گردگان برگمبد۔۔۔۔بحالی تجارت و سیاحت – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | گردگان برگمبد۔۔۔۔بحالی تجارت و سیاحت

گردگان برگمبد۔۔۔۔بحالی تجارت و سیاحت

……تحریر: عنایت اللہ اسیر……

حسب ثابق چترال سے تجارت و سیاحت کی بحالی پاکستان کے کرنسی کو پاکستان سے باھر جانے سے روکنے کا سبب ھوگا اور چترال کی ضلعی حکومت ,تحصیل میونسپل کمیٹی ,اور تمام ولیج کونسلز قانونی در امد اور بر امد پر جایز ٹیکسز لگا کر اپنے اپنے حلقے کے چھوٹے بڑے عوامی ضروریات ,تعمیری اسکیمین,اور چھوٹے بڑے منصوبے اپنے اپنے صواب دید اور بجٹ کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے کام کر سکینگے
افات سماوی اور حادثات کے رونما ھونے پر فوری مدد مقامی حکومتین خود فوری طور پر کرسکینگے
ضلعی اور مقامی حکومتین اپنے اپنے روزمرہ کے اخراجات ,دفاتر کے کرایے,ٹیلیفون بلز,بجلی کے بلز,روزمرہ کے اسٹیشنیریز,فوٹو اسٹیٹ پرنٹرز کے ریم اور پیٹی کیش روزمرہ کے مہمانون کے چاے اور میٹینگز اور اجلاسون کے چاے پانی کے اخراجات ان جایز محاصل سے حاصل شدہ رقم سے بے منت کرسکین گے دفاتر کی مستقل مرمت اور گاڑیون کے فیولز مرمت اور خریداری کے لیے یہ سالانہ چنگی کا امدن کافی ھوگا اور یہ کوی نی بات نہیں یہ ھی کجھ سابقہ دور میں ھوتا رہا ھے
چترال کے 70% لنک روڈز,واٹر سپلای اسکیمیں,پل اور حفاظتی بند اسی چنگی کے امدن سے تعمیر شدہ ھیں اور ان سڑکون کی مرمت کے لیے مستقل کولیز بھرتی کرکے رکھا جاتا تھا ان کی تنخواہ بھی ڈسٹرک کونسل کے امدن سے ھوتا تھا اب تو ممبران کو بھی تنخواہ دار بناکر امدن بند جرکے عجیب بے تکا کام جرکے پاکستان پر مالی بوجھ عوامی نمایندگان کی صورت میں ڈھال دی گی ھے یعنی اب یہ نمایندگی کم نوکری اور روزگار ذیادہ ھوگیا ھے
جب دربند یارخون ,گبور,بگوشٹ,بمبوریت,اور اورچون پیتہ سون اور اراندو سے جایز تجارت 1998 تک جاری تھی تو ضلعی حکومت بھی اپنے اخراجات خود پیدا کرتا تھا اور بازار مین چھوٹا گوشت تین سو روہیہ,دنبھے کا گوشت تین سو پچاس روہیہ اور یاک خش گاو اور گاے بھینس کا گوشت دو سو روہیہ بکتا تھا اور مستوج,بونی,کوٹکوہ گرمچشمہ ,ایون دروش اور ارندو کے بازار اتنے گرم تھے کہ کوی اندازہ نہین لگایا جاسکتا
اب بھی اگر قدرتی ٹرک ایبل جیب ایبل اور گھوڑا خچر اور گدھے پر تجارت کے جایز راستے سے کھول دیے جاییں تو چترال بازار کے کروڑون ڈوبے ھوے مال واپس وصول ھوسکتے ھیں اور قدیم زیر استعمال تجارتی روستون کو بہترین حفاظتی انتظامات کے ساتھ جایز تجارت اور سیاحت اور رشتہ دارون کے مل ملاب کے لیے اگر کھول دیے جاین تو چور دروازون کو سمبدر سے پامیر تک کانٹا تار لگانے کی مخالفت کوی نہیں کریگا بلکہ بھر پور تعاون کرینگے
یہ کیسے ممکن ھے کہ ارندو سے ایک عورت جس کا نصف خاندان برکوٹ یاڈوکا لام میں رھتے ھیں جہان اواز سنای دیتی ھے اور ہیدل پانچ سے دس مبٹ کا فاصلہ ھے اس کے کیے تمام جایز ناجایز ذمینی راست بند کرکے پشاور جاکر ویزا لیکر واپس درہ خیبر سے جلال اباد اور ہھر برکوٹ اور ڈوکہ لام اکر اپنی بیمار مان سے ملاقات کرکے واپس درہ خیبر سے پشاور دیر چتراک میکھنی اور ارندو کے بدی کے ساتھ اپنے گھر ایے
اخر جب ہنجاب میں واگہ بارڈر جرتار پور باڈر ھندوستان کے اور پاجستان کے رشتے دارون اور تجارتی سامان اور سیاحت کے کیے کھل سکتے ھیں تو اراندو اور ڈوکا لام واکون کے اہس ملنے کے انتظامات جیون نا ممکن ھیں
کانٹا تار کگانا دونون ممالک جے بیترین مفاد ھے مگر جایز تجارت سیاحت اور رشتہ دارون کے اپس مین ملنے ملانے کا بیترین بندوبست کرنے کے بعد
دونوں اسلامی ممالک کے مفاد میں بہتر ھوگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

موجودہ مہنگائی کے تناسب سے پنشن میں 100فیصداضافہ کیاجائے۔آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن صوبائی صدر فدامحمددرانی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)آل پاکستان پنشنرزایسوسی ایشن کے صوبائی صدرخیبرپختونخوا فدامحمددرانی نے چترال میں منعقد ایک ...


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔