلزپارٹی اپرچترال نے بجلی کی شدیدبحران پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اُسے موجودہ حکومت کی ناکامی قراردیاہے۔پاکستان پیپلزپارٹی اپرچترال کے صدرامیراللہ نے میڈیاکوجاری پریس ریلیزمیں بجلی کے حصول کے لئے اپرچترال کی عوامی دھرنااوراحتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مسئلہ کے حل تک پرآمن احتجاج جاری رکھناضروری قراردیاہے۔انہوں نے کہاکہ ریشن پاورہاوس کے بنے کے بعد بھی لوڈشیڈنگ سے نجات ممکن نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ریشن پاروہاوس بھی 4.2میگاواٹ ہے اورموجودہ واپڈاسے سپلائی بھی چارمیگاواٹ جاری ہے جوکہ ناکافی ہے ۔اورریشن بجلی گھرکے بننے کے بعدواپڈااپناسپلائی بندکرئے گا۔کیونکہ ابھی لوڈبڑھ کر6.5میگاواٹ تک پہنچ چکاہے۔جبکہ سپلائی وہی چارمیگاواٹ ہوگی۔لہذاکوشش جاری رکھناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ اپرچترال کے نصف آبادی کوواپڈابجلی دے جس کیلئے واپڈاکوالگ ٹرانسمشن لائیں بجھانی پڑے گی۔ جوکہ مشکل ہے جس کے لئےعوامی پریشرکی ضرورت ہے تویہ سارے مسائل ہمارے سامنے ہیں حکومتی سطح پرحل کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کے ضلعی صدرجدوجہدکرنے والوں کوسیاسی یتیم کہناعوامی مسائل سے ناواقفیت اورافسوس ناک ہے ہم اُ سوقت بھی کسی کوسیاسی یتیم نہیں کہاتھاجب پی ٹی آئی پورے ملک سے صرف ایک سیٹ پرکامیاب ہواتھا۔واضح رہے کہ جتنابجلی آج کل چترال میں دسیتاب ہے یہ بھی سابقہ حکومتوں کابنایاہواہے اورپی ٹی آئی کے حصے میں مینجمنٹ/تقسیم کامرحلہ آیاہے جوکہ اُس سے نہیں ہورہااورپیڈوکی طرف سے صوبائی حکومت کوبریفنگ کے مطابق یکم مارچ کوریشن پاورہاوس میں سول ورک شروع کرناچاہیے تھامگراب تک ورک آڈرنہیں ہواہے۔انہوں نے کہاکہ ریشن پاورہاوس میں بھی کام شروع کراناچاہیے ہمیں اُمیدہے پی ٹی آئی چترال میں سیاسی بیان بازی سے باہرآکرواپڈااورپیڈوسے مذاکرات کرکے مستقبل میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گی اوردسیتاب بجلی کامنصفانہ تقسیم کویقینی بنائیں ،بصورت دیگراپرچترال کےعوام پرامن احتجاج جاری رکھنے پرمجبورہونگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔