Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

دادبیداد……بینکنگ سیکٹرکابحران 

وفاقی مشیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ممتاز ماہر معا شیا ت عبدالحفیظ شیخ کے سامنے کئی اہم منصوبے ہیں 27مئی کو بجٹ پیش کرنا ہے اس میں دفاع اور سماجی شعبے کی ضروریات کے ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے تکون میں توازن قائم کرنا ہے انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ(IMF)سے 9ارب ڈالر کا نیا قرضہ لینا ہے اور بجٹ میں نئے قرضے کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط کا خاص خیا ل رکھنا ہے یہ وہ چیلنجز ہیں جو عمومی گفتگو میں آتے ہیں ایک بڑا چیلنج بینکنگ سیکٹر کا بحران ہے جو عمومی طور پر زیر بحث نہیں آتا ان مشکلات اور بحرانوں کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ سابقہ حکومتوں کی غلط پا لیسیوں کا نتیجہ ہیں بینکنگ بحران کے تین رخ ہیں فکسڈ ڈیپازٹ میں کمی،بچت اکاؤ نٹس کا انحطاط اور کریڈٹ کے شعبے کا زوال، تینوں رویے ایسے ہیں جن پر طویل مذاکرہ ہوسکتا ہے اپریل 2019ء میں امریکہ اور برطانیہ کا ویزا لگونا اتنا مشکل نہیں جتنا مشکل کسی پاکستانی بینک میں جاکر بچت یا کرنٹ اکاؤ نٹ کھولنا ہے یا اپنی بچت کو فکسڈ ڈیپازٹ میں رکھنا ہے 5سال پہلے کھاتہ دار بینک حکام سے درخواستیں کرکے اپنی باری کا انتظار کرکے کاروباری قرضے حاصل کرتے تھے ہاؤ س بلڈنگ ایڈوانس ، سیلری ایڈوانس یا دوسرے قرضے لیتے تھے اپریل 2019ء میں یہ کیفیت ہے کہ بینکوں کے کریڈٹ افیسر کھاتہ داروں کی منت سماجت کر کے قرضے دینا چاہتے ہیں مگر کھاتہ دار قرض لینے سے انکا ر کرتے ہیں کیونکہ سود کی شرح 33فیصد سے تجاوز کرچکی ہے20لاکھ کے قرضے پر 18 لاکھ روپے کا سود آتا ہے 30لاکھ روپے کی گاڑی سود پر 58لاکھ روپے میں مل جاتی ہے اس طرح بینکوں کا پورٹ فولیو گذشتہ ڈیڑھ سالوں کے اندر 20فیصد گر چکا ہے مزید گراوٹ کا امکا ن ہے حالانکہ 2017ء میں بینکنگ سیکٹر کے لئے ترقی اور کاروبار کے جواہداف مقرر کئے گئے تھے ان اہداف کے مطابق 2020ء تک بینکنگ کے شعبے کو 30فیصد بڑھوتری کی طرف بڑھنا تھا بچتوں میں خاطر خواہ اضافہ کرناتھا ، کریڈٹ کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھا نی تھی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے تھے لیکن 2019ء کے وسط تک اس شعبے میں ملازمین کی چھانٹی شروع ہونے والی ہے صوبائی دارلحکومت کے بینکوں میں چار طرح کے پیسے آتے تھے سب سے زیادہ پیسہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام(PSDP)کے دائرے میں آتا تھا سکیموں کے ٹینڈر کھلتے تھے ٹھیکہ داروں کو ادائیگیا ں ہوتی تھیں گذشتہ 5سالوں سے یہ سلسلہ بتدریج کم ہوا ہے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جو پیسے رکھے جاتے ہیں ان کو ترقیاتی منصوبوں پر لگانے کی نوبت نہیں آتی اس کا دو تہائی خرچ نہیں ہوپا تا بینکوں میں کال ڈیپازٹ ، ٹینڈر اور ٹھیکہ داروں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے بینکوں میں کاروبار کا دوسرا بڑا ذریعہ تعمیراتی شعبے کا نجی حصہ تھا جائیدادوں کی خرید و فروخت ، نئی ہاؤسنگ سکیمیں اور دیگر معاشی سرگرمیوں سے بینکوں میں پیسہ آتا تھا سرکاری پالیسی کی تبدیلی سے اس شعبے کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اس رجحان نے بینکوں کے کاروبار پر منفی اثر ڈالا ہے تیسرا بڑا ذریعہ سول سوسائٹی کو ملنے والے بین الا قوامی گرانٹوں سے آنیوالا پیسہ تھا یہ فارن کرنسی میں آتا تھا وزارت داخلہ کی طرف سے این او سی کی نئی پابندیوں کی وجہ سے ڈونر نے منہ موڑ لیا ہے جو ڈونر ادارے پاکستان میں کام کرتے تھے انہوں نے پاکستان کے ڈیسک کو بند کر کے نیپال ، تھا ئی لینڈ ، افغانستان ، سری لنکا،بھارت ، اور بنگلہ دیش کے لئے مزید ڈیسک کھول لئے ہیں کیونکہ ان ملکوں میں ڈونر اداروں کو عزت دی جاتی ہے یہاں پر ان کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے سازگار ماحول جو 1980ء کی دہائی میں تھا 1990کی دہائی میں تھا 2000ء کی پہلی اوردوسری دہائیوں میں تھا دوسری دہائی کے اختتام سے پہلے ہی وہ ساز گار ماحو ل ختم ہوا سوئٹزر لینڈ ، برطانیہ ، امریکہ ، جاپان ، اٹلی ، جرمنی ، فرانس ، نیدرلینڈ ،اور ناروے کا ڈونر ادارہ آپ کے ملک میں سماجی ترقی اور غربت کے خا تمے کے لئے امداد یا عطیہ لیکر آتاہے وہ یہاں ذلیل اور خوار ہوکر آپ کو عطیہ دینے کی جگہ ایسے ملک کا انتخاب کرتاہے جہاں اس کو عزت دی جاتی ہے اُس کی قدر کی جاتی ہے اس کے ڈونیشن اور عطیہ کوقدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اگر حکومت کہتی ہے کہ دہشت گرد ی کے خاتمے کے لئے بینکوں پر نئی پابندیا ں لگانا ضروری تھا تو اس پر بھی غور ہونا چاہئیے کہ 2018ء سے پہلے دہشت گردی پر قا بو پا یا گیا تھا 2010ء سے 2017ء تک دہشت گردی کے خلاف جو کامیاب حکمت عملی اختیار کی گئی تھی اس میں بینکوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ان مثالوں کو سامنے رکھ کر بینکوں پر پاندیا ں لگائے بغیر دہشت گردی پر قابو پا یا جا سکتا ہے جہاں تک قرضوں پر شرح سود میں اضافے کا تعلق ہے اس اقدا م کی نسبت کو دہشت گردی کے ساتھ ہر گز جوڑا نہیں جاسکتا حکومت کی معاشی ٹیم کو عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں بینکنگ سیکٹر کے بحران کا قابل عمل اور دیر پا حل ڈھونڈنا ہوگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔