fbpx

قومی اسمبلی میں سودوربا کے خلاف موثر آواز اُٹھانا اور بل جمع کرنا اہالیان چترال کے ووٹوں کا حق ادا کرناہے۔ایم این اے عبدالاکبر چترالی کی پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں سودوربا کے خلاف موثر آواز اُٹھانا اور اس بارے میں بل جمع کرنا اہالیان چترال کے ووٹوں کا حق ادا کرناہے جوکہ سودکے تمام دروازوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیتا ہے اور اگر یہ بل اسمبلی سے منظور ہوجائے تو پی ٹی آئی حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہوگا اور ریاست مدینہ کی طرف ایک اہم قدم اور ملک کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا جوکہ اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔ ہفتے کے دن چترال پریس کلب میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں سابق ٹاؤن چیرمین حکیم مجیب اللہ، عبدالسمیع، عبدالکبیر اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اہالیان چترال کے لئے یہ خوشی کا مقام ہے کہ ان کے منتخب کردہ نمائندے نے حق نمائندگی ادا کرتے ہوئے سو د کی لعنت کے خلاف قانون لانے کے لئے قدم اٹھالیا ہے جس کی منظوری کا دن سود ی نظام کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے والوں کے لئے عید کا دن ثابت ہوگا۔ انہوں نے اسپیکر اسد قیصر اور علی محمد خان، فرو ع نسیم سمیت بعض وزراء اور ارکان اسمبلی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے جذبہ ایمانی کا مظاہرہ کرکے اس بل کو پیش کرنے میں معاونت فراہم کی۔ چترال کی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ بروز تا گہیریت گاؤں تک ٹرانسفارمر وں کی تنصیب کے بعد بہت جلد ہی ان دیہات کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی شرو ع ہوگی جس پر 7کروڑ 88لاکھ روپے لاگت آئے گی جبکہ ان کی کاوشوں سے کالاش ویلی روڈ، گرم چشم روڈ اور چترال شندور روڈوں کو این ایچ اے کے سپرد کرنے کے احکامات جاری ہوگئے ہیں اور مواصلات ہی کے سیکٹر میں بونی بزند روڈ پر کام دوبارہ شروع کرنے کے لئے 80ملین روپے ریلیز ہوچکے ہیں جبکہ آنے والی بجٹ میں 200ملین روپے مزید طلب کئے گئے ہیں۔ مولانا چترالی نے چترال کی ترقی کے حوالے سے وفاقی وزراء فروع نسیم، علی محمد خان، مراد سعید، عمر ایوب خان، پرویز خٹک، شہریار افریدی، زبیدہ جلال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی انہوں نے چترال کے حوالے سے مسائل کو اسمبلی کے فلور پر پیش کیا تو انہوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہر ہ کیا اور ان کو سپورٹ کیا اور مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا جس کے لئے چترال کے عوام ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک کے فوراً بعد وزیر اعظم کے شکایات سیل کے انچارج علی محمد خان چترال کا دورہ کریں گے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال شندور روڈ اوردوسرے روڈ پراجیکٹ سی پیک منصوبے کے تحت کئے جارہے ہیں جن میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے مطابق نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ چترال میں محکمہ پیسکو میں خالی پوسٹوں کو جلد پُر کرنے اور یوٹیلیٹی اسٹورز میں اشیاء ضروریہ کی فراہمی کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق