دادبیداد …مسجد النّور پر حملہ  – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | دادبیداد …مسجد النّور پر حملہ 

دادبیداد …مسجد النّور پر حملہ 

امّت مُسلمہ مسجد النّور پر حملے کے صد مے سے دو چار ہے پاکستان کے مسلمان بھی اس صد مے کی کیفیت سے گذر رہے ہیں حملے میں دو مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور 49نمازیوں کو شہید کیا گیا دونوں مساجد نیو زی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع ہیں دوسری مسجد بھی النّور کے قریب ہی واقع ہے نیوزی لینڈ یورپ کا چھوٹا ملک ہے اس کی آبادی 50لاکھ ہے مسلمانوں کی آبادی 20ہزار سے کچھ اوپر بتائی جاتی ہے حملے میں 10پاکستانی نمازی بھی شہید ہوئے 6دنوں کے اندر اس اندوہناک واقعے کے مختلف پہلووں کو سامنے لایا گیا ہے اس کو کرکٹ کے حوالے سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ، حملہ آور کو جنونی مریض بھی کہا گیا اس کو سازش کا شا خسانہ قرار دیا گیا اب تک ایک پہلو نظروں سے اوجھل ہے اس پر غو ر نہیں کیا گیا یہ انتقام کا پہلو ہے اس پر ضرور غور ہونا چاہئیے قرآن پاک کے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 2اور آیت نمبر 8میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ سچ بات کہو ، سچی گواہی دو، چا ہے دشمن کے حق میں ہی کیو ں نہ ہو، مسجد النّور پر حملے کا ذکر ہوتا ہے تو ہم چرچوں پر ہونے والے حملوں کو بھو ل جاتے ہیں ہم یہ بھی یاد نہیں رکھتے کہ صلیبی جنگیں ابھی ختم نہیں ہوئیں اب تک ایک بات پر تمام تفتیش کاروں اور تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے بات یہ ہے کہ مسجد النّور پر حملے کا واقعہ ایک بڑے گروہ کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا اس منصوبے پر دو سالوں سے کا م ہورہا تھا جمعہ 15مارچ کا دن اور نماز جمعہ کا وقت بھی طے ہوا تھا یہ کسی جنونی شخص کا انفرادی فعل نہیں تھا اس کو کسی ایک شخص کی جنونیت کا نام نہیں دیا جا سکتا دوسری بات جس پر سب کا اتفاق ہونا چاہیئے وہ یہ ہے کہ منصوبہ بنانے والوں نے چرچوں پر ہونے والے حملوں کا انتقام لینے کے لئے یہ منصوبہ تشکیل دیا ایسے مزید حملے بھی ہونگے حملے کے دوسرے دن یورپ اور امریکہ سے لیکر جاپان اور انڈونیشیا ء تک سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں 22ستمبر2013کی ایک ویڈیو تقسیم کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ پشاور میں اتوار کے روز آل سینٹس چرچ پر ساڑھے پانج سال پہلے کس طرح حملہ ہواتھا کس طرح 81عیسائی مارے گئے تھے؟کس طرح 127افراد زخمی ہوئے تھے ؟ ساتھ ساتھ چرچوں پر ہونے والے دیگر حملوں کے ویڈیو زبھی بڑے پیمانے پر تقسیم کئے گئے نیز مئی 2001میں افغا نستان میں پکڑے گئے 9عیسائیوں کا واقعہ بھی تازہ کر دیا گیا ان میں 3ڈاکٹر اور 6نرس تھے جو ایک ہسپتال میں کام کرتے تھے ان کو جس جرم میں پکڑا گیا تھا وہ جرم یہ تھا کہ یہ لوگ عیسائیوں کی مذہبی کتا ب انجیل اپنے ساتھ لیکر آئے تھے انجیل کے نسخے بر آمد کر کے اُ ن سے اقرار بھی کروایا گیا تھا ان کو سزائے موت سنائی گئی تھی مگر اکتوبر 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے امارت اسلامی کی حکومت کو ختم کردیا اور ہسپتال سے پکڑے گئے عیسائیوں کو رہا کردیا یہ کوئی لمبی چوڑی تاریخ نہیں عہدِ حاضر کا واقعہ ہے ا ور سب کی نظروں کے سامنے ہوا ہے اُس وقت ہم بھو ل گئے تھے کہ مسلمان بھی قرآن پاک کے نسخے لیکریورپ اورامریکہ جاتے ہیں آج مجھے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب ’ ’دواسلام ‘‘یاد آرہی ہے آج ہمارے سامنے بھی اور عیسائیوں کے سامنے بھی اسلام کے دو چہرے رکھے گئے ہیں ایک چہرہ وہ ہے جس کا ذکرمولانا تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل ، ڈاکٹر طاہر القادری ،ڈاکٹر ذاکر نائیک ،شیخ مکی حجازی اور مفتی مسعود انور کی طرح لاکھوں علمائے دین اپنی تقریروں میں کرتے ہیں حرمین شریفین کے خطیب اپنے خطبوں میں کرتے ہیں مسجد نمرہ کا خطیب یو م عرفہ کے خطبے میں کرتا ہے یہ سب کہتے ہیں کہ اسلام امن ، سلامتی ، تحمل ،آشتی اور محبت سکھاتا ہے اسلام کا دوسرا چہرہ وہ ہے جو چرچوں پر حملے کر نے والے مسلمان اپنے عمل سے د کھاتے ہیں اور اس کے ردّعمل سے بے خبر رہتے ہیں مارچ 2019ء میں ہمیں ایک خطر ناک مغالطے کو ردکرنا چاہئیے مغالطہ یہ ہے کہ دنیا ترقی کر رہی ہے آگے جارہی ہے اس کے مقابلے میں حقیقت یہ ہے کہ دنیا جہالت کے دور میں داخل ہوچکی ہے اور پیچھے جارہی ہے ساتوں صدی عیسوی میں جب اسلام کا ظہو ر ہو ا اُس وقت بادشاہ کا مقابلہ بادشاہ سے ہوتا تھا سپہ سالار کا مقابلہ سپہ سالار سے ہوتا تھا پہلواں کا مقابلہ پہلوان سے ہوتا تھا کسی بے گناہ کو نہیں مارا جاتا تھا آج کل صدر ، سپہ سا لار ، لڑاکا اورجنگجو آرام سے بیٹھا ہوتا ہے انتقام لینے والا کسی چرچ ، مسجد ، ، ہسپتال ، سکول یا یونیورسٹی پر حملہ کرکے بے گناہ لوگو ں کا خون بہاتا ہے ہمیں کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہئیے کہ دُنیا علم اور ترقی کی طرف نہیں جارہی ، روز بروز جہالت اوربربادی کی طرف جارہی ہے اتوار22ستمبر 2013کو پشاور کے چرچ پر حملہ بھی ایسا ہی تھا، جمعہ 15مارچ2019کو نیوزی لینڈ کی مسجد النّورپر حملہ بھی ایسا ہی ہے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

موجودہ مہنگائی کے تناسب سے پنشن میں 100فیصداضافہ کیاجائے۔آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن صوبائی صدر فدامحمددرانی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن کے صوبائی صدرخیبرپختونخوا فدامحمددرانی نے چترال میں منعقد ایک ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔