کفن ,قبر,اورحکمران “ – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | کفن ,قبر,اورحکمران “

کفن ,قبر,اورحکمران “

……….تحریر:محمد کوثرچغتائی ایڈوکیٹ ….

دل پھٹا جارہا ہے جگر کو پیٹتے پیٹتے تھک گیا ہوں سوچ سوچ کے سر چکرانے لگتا ہے کبھی کبھار خود پر ہنسی بھی آتی ہے کہ گویا سارے جہان کا درد میرے جگر میں ہے یا یہ سوچ کر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے کہ کیا “چیلینگی” اور کیا چیلینگی کا شوربہ میں کجا اور اہل دارالحکومت کجا مگر صاحبِ شکوہ جواب شکوہ کی طرح میں بھی منہ پھٹ ہوں اس لیے اللہ کی مہربانی اور بنی اسرایل کی وساطت و مدد سے بذریعہ فیس بک دل کی بھڑاس نکالتا رہتا ہوں ۔یہ الگ بات ہے کبھی کبھار “کروٸی لیگینی شہ کپالتو بان “کا عملی طورپرملاحظہ بھی کرچکا ہوں مگر دل نادان پھر بھی بضد ہے کہ محبت کا بیان ھوجا خدا کا ترجمان ھوجا اس لیے چھوٹی منہ بڑی بات کہنے جارھا ھوں مگر معذرت کے ساتھ۔ یہ ملک ھم سب کا ھے اگر ھمارے حکمران نیک ھوگیے تو ھم خوشحال ھونگے اگر برے ھویے تو بدحالی بھی ھم ہی پہ نازل ھوتا ھے۔امن کا مزہ بھی ھم لوٹتے ہیں اور جنگ ھوٸی تو بموں اور مزایلوں کی زد میں بھی ھم آتے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ قوم اپنے سیکیورٹی فورسز کے پالیسیوں پر قناعت کرے یہ بھی ظلم ہے کیونکہ جس طرح سرحد پہ ھمارا سپاھی شہید ھوتا ہے اس سے کہیں زیادہ ھمارا یعنی قوم کا جانی مالی نقصانات ھوتے ہیں اس لیے جنگی پالیسیان قومی منشإ سے مرتب ھونی چاھٸے ۔۔نظام انصاف قومی تحفظ کا سب سے بڑا ضامن ھے اس لیے عدلیہ کا ڈھانچہ معاشرے میں انصاف قایم کرنا ھے اور اس ادارے کو اسی انداز سے ڈھالنا ھوگا۔ لہذا جونسے بھی حضرات ھمارے حکمران ہیں ان سے درخواست ھے کہ خدا را روزمحشر کے حساب کتاب کو مدنظر رکھتے ہویے اس ملک پر اس قوم پر ,ھمارے بچوں پر ھمارے مال و آبرو پر رحم کریں ۔ مثبت سوچ اعلی کردار کے ساتھ اس قوم کی قیادت کریں۔ ۔ھمارے حکمرانوں کو جان لینا چاھٸے کہ کفن کے جیب نہیں ہوتے۔۔۔ہر بااختیار وزیراعظم ھو یا صدر وزیر یا جنرل یا آٸی جی یا چیرمیں ڈی سی ھو یا تحصیلدار اے سی ھو یا وکیل تاجر ھو یا آجر مستری ھو یا مزدور پٹواری ھو یا تھانیدار سب نےاپنا حساب اللہ کے حضور دینا ہے۔کیونکہ آپ سب بااختیار ہو۔وقت کے حاکم ھو اور اپنے عمال کے ذمہ دار ھو۔ یاد کریں وہ وقت جب سب مال اولاد دوست رشتہ دار ساتھ دینا چھوڑ دینگے اور صرف اعمال کے انبار ہونگے۔ کہتے ہیں کہ جب خلیفہ عبدالملک کو قبر میں رکھا جارھا تھا تو بدن میں کپکپی پیدا ھوٸی تو اس کے بیٹے نے کہا میرا باپ زندہ ہے تو خلیفہ عبدالعزیز ؓ نے کہا نہیں بھتیجے ترا باپ زندہ نہ ہے بلکہ ترے باپ کا عذاب جلدی شروع ہوگیا ہے پھر حکم دیا کہ جنازے کو جلد از جلد قبر میں اتارا جاٸے۔۔۔۔ ھمارے اصل حکمرانوں ۔۔۔۔۔ ! تم جو کوٸی بھی ہو چاھے سیاستدان ھو یا جرنیل جج ہو یا چیف سیکٹری وزیر ھو کہ مشیر چیرمیں ھو یا ڈی۔جی ڈی سی ھو یا تھانیدار ایک نہ ایک دن قبر میں اتارے جاوگے اب یہ تمھارے اعمال پر منحصر ہے کہ تمھین لحد میں رکھنے سے پہلے تم پر عذاب مسلط ھو یا بعد میں۔۔۔بیشک قبر کی تاریکی بہت ہی خوفناک ھوگی۔۔۔ روایت کا مفہوم ہے کہ حضرت عمر ؓ راستے میں بیٹھ کے رورہے تھے اور ابوبکر صدیقؓ کے بارے فرمارہے تھے کہ یا اللہ ابوبکر پر رحم فرما مجھے آزمایش میں ڈال کر چلے گیے ۔ ایک صحابی نے پوچھا یاامیرالمومنیں کیا ھوا۔۔تو فرمایا کہ روزمحشر میں حساب کتاب سے پہلے ھر حکمران اور ذمہ داروں کے لیے جہنم کے اوپر تختہ ڈالا جاے گا اور یکے بعد دیگر اس تختے پر کھڑا کیا جایے گا جس نے ذرا برابر بھی ناانصافی کی ھو یا خیانت کیا ھو وہ تختہ ایک مہیب آواز کے ساتھ کھل جایے گا اور وہ شخص جہنم کے گھاٹی میں گر جاٸے گا ۔ھاۓ اس وقت عمر کا کیا حال ھوگا۔۔۔ یہ فرماکے پھر سے زاروقطار رونے لگے۔۔۔۔ اب ھمارے ارباب اقتدار اپنے گریبان میں خود ھی جھانکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

موجودہ مہنگائی کے تناسب سے پنشن میں 100فیصداضافہ کیاجائے۔آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن صوبائی صدر فدامحمددرانی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن کے صوبائی صدرخیبرپختونخوا فدامحمددرانی نے چترال میں منعقد ایک ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔