fbpx

ڈائمنڈ جوبلی ہائی سکول سونی کوٹ گلگت میں کھیلوں کے ہفتے کی اختتامی تقریب

گلگت ( نمائندہ خصوصی ) گزشتہ دنوں ڈائمنڈ جوبلی ہائی سکول سونی کوٹ گلگت میں کھیلوں کاہفتہشروع ہوکرآج اختتام پذیر ہوا ۔ جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت و چترال  بریگیڈئیر( ریٹائرڈ ) خوش محمد نے اختتامی تقریب کی  صدارت فرمائی جبکہ اس تقریب کے خاص مہمان گلگت کے نوجوان شاعر اور طلبہ کے لئے لکھے گئے ایک پرجوش ترانہ ؎  میں طالب علم ہوں جی بی کا ہوں روشن ستارہ کے خالق صدیق مغل اور اس ترانے کو سریلی آواز میں گانے والا گلوکار داود احمد تھے ۔ دیگر مہمانوں میں آغا خان ایجوکیشن سروس کے مختلف شعبوں  سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ سکول ہذا کے پرنسپل عارف اللہ ، اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ کھیلوں کے لئے مختص اس ہفتے کے اندر کھیلے جانے والے  کھیلوں میں درج ذیل کھیل شامل تھے :   50 سے 200 میٹر دوڑ سپون ریس,رسہ کشی,کرکٹ، فٹ بال ،والی بال، ہاکی اور پیٹو ( پٹو ایک علاقی کھیل ہے جسے چترالی میں بولی دیک بھی کہتے ہیں ) ۔ان کھیلوں کو  پرائمری ، مڈل اور سیکنڈری کے تناسب سے  تین حصوں میں تقسیم کیا گیا  تھا  تاکہ بچوں میں عمر اور جماعت کے لحاظ سے دلچسپ مقابلے ہو سکیں ۔ یوں ان کھیلوں میں طلبہ و طالبات نے اپنی مہارتوں کے خوب جوہر دکھائے اور تماشائیوں سے داد وصول کی ۔آج ان کھیلوں کے اختتام پر سکول ہذ ا کی جانب سے  ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ سکول کی استانی مس ستارہ اور مس روحیل نے اس پر وقار تقریب کی  نظامت کے فرائض نبھائے ۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا تلاوت کلام پاک کی سعادت طالبہ ایمن رابعہ نے حاصل کی اس کےبعد طالبہ کشمالہ نے نبی کریم ﷺ کی شان میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے ۔ پرنسپل جناب عارف اللہ  صاحب نے کھیلوں کے اس ہفتے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے علم و ہنر کے میدان میں بچوں کے لئے پڑھائی اور کھیل کی اہمت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کھیل ہی ہیں جن کی وجہ سے بچوں کی جسمانی نشونما کے ساتھ ساتھ اُن کی چھپی ہوئی  ذہنی صلاحیتوں کو بھی جلا ملتی ہے ۔ اس کے علاوہ بچوں  کی بے شمار مہارتیں ایسی ہیں جو کہ کھیلوں کے ذریعے جانچے ، ناپے  اور تولے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں کھیلوں کا رجحان پیدا کرانے سے وہ ہر طرح کی غیر ضروری  اور غیر صحت مند سرگرمیوں  سے باز رہتے  ہیں اور ملک کے پر امن شہری بن کر دنیا میں امن کے سفیربن سکتے  ہیں ۔ پرنسپل کے ابتدائی کلمات کے بعد تعلیم و تربیت اور طلبہ کی شان میں پرجوش ترانے کے خالق اور علاقے کے  نوجواں شاعر و ڈرامہ نگار صدیق مغل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہرئے کہا کہ  انسانی تربیت کمرہ جماعت سے شروع ہوتی ہے اگر اساتذہ  بچوں کو عمر ابتدائی  حصے میں بہتر تربیت دینے میں کامیاب ہوں گے  تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک میں امن و امان کا فقدان ہو ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طرز تربیت کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا مستقبل درخشاں ہے ۔انہوں نے طلبہ کے لئے گلگت میں پہلی بار لکھے جانے والے ترانے کو ایک علمی محفل میں پہلی بار گانے کی اجازت دینے پر  جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت و چترال  بریگیڈئیر( ریٹارئرڈ ) خوش محمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ترانے کے چند اشعار خصوصی طور پر اُن کے نام کر دیے۔

؎

میں طالب علم ہوں جی بی کا ہوں روشن ستارہ

بنوں گا بے سہاروں کا سہارا

اندھیرا دھل گیا اب روشنی ہے

میری دھرتی پہ دیکھو ، ہر خوشی ہے

صدیق مغل کی پرجوش تقریر کے بعد علاقے کے نامور گلوکار داود احمد نے صاحب موصوف کا طالب علموں  کے لئے  لکھا ہوا ترانہ اپنی رس گھولتی آواز سے گا کرشراکا  کی سماعتوں  کو ایک خوشگور احساس سے نوازا۔ محفل میں سکول کے نو نہال طلبہ و طالبات نے معاشرے میں پائی جانی والی نا ہمواریوں اور کرہ ارض کو درپیش مشکلات  پر مختصر مگر جاندار خاکے پیش  کرتے ہوئے طلبہ کے کردار کو آنے والے زمانے کی کلید قرار دی ۔ اس کے بعد جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت و چترال  بریگیڈئیر( ریٹائرڈ ) خوش محمد  نے مختلف کھیلوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے طلبہ  میں انعامات تقسیم کیے اور صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کھیلوں کی اہمیت اور آنے والے زمانے کے مشکل حالات سے خندہ پیشانی سے  نبرد آزاما  ہو کر  اپنے آپ کو  کرہ ارض کے بہترین  شہری ثابت کرنے  کے عمل کومعیاری تعلیم سے مشروط قرار دیا ۔ انہوں نے آغا خان ایجوکیشن سروس کے Mission Statement   کی تشریح کرتے ہوہے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف لکھنا اور پڑھنا سیکھنا نہیں بلکہ علم یا تعلیم حاصل کرنا گہرے اور وسیع معنوں پر محیط ہے اور آغا خان ایجوکیشن  قوم کے نو نہالوں کو تعلیم حاصل کرنے کے جدید خطوط پر گامزن  دیکھنا چاہتی ہے ۔ ان جدید خطوط سے مراد ایک انسان کی  دینی ، دنیاوی ، سماجی ، معاشی اور اعلیٰ  اخلاقی  اقدار کی کسوٹی پر  اپنے آپ کو مثبت طور پر بر قرار رکھنے کی صلاحیت ہے  جو کہ ہم ان بچوں میں سے ہر ایک کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ  بحیثیت مسلمان ہم میں سے کوئی بھی تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا کیوں اللہ  تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ پر زور دیتے ہوئے فرمایا ہے  مفہوم : پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ، تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑ اکرم والاہے ۔

انہوں نے ہز ہائنس کے ایک اور  قول کا مفہوم بیان کرتے  ہوئے کہا کہ آنے والا زمانہ چیلنجوں سے بھر پور ہوگا اور وہ ایک ایسا زمانہ ہوگا کہ جس کے بارے میں اگرچہ  کوئی  یقینی پیش گوئی نہیں   تاہم یہ اندازہ   لگانا  آسان ہے  کہ  آنے والے زمانے کے تمام نا مساعد حالات کا سامنا کرنے کےلئے  ہمیں اپنے بچوں کو معیاری تعلیم  کے زیور سے آراستہ  کرنا پڑے گا  ۔ انہوں نے  تعلیم کے میدان میں طلبہ کے جذبات میں مثبت ابھار  پیدا کرنے  والے  علمی ترانے کے خالق صدیق مغل  صاحب اور اس ترانے کو گانے والے گلوکار داود احمد کو ادارے کی جانب سے ستائشی اسناد سے نوازا ۔  یوں  یہ پر وقار تقریب قومی ترانے کے  سحر انگیز ساز کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی  ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق