fbpx
تازہ ترین

پشاور میں پہلی مرتبہ 10سال تک کی عمرکے16لاکھ بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے خیبر پختو نخوابھر میں22اپریل سے انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو رہا ہے

پشاور(چترال ایکسپریس)پشاور شہر میں پولیو وائرس کی سرکولیشن روکنے کے لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضلع پشاور میں اپریل مہم کے دوران پہلی مرتبہ دس سال تک کے 16 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلا ئے جائیں گے۔ اس بات کااعلان ڈپٹی کمشنر پشاور ڈاکٹر عمران شیخ نے ایمرجنسی رسپونس یونٹ میں منعقد ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔اس موقع پراے ڈی سی شاہد علی، ڈی ایچ او گل محمد، ا یمرجنسی رسپونس یونٹ کے کو آرڈینیٹرعنایت عطا ء ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر جہانزیب، ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹرامتیازعلی شاہ اوردیگرپارٹنر اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ڈاکٹر عمران شیخ نے مزید کہا کہ پولیو ایک قومی ایمرجنسی ہے اور ضلعی حکومت پارٹنر اداروں کی تکنیکی مد دسے پولیو کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔انھوں نے مزید بتایاکہ پولیو کے خاتمے کا عمومی طریقہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین پلانا ہے ۔تاہم ایسے گنجان آبادعلاقے جہاں صحت و صفائی کا خاص انتظام نہ ہو اور لوگوں کی بڑی تعداد ناقص غذا استعمال کر رہی ہو وہاں ماحول میں پولیوکا وائرس مستقل طورپر گردش میں رہتا ہے۔ اور چھوٹے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کے بچے بھی پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پشاور میں پولیو ویکسین پینے والوں کی عمر کی حد اس لئے بڑھائی گئی ہے کیو نکہ یہاں ماحول میں پولیوکا وائرس مستقل طورپر گردش میں ہے اور گٹرکے پانی سے پولیو وائرس کے نمونے 2017سے مسلسل مثبت آرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات زیادہ ہیں ۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ کچھ اسی طرح کی صورتحال کچھ عرصہ پہلے تک اسلام آباد میں تھی جہاں کے کچھ علاقوں سے ماحولیاتی نمونے مسلسل مثبت آرہے تھے جس کے بعدضلعی انتظامیہ نے ان علاقوں میں تجرباتی بنیادوں پر بچوں کی عمر 5سال سے بڑھا کر 10سال کر دی گئی ۔ یہ حکمت عملی کا میاب رہی اور پچھلے کئی مہینوں سے اسلام آباد کے ان علاقوں کے ماحولیاتی نمونے منفی آرہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے آگاہ کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا بھر میں22اپریل سے شروع ہونے والی انسدادپولیو مہم کے دوران مجموعی طور پر 76لاکھ 20ہزار 606بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے جن میں ضم ہونے والے اضلاع کے 887324بچے بھی شامل ہیں جبکہ مہم میں6ماہ سے5 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پشاور میں مہم 6روز جاری رہے گی جبکہ صوبہ کے دیگر اضلاع میں3روزہ مہم کے دوران 5سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گیاشرکاء کو بتایا گیا کہ 22اپریل سے شروع ہونے والی یہ انسداد پولیومہم مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ صوبہ میں واقع افغان مہاجرین اورٹی ڈی پیزکیمپوں میں بھی جاری رہے گی جس میں تربیت یافتہ پولیو ہیلتھ ورکرزپرمشتمل27 ہزار 252ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں 23 ہزار 455 موبائل ،1ہزار861فکسڈ،1ہزار127ٹرانزٹ، 809رومنگ ٹیمیں شامل ہیں ان ٹیموں کی موثرنگرانی کیلئے 6ہزار295 ایریا انچارجزبھی مقررکئے گئے انسدادپولیومہم میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی سیکورٹی کیلئے بھی جامع انتظامات کئے گئے ہیں جس میں 34 ہزار219پولیس اہلکار سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینگے. اس سلسلے میں والدین سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ گھر آنے والی پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچاؤ کے لئے فرض شناس شہری کا کردار ادا کریں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق