Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

جامعہ چترال میں بے قاعدگیوں کے خلاف اساتذہ کا پرامن احتجاج جاری ہے ،آٸینی اور پر امن احتجاج، ہفتہ پہلے درخواست اور نوٹس دینے کے بعد، شروع کیا۔

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)جامعہ چترال میں ملازمین کے سروس سٹرکچر اور تنخواہوں میں بے قاعدگی اور اور غیر قانونی کٹوتی سمیت دوسری انتظامی اور مالی بے قاعدگیوں کے خلاف فیکلٹی کا پرامن احتجاج اور ڈیڈلاک برقرار ہے۔ جامعہ چترال کے ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مطابق پچھلے دو سال سے چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈاٸریکٹر کی تعیناتی کے بعد نٸے بھرتی ہونے والے ملازمین کے سروس سٹرکچرز واضح نہیں ہیں، ان کو پے سلپ تک دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ آٸینی اور پر امن طریقے سے اپنے قانونی اور جاٸز حقوق مانگنے اور احتجاج کرنے پر ان کو شوکاز نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، پرسنل فاٸلز خراب کرنے اور حتیٰ کہ ٹرمینیٹ کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ ٨ اپریل کے دن جملہ بے قاعدگیوں کو دور کرنے اور فیکلٹی کے قانونی اور جاٸز حقوق دلوانے کے لیے ایک مشترکہ خط پراجیکٹ ڈاٸریکٹر کے نام بھیجا گیا تھا، جس میں جملہ بے قاعدگیوں کو دور کرنے کی درخواست کی گٸی تھی اور پندرہ اپریل کی ڈیڈلاٸن دی گٸی تھی، اور حل نہ ہونے کی صورت میں پرامن احتجاج کی اطلاع بھی دی گٸی تھی۔ اُسی دِن یعنی پندرہ اپریل سے لیکر آج تک درجنوں نوٹیفیکیشنز، شوکاز نوٹسز فیکلٹی کو اذیت پہنچانے کے لٸے جاری کیے گٸے ہیں اور ان کے پرسنل فاٸلز میں لگاٸے جا رہے ہیں۔ پراجیکٹ ڈاٸریکٹر اپنے پراجیکٹ کے ٹی او آر کے مطابق کام کرنے کے بجاٸے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود فیکلٹی اور اکیڈمک سرگرمیوں میں بھی بے جا مداخلت کر رہے ہیں اور ملازمین کو بے جا تنگ کر رہے ہیں۔ جامعہ چترال کے ٹیچرز ایسوسی ایشن صوبے کے وزیر اعلیٰ، گورنر خیبرپختونخوا اور سکریٹری ہاٸر ایجوکیشن سے درخواست ہے کہ یونیورسٹی آف چترال میں اٹھاٸے جانے والے غیر پیشہ وارانہ اور غیر قانونی اور غیرمناسب اقدامات کا نوٹس لیں اور معاملہ مزید بگڑنے سے پہلے معاملے میں مداخلت کریں اور جملہ بے قاعدگیوں کا کوٸی قانونی اور منطقی حل ڈھونڈ نکالیں۔ یاد رہے کہ مساٸل کے حل میں پراجیکٹ ڈاٸریکٹر کی طرف سے دلچسپی نہ لینے اور غیرپیشہ وارانہ اقدامات کی وجہ سے یونیورسٹی کی تدریسی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہے اور قوم کے بچوں اور بچیوں کا وقت ضاٸع ہو رہا ہے، کیونکہ ان بے قاعدگیوں کے حوالے سے سارے اندرونی قانونی اور اخلاقی تقاضے پورا کرنے کے بعد فیکلٹی نے پر امن احتجاج اور کلاس باٸیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جو پندرہ اپریل سے جاری ہے۔
جامعہ چترال کے ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ مذکورہ مساٸل اور بے قاعدگیوں کے حوالے پچھلے دو سال سے فیکلٹی کی درجنوں میٹنگیں ہوتی رہی ہیں۔ جب زبانی جمع خرچی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملا تو فیکلٹی نے مجبور ہو کر یہ آٸینی اور پر امن احتجاج، ہفتہ پہلے درخواست اور نوٹس دینے کے بعد، شروع کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔