fbpx

داد بیداد ….طریقہ وار دات

طریقہ وار دات بہت دلچسپ ہے اسلا م اباد ائیر پورٹ پر یا پنڈی اڈے میں آدمی انتظا ر کرتا ہے کہ سعو دی عر ب، متحد ہ عر ب امارات، قطر یا کسی اور ملک سے پختون آجا ئے دو چارنک سا مان اُس کے پاس ہو گا ایک ہینڈ بیگ یا بریف کیس ہو گا پگڑ ی، ٹو پی اور لہجے سے پختون کی پہچان ہو گی پھر وہ بتا ئے گا کہ پشاور، ملاکنڈ، سوات یا دیر جا رہا ہے پھر انتظا ر میں بیٹھا ہوا بندہ اپنے ساتھیوں کو آواز دے گا ویگن، بس یا موٹر میں اُس کے ساتھ بیٹھ کر کسی ویراں جگہ میں اس کو لوٹنے کے بعد ساتھیوں سمیت فرار ہو گا پختون کہے گا جان بچی لاکھوں پائے،کھیل ختم پیسہ ہضم گذشتہ ماہ واڑی دیر سے تعلق رکھنے والے مسافر کو اس طریقے سے لوٹاگیا ڈاکو55 ہزار ریال لے کر فرار ہو گئے تفتیش جاری ہے مگر تفتیش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ایس پی طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اُٹھا یا گیا کونسی تفتیش ہوئی؟ کیا نتیجہ نکلا؟ اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت ہر پولیس سٹیشن میں حاضر سروس فوجی افیسر کی ڈیوٹی لگانے پر غور کر رہی ہے اگر ایسا ہوا تو مظلوم لوگوں کی داد رسی ہوگی ورنہ مظلوم شہری کی فریاد کسی پولیس سٹیشن میں سُنی نہیں جاتی آرمی چیف، کور کمانڈر راولپنڈی، جی اوسی راولپنڈی اور وزیر داخلہ بر یگیڈئیر(ر) اعجاز شاہ کی توجہ کے لئے ایک مثال کافی ہو گی ڈوک درہ ضلع دیر بالا کے رہائشی فضل رزّاق ولد محمد دوست خان سعودی عرب سے 15 مارچ 2018 ء کواسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترا ویگن میں پیر ودھائی سے IJPروڈ سے آگے کا سفر شروع کیا پیرو دھائی سے دو کلومیڑکے فاصلے پر ویگن کو روک کر سواریوں نے پختون کو لوٹ لیا 70ہزار سعودی ریال، موبائیل فونز، پاکستانی کرنسی اور دوسرا سامان اٹھا کر ڈاکو فرار ہوگئے فضل رزّاق نے پولیس سٹیشن سبزی منڈی اسلام آباد میں 16مارچ کو ایف آ ئی آر درج کرائی یہ الگ کہانی ہے کہ ایف آئی آر درج کرنے میں دو دن کیوں لگ گئے اور سائل 4تھانوں میں کیوں گھومتا رہا؟ ایف آئی آر کے بعد پولیس نے 6 ملز موں کو گرفتار کیا نقدی اور دیگر سامان بھی بر آمد ہو ا مگر چالان میں صر ف 5عدد موبائل سیٹ دکھائے گئے ملزموں نے اقر ار کیا کہ فضل رزاق کو انہوں نے لوٹ لیا ہے مزید یہ بھی اقر ار کیا کہ 2004 ء سے اس طرح کی وار داتیں کر رہے ہیں اور اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بھی اگل دیئے پولیس نے ملزموں کامزید ریمانڈ نہیں لیا جو ڈیشل لاک اپ سے سب کی ضما تیں ہو گئیں اور مقد مے کو دبا دیا گیا ”نہ مد عی نہ شہادت حساب پاک ہوا“ ڈوک درہ دیر کے فضل رزاق اور خیبرپختونخواہ کے دوسرے مسافرجب سعو دی عر ب یا دیگر ملکوں سے اسلا م آباد کے ہو ائی اڈے پر اُتر تے ہیں تو ان کو یاد نہیں ہو تا کہ یہ اسلا م آباد ہے اُن کے ذہن اور دما غ پر دو باتیں سوار ہو تی ہیں ایک بات یہ کہ میں محب وطن پاکستانی ہو ں دوسری بات یہ کہ میں اور سیزپاکستانی ہوں زر مبادلہ کما کر لاتا ہو ں حکومت کو مجھ پر فخر ہے حکومت کہتی ہے کہ اور سیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہوتا ہے ان دو مفروضات کی وجہ سے پختون دھو کا بھی کھا تا ہے مار بھی کھاتا ہے میں گذشتہ 14 مہینوں سے فضل رزاق کے اخباری بیانات اور پر یس کا نفرنسوں کی رپورٹیں پڑھ رہا ہوں پاکستان سٹیزن پورٹل کا بڑا چرچا ہے مگر بات پختو ن کی ہو تو سٹیزن پورٹل پر کی جا نے والی شکابت بھی رائیگا ن جاتی ہے میں فضل رزاق کو دلا سا دیتا ہوں کہ دولت ہاتھ کا میل ہے تمہا ری جان بچی اس پر شکر اور صبر کرو اگر ڈاکو تمہیں جان سے مار دیتے تو تمہا رے ورثا کیا کرتے؟ کہاں جاتے؟ کس سے فریاد کرتے؟ فضل رزاق کو اس بات کا زیادہ دکھ نہیں کہ ڈاکووں نے مال کو لوٹا اُسے زیادہ دُکھ اس بات کا ہے کہ پولیس نے لٹنے والے پاکستانی کی مد د نہیں کی بلکہ لوٹنے والے پاکستانیوں کا ساتھ دیا ڈاکوؤں کی ہا ئی ایس گاڑی سیف سٹی کے کیمر ے سے صاف نظر آرہی ہے گاڑی برآمد ہو ئی مگر ریکارڈ میں نہیں دکھائی گئی 70 ہزار ریال کی نقد ی برآمد ہو ئی مگر ریکارڈ پر نہیں لائی گئی مقدمہ کمزور ہوا ملزموں کو رہائی ملی ”مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے“ فوجی حکام اور حساس اداروں کے ذریعے دو حوالوں سے اس قسم کے بے شمار واقعات کی تفتیش ہو نی چاہیے پہلا حوالہ یہ ہے کہ واردات کا طریقہ عجیب ہے کیاواردات کر نے والے ڈاکووں میں پولیس کے اپنے لوگ شامل ہیں یا نہیں؟ دوسرا حوالہ یہ ہے کہ ملزموں نے 2004 سے اپنی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے 15 سالوں میں کی گئی وار داتوں کا حساب اُن سے کیوں نہیں لیا گیا؟ اگرہرتھا نے میں حاضرسروس فوجی افیسر کی ڈیوٹی لگائی گئی تو یہ ملک کے مظلو م عوام کے لئے پولیس کے مظالم سے نجات کا ذریعہ ہوگا مگر ایسا کب ہو گا بقول مرزا غالب
ہم نے ما نا کہ تغا فل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائینگے ہم تم کو خبر ہو نے تک

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق