fbpx

تنقید برائے اصلاح

…….. تحریر۔ ناصر علی شاہ

ایک امریکی ادارے کے سروے کے مطابق امریکہ کے عوام کا دوسرے شعبے کے لوگوں کی نسبت نرسز پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں. 86 فیصد لوگوں کے مطابق نرسز قابل اعتبار, قابل بھروسہ اوراپنے پیشے کیساتھ مخلص ہوتے ہیں. مخلص ہونے کا مطلب مریضوں کی بہترین انداز میں تیماداری, دوائیوں کی صحیح جانج پڑتال کے بعد استعمال , ہمدردانہ رویہ, بہترین صلح کاری اور برداشت ہے. یہ تمام رولز ریگولیش کے مطابق موزوں سٹافنگ اور مسلسل تعلیم کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔ اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو 50 فیصد نرسزان خصوصیات سے عاری ہیں اور ان کی مختلف وجوہات ہیں. پاکستان میں نرسز کی کمی ہے جس کا برملا اقرار پہلی نرسنگ سمٹ میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹرعارف علوی صاحب بھی کر چکے ہیں۔ گورنمنٹ ہسپتالوں میں 25 سے 30 مریضوں کی زمہ داری ایک نرس کے اوپر ڈال دی جاتی ہے جوکہ مریضوں کے ساتھ زیادتی ہے جس کی وجہ سے مریض کی اسی طرح خیال رکھنا مشکل ہوجاتا ہے جس طرح رکھنا چاہئے. Over crowding کی وجہ سے نرس بھی ذہنی ازیت میں مبتلا ہوجاتے ہے اور دیکھ بال بھی متاثر ہوجاتا ہے. عالمی ادارہ صحت کے مطابق انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک مریض کے ساتھ ایک نرس جبکہ جنرل ڈیپارٹمنٹ میں 6 مریضوں کے ساتھ ایک نرسنگ سٹاف ہونی چاہیے. نرسز میں سے 40 فیصد اپنے شعبے سے مطمئن نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ ڈیوٹی میں ڈسٹرب رہتے ہیں. ان میں سے اکثریت اپنے تعلیم یافتہ عہدیداروں کے جاہلانہ رویہ کی وجہ سے پیشے سے بدزن ہوجاتے ہیں. نرسز اچھے عہدوں میں ترقی پانے کے بعد دوسرے نرسز کے لئے کچھ کرنے کے بجائے ادارے کے بڑوں کے ساتھ تعلقات بنا کر ان کے ہاتھوں ناچنا شروع کردیتے ہیں اور اپنے سٹاف کو ریلیف دینے کے بجائے بے جا تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں. اگر ان سے بات کی جائے تو اپنی اوقات بھول کر کہتے ہیں نرس آپریش تو نہیں کرتا انجکش لگانا ہوتا ہے. یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک غلط انجکش لگنے سے کسی کی زندگی ختم ہوسکتی ہے. علاوہ ازیں ہمارے اندر خدمت کا وہ جذبہ نہیں جس طرح ایک پروفیشنل کا ہونا چاہئے, ہمارے اندار ایمانداری کے ساتھ ساتھ برداشت کی صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے. ہزار دفعہ اخلاقیات کا سبق پڑھنے کے باوجود ہماری باتین انتہائی نامناسب اور دلبرداشتہ کرنے والی ہوتی ہیں . ایک دوسرے کو کچھ اچھا سیکھانے کے بجائے نفرت سیکھاتے ہیں. سینئرز اپنے جونیئرز کو کچھ سیکھانے کے بجائے بلاوجہ تنگ کرکے مصنوعی اثرروسخ پیدا کرنے کے حامی ہوتے ہیں. ہمارے اندر سیکھنے کی صلاحیت دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے جدید طریقہ علاج سے بے خبر رہتے ہیں جو ہمیں ڈاکٹرز کی محتاجی کی طرف دھکیل رہی ہے. اگر ہم آغاخان یونیورسٹی ہسپتال اور ٹبا ہارٹ ہسپتال کراچی کے نرسز کی بات کرے تو کسی حد تک ان میں قابلیت, مہارت موجود ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز ان کے محتاج ہوتے ہیں.جس کا بلاوسطہ فائدہ مریضوں کو پہنچتا ہے. ان کو نکھارنے میں ان کے این ای ایس کا بڑا کردار ہوتا ہے. ایسے قابل لوگ یہاں بھی موجود ہیں مگر ان کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوتا,افسوس پشاور میں ایسا رواج پیدا کرنے والا کوئی نرسنگ عہدیدار ابھی تک نہیں ہے. خوش قسمت لوگ نرسنگ شعبے سے منسلک ہوتے ہیں اس شعبے میں دنیاواخرت دونوں ہیں اللہ تبارک وتعالی کو راضی کرنے کا آسان نسخہ اس کے بندوں کی دل و جان سے خدمت ہے اور ایسی خدمت نرسنگ پروفیشن کے اندر موجود ہے. ہر کوئی خود سے سوال کرے کیا ہم لوگ ایمان داری سے اپنے فرائض کی ادائیگی کر رہے ہیں؟ کیا مریضوں کیساتھ میرا رویہ درست ہے؟ کیا میری علم اتنی ہے اگر خدانخواستہ کسی ڈاکٹر سے غلط نسخہ آنے کی صورت میں اس کی نشاندہی کر سکوں؟ آئیے آج سے مظلوم طبقے کی خدمت کے خاطر اپنے اندر وہ تمام خوبیاں پیدا کرے جو ایک بہترین پروفیشنل کے اندر موجود ہوتی ہیں اور نرسنگ شعبے کے چمکتے ستاروں سے بھی گزارش ہے کے وہ علم بانٹے, ہمارے لئے اسانیان پیدا کرے اور ہمیں بھی اپنے ساتھ آگے لیکر چلیں ڈیوٹی کے اندر لوگوں کو بھی تنگ کرنے کے بجائے فائدہ پہچانا شروع کریں تاکہ مریضوں کی خدمت بہترین انداز میں ہوسکیں.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق