fbpx
تازہ ترینخالد محمود ساحر

ہمیں الگ الگ کرنے کا ذمہ دار ہمارے سیاست دانوں کا لباس ہے.

………….تحریر: خالد محمود ساحر………

سننے میں یہ بات احمقانہ لگتا ہے کہ ملکی یکجہتی اور ترقی کا سیاست دانوں کے لباس سے کیا تعلق ہے.
اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں ماضی میں جاکر تحریک آذادی اور برصغیر کے مسلمان لیڈروں کے وضع لباس کو دیکھنا ہوگا.
کسی کا تعلق پشاور سے تھا تو کسی کا سینکڑوں میل دور بنگال سے, کوئی پنجاب سے تھا تو کوئی بلوچستان سے, کوئی کشمیر کا تو کوئی قبا ئیلی. نہ علاقیت کا تصور نہ ہی قومیت کی بات. وہ سارے مسلمانوں کے لئے درد رکھنے والے اور ان کی یکجہتی کے منہ بولتے ثبوت تھے.
اس بے نظیر اتفاق اور یکجہتی کا پھل سب کے سامنے, سب کے لئے یکسان. سب کا ایک ملک پاکستان ہے.
وہ ایک تھے ان کا نصب العین اور شناخت ایک تھا.
وہ ایک تھے اور ہم ایک سو ایک.
ان میں پٹھانوں کی غیرت, بلوچوں کی بہادری کی ,پنجابیوں کی تیزی,سندھیوں کی حب الوطنی, کشمیریوں کی وفاداری, بنگال کی وفاداری تھی.
اب ہم ایک نہیں رہے ہماری پہچان ایک نہیں رہی. اب ہماری پہچان ملکی نہیں علاقائی ہو گئی ہے.
مسلمان نیل کے ساحل سے تا بخاک کاشعر ایک قوم تھے ایک ہی پہچان رکھتے تھے. لیکن اب مسلمانوں کی بہت سی اقسام ہیں. ترکی مسلمان, ایرونی مسلمان, افغانی مسلمان, عربی مسلمان, بغدادی مسلمان عرض جتنے مسلم ممالک اتنے قسم کے مسلمان.
ملک میں بھی ان کی تقسیم ہیں .پنجابی مسلمان, بلوچی مسلمان, سندھی مسلمان, سرحدی مسلمان, کشمیری مسلمان, قبائلی مسلمان.
وجہ عقیدے کا مختلف ہونا نہیں بلکہ علاقے,زبان,لباس کے رنگ ڈھنگ کا مختلف ہونا ہے.
اس کا سب سے بڑا ذمہ دار میں لباس کو ہی ٹہرائوں گا کیونکہ ذیادہ تر لوگ اردو اور بقایا انگریزی زنان کی وجہ سی جڑے ہوئے ہیں چاہے وہ پاکستانی لوگ ہو یا دوسرے مسلم ممالک کے.
اگر کوئی فرنگی بھی شلوار قمیص پہن لے تو اپنا لگتا ہے اس سے رغبت سی ہو جاتی ہے.
اکثر ہمارے سیاست دان ووٹ بٹورنے کے لئے جس صوبے میں جاتے ہیں ان کا مقامی لباس پہنتے ہیں اور اپنی محبت اور ہمدردی باور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جیتنے کے بات سوٹ بوٹ پہنے ماڈل بنے گھومتے ہیں.
پہلے کے لیڈروں کا لباس علاقائی لباسوں کا مجموعہ ہوتا تھا.ترکی ٹوپی کشمیری شیروانی کے ,سفید پائجامہ, ایرانی کرتہ, انگریزی زبان کی سیاست میں مداخلت کی وجہ ان انگریزی جوتےکئی گز کی قبائیلی دستار, سفید پگھڑی.
وہ ایک طرز کا لباس پہننے سے گریز کرتے تھے شاید اس کو لباس کے فیشن کا علم نہیں تھا یا ہم کچھ ذیادہ ہی سمجھ دار ہوگئے ہیں یا شاید ان کو لگتا تھا ایک طرز کا لباس پہننے سے وہ مخصوص علاقے کا نظر آئیں گے اور اس سے ملکی یکجہتی کو خطرہ ہوگا اورعلاقئیت پرستی جنم لے گی.
ان کا یہ وہم صولہ آنے درست نکلی کیونکہ جب تک وہ زندہ رہے ان کا وہ ڈھنگ باقی رہا ملکی یکجہتی بھی باقی رہی لیکن ان کے بعد ملکی یکجہتی کجا ضلعوں میں, تحصیلوں میں یکجہتی باقی نہ رہی. اب ہر خاندان, ہر قبیلہ اپنا الگ وضع قطع اور مرضی کا لباس رکھتا ہے اب مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر پہچان نہیں بلکہ کرتے پائیجامہ اور پتلون کی بنیاد پر لوگوں کی تشخص کی جاتی ہے.
اب اگر اس کا حل ڈھونڈا جائے تو صرف ایک ہی کارگر ثابت لگتی ہے کہ ان سب لباس کا مجموعہ ہمارا قومی لباس قراردی جائے. اس سے علاقائیت ظاہر نہیں ہوگی اور پچھلوں کے ارواح دم لیں گے.
لیکن ہماررے سیاست دان اور ارباب اختیار یہ ہرگز قبول نہیں کریں گے کیونکہ یہ ان کے مفادات اور فیشن کے خلاف ہے. اور گر یہ ممکن ہو سکے تو ہمارے ممبران اسمبلی اور عہدیداراں کے لئے ان کو پہننا لازم قرار دی جائے کیونکہ ان کے سر سے لیکر پاؤن تک انگریزی لباس کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ اس ملک کو مسلمانوں نے نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے آباو اجداد نے بنایا ہو.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق