fbpx

ڈائمنڈ جوبلی(ڈی-جے) مڈل سکول نومل گلگت کو ہائی سکول کا درجہ ملنے پر افتتاحی تقریب

گلگت ( نمائندہ  خصوصی )نومل گلگت شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال کی جانب واقع  قرنوں سے آباد ایک سر سبز و شاداب بستی ہے ۔یہاں کی آبادی تقریباً 1200 ہزارنفوس پر مشتمل ہے۔اس علاقے میں دو پرائیوٹ ہائیر سیکنڈری , دو سیکنڈری اور دو مڈل سکولوں کے علاوہ دو گورنمنٹ ہائی سکول بھی مصروف عمل ہیں۔ان سکولوں مین پڑھنےوالے طلبہ کی تعداد 2000 کے قریب ہے ۔ لیکن آبادی کی ایک بڑی تعداد کا رخ   ڈی جے سکول نومل کی طرف ہے ۔ سکول کی طرف والدین کے جھکاو کی بنیادی وجوہات میں سکول ہذا کی طرف سے زمانے کے جدید تقاضوں کے مطابق  دی جانے والی تعلیم و تریت ، تربیت یافتہ اساتذہ ،جواں عزم اور تدریسی راہنمائی کی اعلیٰ پیشہ وارانہ مہارتوں کے حامل پرنسپل کے علاوہ زمانے کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ عمارت ، سائنسی تجربہ گاہیں ،صاف وشفاف کمرہ جماعتوں کی دستیابی کے علاوہ زیر تعلیم  طلبہ کی حفاظت کےاعلی قدامات شامل ہیں .یہی وجہ ہے کہ اس سکول میں پڑھنے  والے بچوں کی تعداد اس گاؤں میں موجود باقی سکولوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔اس مادرعلمی کی امتیازی خصوصیت  یہ ہے کہ یہ ادارہ سن 1960 ء سے علاقے کے سپوتوں کو علم کے نور سے مستفیض کر کے آر رہا ہے ۔آج سے نصف صدی قبل اس سکول کی بنیاد یہاں کی عظیم علمی شخصیت شاہ جہان (مرحوم) اوراُن کی اہلیہ  چنبیلی ( مرحومہ )  نے رکھی تھی ۔ علاقے میں آج بھی جب تعلیم کا ذکر ہوتا ہے تو یہاں کے باسی  بے پناہ  عقیدت اوراحترام سے آپ کے نام لیتے ہیں ۔

            شاہ جہان ( مرحوم ) سے لیکر آج تک سکول ہذا نے ایک طویل علمی مسافت طے کی ہے ۔ 1960 ء سے 1978ء  تک اس مادر علمی کو عبادت گاہوں کے ساتھ ملحق کمروں میں زندہ رکھا  گیا ۔ یہ ان لوگوں کی بلا کی دور اندیشی کا جیتا جگتا ثبوت یہ ہے کہ وہ اس سکول کو کسی بھی حال میں کار امد رکھتےہوئے آج کے دن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے تھے لہذا اس بستی کے علم کے پیاسے باسیوں نے سن 1976 ء کو اپنی مدد آپ کے تحت محلہ مدینت الکریم میں سکول کے لئے خریدی اور اگلے سال یعنی سن 1978ء  کو ایک شاندار عمارت استادہ کرکے آغا خان ایجوکیشن سروس سے  ڈی جے پرائمری کو میڈل کا درجہ دینے کی منظوری لے لی ۔ اس کؤ بعد سن 2000 ء میں جب گاؤں کے لوگوں نے اسی سکول میں ہائی سکول کی ضرورت محسوس کی تو گاؤں کے معتبر نام  جناب شکر اللہ کی زیر نگرانی  دوبارہ اپنی مدد آپ کے تحت کمیونٹی بیسڈ سکول کے طورپر دو مزید کمرہ جماعتوں کا اجراعمل میں لایا جوکہ آج تک زیر استعمال ہیں ۔عوام کی اپیل اورعلاقے میں تعلیم کے رجحان کو مد نظر رکھنتے ہوئےآغا خان ایجوکیشن سروس کے اعلی حکام نے اس سال ڈی جے مڈل سکول نومل کو ہائی سکول کا درجہ دیکر یہاں کے عوام کے درینہ مطالبے کی تکمیل کی ۔

            پچھلے دنوں  نومل کے عوام نے اس دن کو شکرانے کے طور پر منایا۔ اس شاندار افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس برائے گلگت و چترال (Brig Rtd) خوش محمد  تھے جبکہ اس محفل کی صدارت نعیم اللہ  پریزیڈنٹ اسماعیلی ریجنل کونسل  گلگت نے کی ۔ نومل کے عوام ،کمیونٹی بیسڈ سکول کے صدر شکر اللہ ، آر – ایس – ڈی – یو  گلگت کاعملہ اور اساتذہ سکول ہذا کے علاوہ سکول کے نو نہالوں نے  مہمان خصوصی اور صدر محفل کا پھولوں کے گلدستوں سے استقبال کیا ۔ اس روح پرور محفل تشکر کی میزبانی مس طاہرہ اور مس حسینہ نے کی ۔ پروگرام کا باقاعدہ آغازجماعت ہفتم کی طالبہ علیزہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔ اس کے بعد  طالبہ مبینہ مجیب اور ہمنواوں نے نعت رسول سرور کونین ﷺ  پیش کی ۔ سکول کے بچوں نے ایک علاقائی ملی نغمے پر رقض کرتے ہوئے مہمانوں پر گل پاشی کر کے منفرد انداز میں خوش آمدید کہا ۔ سکول کے پرنسپل  محمد امین نے سکول کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اے کے ای ایس پی کے جنرل منیجر اور والدین کو یقین دلایا کہ آنے والے سال میں تین امور کا عملی مظاہر نظر آئے گا جن میں سالانہ امتحانات  کے نتائج میں سی گریڈ سے نیچے ایک بچہ بھی نظر ائے گا / گی جبکہ 70 فیصد بچے  A  اور A+  لیکر اپناتعلیمی سفر جاری رکھیں گے اس کے علاوہ  تمام بچے روانی کے ساتھ انگریزی میں بات چیت کرنے کے قابل ہوں گے اور تیسری  تبدیلی  صاف و شفاف اور سر سبزو شاداب سکول کے نقشے میں ملے گی ۔  پرنسپل کے بعد اس سکول  اور والدین کے محسن چیرمن برائے کمیونٹی بیسڈ سکول( سی بی ایس) نے پہلو دار گفتگو سے نومل میں ڈی جے سکول کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور سکول ہذا کو مڈل سے ہائی سکول کا درجہ دینے پر آغا خان ایجوکیشن  سروس اور بالخصوص جنرل منیجر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سی بی ایس کی زیر نگرانی سکول کو چلانے کے حوالے سے گزشتہ دہائیوں سے سکول میں  استعمال  ہونے  والے کم و بیش 400000 روپے مالیت کے تمام وسا ئل جنرل منیجر کیموجودگی میں سکول ہیڈ کے حوالے کئے۔ انہوں نے خصوصی طورہ پر RSDU  گلگت کے ہیڈ نثار کریم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سکول کی ترقی میں ان کے کردار کو سراہا ۔اس پروگرام میں طلبہ نے رنگا رنگ خاکوں کے ذریعے آغا خان ایجوکیشن سروس کواجاگر کیا اور خصوصی طور پر ریجنل ایجوکیشن آفس گلگت  کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سخت محنت کرکے کررہ ارض کے مثالی شہری بننے کا یقین بھی دلایا ۔ اس موقعے پر روایتی طعام ( اشپیری ) کے ساتھ گاؤں کے معمر افراد نے علاقائی رقص کرتے ہوئے اپنی شادمانی کا اظہار بھی کیا اور عمائدین علاقہ نے دیسی روایتی کوٹ اور ٹوپی پہنا کر جنرل منیجر ( Big Rtd) خوش محمد کا علاقے میں تعلیم پر گہری توجہ پر شکریہ بھی ادا کیا ۔

پروگرام کے اختتام میں صدارتی کلمات سے پہلے اس تقریب کے مہمان خصوصی جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس برائے گلگت و چترال ( Brig Rtd)خوش محمد نے آغا خان ایجو کیشن سروس کے فلسفے پر سیرحاصل گفتگو کرتے ہوئے تعلیم کی ضرورت کے مختلف پہلوؤں شرکائے محفل پر اُجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آغا خان ایجوکیشن سروس کا مشن تعلیم  کے نور کو بلا تفریقِ رنگ ونسل، لسان و زبان ، مسلک و مذہب اور جغرافیائی حدود کے جہاں تک ہو سکے پھیلانا ہے- آج جس سکول کو ہائی سکول کا درجہ دیا جا رہا ہے یہ آنے والے  دور میں   AKES کے اُس تعلیی فلسفے کا امین ہوگا جسکا بنیادی مقصد معیاری تعلیم کو سب کے لئے عام کرناہے۔ لیکن  تعلیم کے اس اعلیٰ  فلسفےکا مکمل  حق اُس وقت ادا ہوگا  جب ہم اور آپ سب مل کر تعلیم کے اعلیٰ معیار کو بر قرار رکھیں گے ۔ معیار سے میری مراد وہ تعلیم ہے جسے حاصل کرنے کے بعد ایک بچہ انسانیت کی حقیقی کسوٹی پراپنا وزن مکمل طور پر بر قرار رکھنے میں کامیاب ہو سکے۔انہوں نے ہز ہائینس آغا خان کے   2002 کے دوران کرخزستان کے ایک دورے کے موقعے پر کی گئی  تقریر “I am sure that all of you here today will agree that we live in a time of rapid change — change that is often not predictable, and not always positive. The best way to manage change, whether positive or negative, is to anticipate it and prepare for it. On the basis of my experience with development as an observer and a practitioner – that now spans more than forty years – I have come to the conclusion that there is no greater form of preparation for change than education.”   کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت کی مشکلا ت سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے جو کہ معیاری تعلیم ہے ۔ میں بڑے وثوق سے یہ کہ رہا ہوں کہ  دنیا میں اگر کوئی بہترین سرمایہ کاری ہے تو وہ  بچوں کی تعلیم پر لگائے جانے والا پیسہ ہے ۔  یہ سرمایہ کاری  صرف دولت برائے دولت نہیں  بلکہ دولت برائے صحت، امن ،اخلاق اور دولت برائے انسانیت ہے  اس لئے یہ سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا عمل صرف ایک نسل کے لئے نہیں بلکہ یہ قیامت تک آنے والی نسلوں کےلئے ضروری بلکہ لازمی ہے ۔ انہوں  بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ جو نو نہال ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں یہ کل کے ڈاکٹر،انجینئرز، مفکر، سائنسدان ، فلاسفر، وزیر اعظم اور صدر ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنا ذہنی معیار ہے اور یہ اپنے ذہنی استعداد کے مطابق اپنی منزلوں کی جانب رو بہ سفر ہیں۔ یاد رہے کہ اس سفر کے راستے بہت ہی پرپیچ ہیں ان راستوں سے گزرتے ہوئے ہر نونہال مسافر کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس   تربیت یافتہ  اور پرخلوص پیشہ ور اساتذہ کی شکل میں راہبرو راہنما  موجود ہیں جن کی سر پرستی میں ہمارے بچے ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھیں گے ۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے اساتذہ اس پیشے  کو ملازمت نہیں بلکہ ایک مشن سمجھ کر خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہیں گے۔ میرا دل کہتا ہے کہ ائیدہ ایک عشرے کے بعد اس ادارے سے تعلیم حاصل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھنے والےبچے قوم کا چمکتے دھمکتے ستارے بن کر اسی دھرتی  پر اترے گے۔

            آخر میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے نعیم اللہ ، صدر اسماعیلی ریجنل کونسل برائے  گلگت نے  ڈی جے مڈل سکول نومل کو ہائی سکول کا  درجہ دینے پر آغا خان ایجوکیشن سروس اور جنرل منیجر کا شکریہ ادا کیا ۔ یوں  یہ تقریب  بچوں کی بہتر تعلیم اور ترقی کی دعاؤں اور قومی ترانے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق