fbpx

ثقافت اور موسیقی کے حوالے سے ایک پروگرام کا خلاصہ

………….تحریر: اے۔ایم۔خان……….

چترال بالا کے ہیڈکوارٹر بونی میں ثقافتی تنظیم ’ قلم قبیلہ‘ کی سربراہی میں بروز اتوار 28 فروری کو ’’وائٹ راک گیسٹ ہاوس‘‘  میں ایک ثقافتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ چترال بھر سے نہ صرف اِس تنظیم سے منسلک افراد بلکہ شعراء، فنکار اورادباء کے علاوہ ہرمکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
پروگرام کی نظامت ہر دلعزیر شاعر اورصدر قلم قبیلہ محترم ذاکرمحمد ذخمی نے کی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں، سب سے پہلے، اُس نے چترال کے دوردرازعلاقوں سے آنیوالے حضرات کا شکریہ ادا کیا۔  اُس نے اہل علم کی کاوشوں اورادب سے منسلک افراد کی حوصلہ افزائی کے حوالے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اِس کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ بالائی چترال اب ضلعی حیثیت حاصل کرنے کے بعد چترال زیرین سے الگ ہوسکتا ہے کیونکہ ہم اپنے مشترکہ ثقافتی ورثہ کو  کسی ایک خاص علاقہ یا گاون میں محدود نہیں رکھ سکتےاور نہ یہ ایسا ہو سکتا ہے۔ گوکہ چترال دو حصے میں تقسیم ہو چُکا ہے لیکن ہم ثقافتی لحاظ سے اب بھی،اورآج کے بعد بھی، ایک ساتھ کھڑے رہیں گے۔
اِس ثقافتی پروگرام کی صدارت محترم مکرم شاہ صاحب نے کی،اور مہماں خصوصی کی نشست رحمت غازی صاحب نے سنبھالی۔ سابق ایم۔پی۔اے سید سردار حسین،وائس چیرمین بونی، معروف فنکار میر ولی، بابا فتاح الدین، آفتاب عالم، منصور علی شباب، افضل اللہ افضل، سردار حکیم ، چپاڑی سے آئے ہوئے لوک موسیقی کے فنکار،اور کئی ایک حضرات نے اسٹیج میں موجود رہے۔
چپاڑی سے تشریف لانے والا گروپ لوک موسیقی ، پھستوک ،۔۔۔۔، پیش کرنے کے بعد، چترال میں بدلتے ہوئےثقافتی رجحانات اور شاعری میں جدت کی لہر پر فخرالدین فخر نے قدیم اور موجودہ شاعری کے تناظر میں ایک مقالہ پیش کی۔  شاعری کے حوالے سے بات کرتےہوئے معروف مقالہ نگار کہوار شاعری کی تاریخ، صنف اور قدیم اہنگ ،جوکہ اب بھی مشہور اور ہردلعزیز ہیں، اور چترال کے مشہور شعراء کا بھی ذکر کیا جس میں عبدالشکورغریب، محمد سیار، گل اعظم گل، شیرملک اور زیرک وغیرہ قابل ذکر تھے۔ اپنے مقالے میں قدیم شاعری میں زیر بحث عنوانات(حجرووصال، مبالعہ آرائی، حسن وجمال، دردوغم ،عشق وخرد ) کا ذکر کرتے ہوئے بیسوین صدی میں شاعری اپنے نقطہ عروج کو پہنچنے، جس میں چترال میں مشہور شعراء اوراُن کے اشعار کا ذکر کرتے ہوئے عصر حاضر کے رجحانات کا تقابلی ذکر بھی کیا۔ اُس نے عشق ،محبت، تشبیہات، تمثیل نگاری اور دوسرےعنوانات کا استعمال قدیم اور موجودہ شاعری کا حوالہ ہوئے سامنے رکھا۔ اُس کا یہ کہنا تھا کہ گل وبلبل، پھولوں کی خوشبو اوربلبل کی آواز وہی ہے لیکن اُنہیں دیکھنے کا اندازاب بدل چُکا ہے۔ کہوار شاعری کے حوالے سے اپنا تقابلی جائزہ سمیٹھتے ہوئے مقالہ نگار نے ایک شعر پڑھنے کے بعد کہا کہ یہ بےڈنگہ شاعری، جارہانہ مزاج، سطحی اوربیہودہ مبالغہ آرائی سے ثقافت میں وہ ایک آگ لگی ہے جس سے تباہی ہونے والا ہے جس پر سوچنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ثقافت اور معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مقالہ پیش کرتے ہوئے کریم اللہ صاحب کا کہنا تھا کہ ثقافت اور معیشت کا گہرا تعلق ہے۔  کلچر ایک تغیر پذیر مظہر ہے جس کی ہیئت مختلیف اور وقت کے ساتھ وقوع پذیر ہوتی ہے۔ بےشک ہندوکش اور ہندوراج کے درمیاں پنپنے والی ثقافت اپنی نمایان وقعت رکھتی ہے۔ چترال میں باہر سے آنیوالے ثقافتی یلغار، مقالہ نگار کے مطابق، معاشی تبدیلی اور کاروبار سے منسلک ہے جوکہ معاشی ترقی کے بغیر گرفت میں نہیں آسکتا۔ اُس کا کہنا تھا جسطرح کاروبارومعیشت چترال سے باہر لوگون کے قابو میں جارہاہے، گوکہ یہ اُن کا قانونی اور آئینی حق ہے، اِسی طرح ثقافت بھی اُنہی سے متاثر ہوتا جارہاہے جس پر ایک غور کی ضرورت ہے۔ مقالہ نگار نہ صرف چترال میں تعصبات کا ذکر کیا بلکہ مشترکہ دُشمن، ذہنی انتشار، کے خلاف لڑنے پر بھی بات کی۔
پروگرام میں معروف ستارنواز، آفتاب عالم ، چترالی موسیقی میں کلیدی آلہ، ستار، کے حوالے سے بات کی۔ پروگرام میں فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں فنکار کی عزت میوزک سننے کی حد تک محدود ہے۔ معاشرے میں میوزک کا شوقین ہر ایک ہے، اور موسیقی کے پروگرام میں فنکارون کی عزت ہوتی ہے، اِس سے باہر اُنہیں کوئی بھی جاننا نہیں چاہتا۔ اُس نے چترال میں، موسیقی کے حوالے سے، مذہبی پس منظر کا بھی ذکر کیا جوکہ فنکارون اور اِس قدیم تہذیب کا معاشرتی وقعت کو تعین کرتا ہے۔ ستار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُس کا کہنا تھا کہ ستار موجودہ موسیقی میں اپنا مقام کھو چُکی ہے (ستار گدائے بتی شیر)، محفل میں دیکھانے کیلئے نظر آتا ہے لیکن اُس کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی۔
موسیقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معروف فنکار اور شباب کا لقب حاصل کرنے والا موسیقار، منصور علی، کا کہنا تھا کہ وہ اپنا کیریر چترال ٹاون میں بابا فتاح الدین کے ایک پروگرام سے شروع کی۔ اُس وقت کے فنکاروں اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ’’کبھی پیچھے نہیں دیکھا‘‘ جوکہ میری شہرت کا باعث بنا۔ موسیقی کیلئے،اُس کا کہنا تھا، بہت زیادہ وقت دینے کی ضرورت ہوتی  ہے، ایک گانے کو تیار کرنے کیلئے دس دِن اور کبھی تیس دِن بھی ریاضت کرنا پڑتی ہے۔ افضل اللہ افضل میرے اُستاد بھی ہیں اور اُس کی شاعری میری شہرت کا باعث بنا۔  منصور علی شباب چترال میں فنکار کی معاشرتی اور سیاسی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے حوالے سے گلگت، ایک واقعے کا مثال دیتے ہوئے،اور چترال میں پذیرائی کا ذکر کیا، اور سیاسی اور اداراتی حوصلہ افزائی کے حوالے سے بھی بات کی، اُس کا کہنا تھا، جوکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ چترال میں موسیقی کی پرورش اور پذیرائی کے حوالے سے اُس نے چترال میں شاہی خاندان اورخصوصاً شہزادہ محی الدین صاحب کا بھی ذکر کیا۔
سابق ایم۔پی ۔اے سید سردار حسین  شاہ چترالی ثقافت ، شعروشاعری، اور موسیقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چترال کی ثقافت اور موسیقی کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کہوار، انڈواریان زبان جوکہ درد گروپ سے تعلق رکھتا ہے، اپنی اِسی طاقت کی وجہ سے چترال سے باہر طول وبلد میں پھیل گئی، جس طرح ایک زمانے میں فارسی زبان اور وہاں پنپنے والی ادب دُنیا میں چھا چُکی تھی۔ وہ کہوار زبان میں جینڈرڈسکرمنیشن  نہ ہونے ، فارسی زبان کا حوالہ دیتے ہوئے ، نئے آنیوالے چیزوں کو نام دینے کے حوالے سے بات کی، اور زبان کے ’’الہامی‘‘ پس منظر پر بھی بات کی۔ اُس کا کہنا تھا جو لوگ اپنے مادری زبان سے نفرت کرتے ہیں وہ اپنے مان سے نفرت کرتے ہیں ۔ ہمیں اپنے بچوں کو اپنا مادری زبان اور کلچر سیکھانا ہوگا۔ اُسکا کہنا تھا، کہ تعلیم یافتہ نسل بدقسمتی سے اپنے زبان اور ثقافت کو نقصاں پہنچا رہا ہے۔ شہرت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ، حکیم یارخون، کے دھنی اُسے زندہ رکھنے، اور چترال میں شعرا کی سوچ ، اور افضل اللہ افضل کے برابر کوئی اور شاعر نہ ہونے کا بھی ذکر کیا۔  وہ نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنی زبان اور ثقافت کی قدر کریں اور اِسے آگے لے جانے پر کام کریں۔
چترال میں کلاسیکی موسیقی کا مشہور نام اور موسیقی میں ’’بابا‘‘ کا لقب لینے والا فنکار، فتاح الدین، نے اپنی 33 سالہ موسیقی کےسفر کا مختصر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اب تک ایسا لگتا تھا کہ اُس نے تین صدیوں پر محیط وقت میں جو کچھہ کیا تھا وہ وقت کا ضیاع تھا اور اب اُسے احساس ہو چُکا ہے کہ اُسے جو عزت اب دی جارہی ہے وہ اِس بات کا غماز ہے کہ چترال میں اب فن کی پزیرائی ہو رہی ہے۔ میں اپنے فن کی بنیاد پراب بھی جوان لگتا ہوں۔ وہ الفتح سوسائٹی کے ایک پروگرام میں سابق سیکرٹری اور پی۔ٹی۔آئی کے رہنما، رحمت غازی، کے ساتھ نشست کے حوالے سے بھی بات کی، اور اِس سفر میں دوسرے حضرات کے کردار اور سپورٹ کا بھی ذکر کیا۔
ظفر اللہ پرواز اِس پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اِسے اپنے خوبصورت زبان کو اُجاگر کرنے کا ایک اہم کاوش قراردے دی۔ وہ دوسرے زبانون کو سیکھنے کے ساتھ اپنے زبان کو سیکھنے اور اِس میں بات کرنے پر زور دیا، اور کہوار زبان کی اُس طاقت کا ذکر بھی کیا جو اب چترال سے باہر ایک اہم مقام حاصل کر چُکی ہے۔ موجودہ موسیقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُسکا کہنا تھا کہ اب یہ عجیب شکل میں نظر آرہی ہےجس میں وہ اپنائیت نظر نہں آتی۔ یہ اُس غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے زبان کے بجائے دوسرے زبانوں اور ثقافت سے متاثر ہوچُکے ہیں۔
اِس ثقافتی پروگرام کا ’’روح روان‘‘ تحصیل نائب ناظم فخرالدیں صاحب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر سیاسی انتظام ہے جس کامقصد چترال میں ثقافت سے منسلک افراد کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا تاکہ چترال کی ثقافت اور زبان کو مل کرکے آگے لے جانا ہے اور اِس حوالے سے شرکاء کی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ اُس کا مزید کہنا تھا کہ کہوار ثقافت اور ہماری پلیٹ فارم کو استعمال کرکے اِسے چترالی ثقافت کا نام دےکر پیش کرنے کا عمل نہیں ہونا چاہیے۔ اور وہ چپاڑی سے آئے ہوئے لوک موسیقی پیش کرنے والے فنکارون کو خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا کہ یہ اِس بات کا غماز ہے کہ وہ عمر اور صحت کے اِس نہج میں بھی اپنے ثقافت سے کتنی محبت کرتے ہیں، جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔
سابق سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،  رہنما پاکستان تحریک انصاف  اور ڈسٹرک کونسل چترال کا ممبر، رحمت غازی صاحب، ادبی حلقے کو اِس پروگرام کے انعقاد اور اُن کے کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے معاشرے میں، رسالت مآب کے دورکے حوالے سے ، شاعر کی  اہمیت کا ذکر کیا،  اور مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کا حوالہ دیتے ہوئے معاشرے میں شاعر کے حوالے سے ایک سوچ پر بھی بات کی۔ چترال میں کلچر کی ترقی کے حوالے سے بات کرتےہوئے اُس کا کہنا تھا کہ اگر چترال انتظامی لحاظ سے دو ضلعوں میں تقسیم ہو چُکا ہے لیکن وہ ثقافتی اعتبار سے ایک ہی ہے۔ ہمیں اپنے کلچر اور ادب کی پرورش اور ترقی پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور مہینے میں ایک دفعہ ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کا مشورہ دینے کے ساتھ، اُس نے، اپنی طرف سے اپنا حصہ ڈالنے کا بھی یقین دلایا۔
صدر محفل، سابق ضلعی تعلیمی افیسر، محترم مکرم شاہ صاحب چترال کی ثقافت اور کہوار زبان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’’حسن اتفاق‘‘ ہے کہ آج ایک سال بعد دوبارہ ہم ایک اور ثقافتی پروگرام میں شامل ہیں جوکہ دوبارہ قلم قبیلہ کی سرپرستی میں منعقد ہورہا ہے۔ اپنے خطاب میں موجود حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ، چپاڑی سے لوک موسیقی پیش کرنے والے ٹیم کا بہت شکریہ ادا کیا، اور علی نواز لال کا خصوصی شکر یہ بھی ادا کیا۔ رحمت اکبر خان کے والد ، علی ظہور اور دوسرے حضرات کی محفل میں شرکت کے حوالے سے بات کی۔ ثقافت اور خصوصاً چترالی ثقافت پر بات کرتے ہوئے اُس کا کہنا تھا کہ چترال میں ثقافت ایک بچے کے پیدا ہونے سے پہلے شروع ہوتی ہے اور مرنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ چترالی ثقافت کے مطابق بچے کی پیدائش سے ایک مہینے پہلے مان بچے کیلئے ضروری ثقافتی اشیا ’’اچیترونگ، ڈنڈینی، بیڑینی، پھیستی ‘‘ کی تیاری شروع کرتی ہے، اور مرنے کے بعد ’’کفن ‘‘ سے ختم ہو جاتا ہے۔ بلکہ مرنے کے بعد جو رسومات ہوتے ہیں ،گوکہ اُن کی نوعیت مذہبی بھی ہوتی ہے، وہ ہمارے ثقافت کا اہم حصہ ہوتےہیں، اور ’شاعری، ادب اور موسیقی بھی ثقافت ہیں‘۔  چترال میں ثقافت کو درپیش خطرات پربات کرتے ہوئے اُس کا کہنا تھا کہ ہمارے ثقافت کو پہلا خطرہ موجودہ ’’ترقی‘‘ سے ہوئی ہے نہ کہ کاروباری رجحانات کی وجہ سے۔ ٹریکٹر آگیا تو روایتی طریقے سے فصل کی کاشت، کٹائی اور تھریشنگ کے طریقے، اوزار اور نام بھی ختم ہوگئے۔ سلائی مشین آیا ہاتھ سے کپڑے تیار کرنا، اور روایتی طریقے سے آٹا تیار کرنے اور اِس سے منسلک اوزار اور اُن کے نام بھی مشین آنے سے ختم ہوگئے ہیں۔ لہذا قدیم تہذیب کا دشمن ترقی ہے۔ اور ترقی کے بعد دوسرے علاقون سے ’’غیر لوگوں‘‘ کی آمد سے اُس علاقے کا زبان اثر اندازہوتا ہے جسطرح چترال میں ہورہا ہے۔ بیرونی ثقافت نہ صرف ہمارے زبان، کلچر اور یہاں تک کہ شاعری میں بھی سرایت کر چُکی ہے جوکہ ثقافت کیلئے دوسرا اہم خطرہ ہے۔ چترال میں کہوار زبان، ثقافت اور موسیقی کو محفوظ کرنے اور ترقی کیلئے ایک اکیڈمی بنانے کی ضرورت کے حوالے سے بھی بات کی۔
پروگرام کمپیر ذاکر محمد زخمی صاحب، موجود فنکارون، شعراء اور ادیبوں کو انعامات سے نوازنے کے بعد،  اپنے شرین اور دلچسپ انداز میں حاضریں کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کیا۔ اِس پروگرام کے انعقاد میں فخر الدیں صاحب، حیدری لال اور علی نواز لال کا خصوصی شکریہ ادا کیا، اور سب کو شام کے وقت مشاعرے کیلئے دعوت عام دے کر دوبارہ ملنے کے ساتھ پروگرام کے پہلے حصے کو حتمی شکل دے دی۔
“ثقافت” اُن تمام عناصر کا مجموعہ ہے جومخصوص افراد یا سوسائٹی کودوسروں سے اُن کے نظریات، سوچ، تمدن، رویہ،رجحانات، رسم ورواج، روایات اور سماجی تعلقات کے انداز کی وجہ سے مختلیف بنا دیتی ہے۔ ایک خاص علاقے کے لوگوں کے خیالات، سوچ اور رویہ وغیرہ اُنکے غیر مادی ثقافت کا، اور طرز تعمیرات، خوراک اور بودوباش وغیرہ اُس کے مادی ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں ترقی (معاشرتی، معاشی اور ٹیکنالوجی) اگر ہو جاتی ہے اُس کا اثر لوگوں کے ثقافت پر بھی ہوتی ہے۔ عالمگیریت کا پوری دُنیا میں ایک عالمگیر کلچر، زبان اور طرز کاروبار کا مقصد چھوٹے زبانوں اور قوموں کا اپنی شناخت کھونے کا عندیہ تھا جس سے نہ صرف بڑے تہذیب بلکہ ہمارا کلچربھی اثر انداز ہوچُکا ہے۔ ترقی نہ صرف لوگوں کا انداز زندگی بدل دیتی ہے بلکہ سہولیات لانے کے ساتھ زندگی کو  بھی سہل بنا دیتی ہیں، اور ثقافت کیلئے اُنہیں پس پشت ڈالنا ایک امتحان سے کم نہیں۔ اگر کہوار زبان کے ’’گرامر‘‘ میں جینڈر ڈسکرمنیشن نہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کہو ثقافت میں یہ سوچ بہرحال موجود ہے۔ ہر وہ ثقافت اپنی حیثیت کھو بیٹھتی ہے جو معاشرے میں زندگی گزارنے کے عمل کو مشکل بنا دیتی ہے۔ کہو ثقافت وقت کے ساتھ ڈھلنے کی طاقت اپنے اندر رکھتی ہے جو اُسکی زندگی کی ضمانت  ہے۔ موجودہ موسیقی گوکہ مارکیٹ میں سرایت کر چُکی ہے لیکن وہ شرینی پیدا نہ کرسکی تو لوگ چاہتے ہیں، جسطرح قدیم شاعری میں چند کلام غیر ثقافتی نظر قراد دئیے گئے موجودہ شاعری میں یہ رجحان زیادہ ہے۔ اور یہ جو موسیقی آچُکی ہے جس میں ،اگر، نہ ثقافت کی خدمت ہے اور نہ کوئی مالی فائدہ تو اِسے کیوں کیا جارہا ہے۔ موجودہ رجحانات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے ہاں موجود شعراء اور فنکارون کو آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو وہ سوچ اور اہنگ دیا جائے جو وقت کے مطابق ہو اور جسے لوگ سننا چاہتے ہیں۔ اِس کے بغیر، جسے ہم کہو موسیقی اور ادب کا گولڈن دور کہتے ہیں،  اِسے محفوظ اور زندہ نہیں رہ سکتے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق