fbpx

جامعہ چترال ڈریسنگ کوڈ کے حوالے سے چھپنے والی من گھڑت خبر کی وضاحت

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)جامعہ چترال کی انتظامیہ چترال کے مختلف آن لائن اخبارات میں چھپنے والی ڈریسنگ کوڈ کے حوالے سے خبر کی تردید کرتی ہے۔پبلک ریلشن آفیسر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق جامعہ چترال ملک کی دیگر جامعات کی طرح اپنی ثقافتی وتہذیبی روایات پر یقین رکھتی ہے۔اور جامعہ میں اس سلسلے میں طلباو طالبات اس کی پاسداری کررہے ہیں۔جامعہ چترال کے حوالے سے من گھڑت خبروں کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے۔جامعہ اس سلسلے میں تادیبی قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔جامعہ چترال میں تمام سیاسی تنظیموں پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق پابندی ہے۔جامعہ چترال تمام تعلیمی وانتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے باقاعدہ نوٹفیکشن جاری کرتی ہے۔اس لیے جب تک باقاعدہ نوٹیفیکشن نہ ہو،جامعہ چترال کی طرف سے کوئی خبر شائع نہ کی جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق