fbpx

گردگان بر گمبد…..پڑوسی ممالک سے تجارت اور سیاحت کی بحالی

تحریر: عنایت اللہ اسیر۔۔۔۔۔۔۔۔03469103996
aseerchitral@yahoo۔com…………….

11 اپریل 2019 کو ٹاون ہال چترال میں تجار یونین چترال,چمبر اف کامرس چترال,کامیٹ چترال ,تریچ میر ڈرایویرز یونین چترال کے مشترکہ کوشش سے چترال کے قدیم الایام سے 1998 اور 2006 تک قانونی تجارت و سیاحت ,بیماروں کی امد و رفت اور چترال میں مختلف شعبہ ہاے ذندگی سے تعلق رکھنے والے بدخشان اور نوریستان اور صوبہ کنڑ کے باشندون کے چترال میں رہایش کے دنون میں براستہ اراندو,براستہ اورچون,براستہ بمبوریت,براستہ بگھوشٹ و ڈورہ پاس(دو راہو ان)امد ورفت اور تجارت کا سلسلہ جاری رہا اس دوران ڈسٹرکٹ کونسل کو ڈیڑھ کروڑ روپیہ گرم چشمہ سے اور ضلع کونسل کو تین کروڑ روپیہ چنگی کی مد میں عشیریت سے سالانہ ملتا رہا جس سے چیرمین خورشید علی خان صاحب اور بعد میں شھزادہ محیی الدین صاحب اپنے مرضی اور کجھ اپنے ممبران کے مشورے سے لنک روڈز,واٹر سپلائی اسکیم ,پلون کی تعمیر میں خرچ کرتے رہے اور روڈ کولیز بھرتی کرکے ان تمام لنک روڈز کی مرمت مستقل ہوتا رہا ان سرحدات کے کھلے رہنے کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ تاریخ میں کبھی پیش نہیں آیااور ان قدرتی انسانی رابطہ سڑکوں کے بند ہونے کے بعد کجھ انتہائی نا خوشگوار واقعات کلاش ویلی کے بمبوریت میں پیش آے جنہیں ہم (تنگ آمد بہ جنگ آمد) کے زمرے میں شمار کرسکتے ہیں کیونکہ ارندو ,اورچون ,بمبوریت,بگوشٹ,گبور اور بروغل کے سرحدات کے دونوں طرف بہت قریبی رشتہ دار قدیم الایام سے رہایش پزیر ہیں حتا کہ ایک بھائی لکیر کے اس طرف اور دوسرا بھائی اس طرف رہتاہے اگر ہم اس فطری قدرتی راستے کو بند کردیں اور بروغل ,گبور شاہ سدیم کے رہنے والے ماں کو اس کے بیٹی سے ملنے پشاور جاکر پاسپورٹ لیکر توپ خانہ آکر اپنے بیٹی سے ملنے کو کہہ دیں تو اس کے پاس چورراستے کے علاوہ اور گنجایش نہیںرہتا یہ ہی حال بمبوریت اورچون اور ارندو کے باشندوں کا ہے کہ وہ اپنے بہن بھائی اور رشتے داروں کےغم خوشی اورعیدین یا جنازے میں شرکت کےلیے پشاور جاکر واپس براستہ تورخم جلال آباد اسدآباد بریکوٹ اور ڈوکالم میں اکر اپنی بہن بھائیوں سے ملنے پر مجبور ہیں جو کسی طرح سے فطری انسانی تقاضوں سے ھم اہنگ نہیں لہذہ ان کو چور دروازہ ہی استعمال کرنا پڑتا ہے اور یہ بات سمجھنے کی آشد ضرورت ہے کہ جائز قانونی راستہ وزٹ ویزہ مقامی طور پر صرف شناختی کارڈ پر آنے جانے کی سہولت فراہم کرکے ناجائز غیر قانونی راستوں کو کانٹا تار لگانے میں دونوں طرف کے باشندے بھر پور مدد اور تعاون کرینگے اور جو ٹینشن بناہوا ہے وہ بھی ڈی فیوز ہوجائیگاارندو,دروش,ایون,چترال گرم چشمہ بونی اورمستوج کے بازارگرم ہوجانے کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ کونسل اورتحصیل کونسل کو سالانہ معقول کروڑوں کا چنگی کی مد میں اورپرمٹ کی مد میں آمدن دوبارہ شروغ ھوجایگا
لہذہ 11 اپریل 2019 کا ٹاون ھال میں منعقدہ ال پارٹیز کانفرنس برائے بحالی تجارت وسیاحت حکومت سے بھر پورمطالبہ کرتی ہے اور مندرجہ ذیل سفارشات پیش کرتی ہے
1:جلد از جلد جایز تجارت کو حسب سابق پڑوسی ممالک سے بحال کی جائے جس سے پاکستان کی کرنسی کا باہر جانا بند ہوجایگا جس کا حجم روزانہ لاکھوں میں ہوتا ہے کیونکہ چترال میں رہایش پذیر 20 سے 30 ہزار افغانی دوکاندار,قصاب,ٹرانسپوٹرز ,ھوٹل اونراور مزدور چترال کے کسی بازار سےکوئی چیز خرید کر بدخشان,نورستان اور کنڑ نہیں لے جاسکتے وہ نقد پیسہ لیکر افغانستان لے جانے پرمجبور ہیں حالانکہ ارندو,ایون چترال گرم چشمہ,اور مستوج سے ملحقہ علاقون کو جائز سامان لے کر جانا ان کے لیے بہت اسان ہوتا ہے اور کسی بیمار اور زخمی کو گرم چشمہ,مستوج چترال اور دروش لاکر علاج کرنا ان کے لیے نہایت آسان اور ہمارے لیے آمدن کا ذریعہ ہوگا
2:پامیر ریجن اور بام دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ 3 روزہ سیمینار چترال میں جولائی اگست یا ستمبر میں منعقد کرکے ممحولیات کے بچاو, اور گلیشرز کے پگلنے کے عمل کو روکنے کے لیے مشترکہ لایحیہ عمل ترتیب دیا جائے اور آپس میں تعاون کی راہیں تلاش کی جائےجس میں آپس میں تجارت,سیاحت ویزے میں سہولیات فراہم کرکے وفود کے تبادلے کی راہیں ہموار کی جائیں
3:چترال کے ڈسٹرکٹ انتظامیہ ,ڈسٹرکٹ گورنمنٹ,اور مسلح فورسزآپس میں مضبوط کوارڈینیشن سے چترال کو سنٹرل ایشیا,چین اور افغانستان کے لیے ڈرائی پورٹ قرار دیکر جائز تجارت کو جلد ازجلد بحال کیا جائے جو چند دنون میں کروڑون کے آمدن کا دروازہ کھول دیگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق