fbpx

دھڑکنوں کی زبان…بجٹ کا خوف

کھوار زبان میں اصطلاحی معنی میں بجٹ کو ”مدیری“ اور لغوی معنی میں ”پیشون“ کہتے ہیں اور منی بجٹ کو ” نفکت“ کہتے ہیں یہ بڑے خوبصورت الفاظ ہیں۔۔کامیاب خاندان میں ان لفظوں کی بہت اہمیت ہے۔۔ان خاندانوں کی خوشحالی کا راز ”مدیری“ ہے۔۔فضول خرچیاں اور شاہ خرچیاں نہیں ہوتی ہیں۔۔ایک روٹین ہوتا ہے۔۔اندازہ اور احتیاط ہوتا ہے۔پورے سال کے لئے ایک اندازے کے مطابق اخراجات مختص کی جاتی ہیں۔اس میں بچت کا تصور بھی ہے خرچ کا بھی ہے۔۔یہی تصور آگے ملک چلانے کا ہے۔۔اسلامی نظام میں اس کے جابجا اصول وضع ہیں۔۔قرآن سورہ یوسف میں ایک وزیر خزانہ کی صلاحیت بھی بیان ہوئیں اور بچت کا تصور بھی۔اسلام میں خدا کے رسولﷺ نے اپنی مٹھی مبارک دکھا کر فرمایا کہ اس سے زاید کو خرچ کرو۔ذمہ دار اور زندہ قومیں اپنی حیثیت دیکھتی ہیں۔اپنا محاصبہ کرتی ہیں۔۔اپنی پیداوار بڑھاتی ہیں۔۔اپنی دولت کی حفاظت کرتی ہیں۔اپنے قومی خزانے کو قومی امانت سمجھتی ہیں۔اپنا ٹیکس فرض سمجھ کر ادا کرتی ہیں۔اپنے معاوضے پہ قناعت کرتی ہیں۔صبر و شکر کا مظاہرہ کرتی ہیں سادگی اپناتی ہیں۔یہ مثالیں تاریخ میں موجود ہیں صرف اسلام ہی میں نہیں دوسری قومیں بھی اس کا عملی مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔۔جاپان پہ اٹم بم گرایا گیا۔ پوری قوم نے فیصلہ کیا کہ بیس سال تک دن میں ایک بار کھانا کھائیں گے۔ایسا کیا۔۔بیس سال بعد وہ اپنی منزل پہ پہنچ گئے۔اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب کام اور محنت ہے۔ہمارے مذہب میں محنتی کو اللہ کادوست قرا ر دیا گیا ہے مگر فخر موجودات ﷺ کا یہ سبق ہم نے جابجا بھلا دیا ہے۔۔پاکستان بنا تو قائد کے ابتدائی دنوں میں اس قناعت کا بے مثال مظاہرہ دیکھنے میں آتا تھا۔قوم کرپشن،بد عنوانی،بد دیانتی، اقربا پروری،ذاتی مفادات،فضول خرچی،عیاشی سے نااشنا تھی۔ایک منزل متعین کردی گئی تھی اس پہ پہنچنا تھا۔کارواں روان تھا۔ہمیں نہ قرض کی ضرورت تھی نہ محسوس ہوتی تھی۔ہمیں اپنے وسائل کی فکر تھی۔امانت ہماری رگوں میں سرائت کر گئی تھی مگر بد قسمتی تھی کہ قائد جلد ساتھ چھوڑ گئے اورہم ان گمراہیوں کاشکار ہو گئے۔دوسروں کا کسی نے نہیں سوچا۔انجام کا کسی نے نہیں سوچا۔حکمران اپنی فکر کرنے لگے۔۔ملک قرض پہ چھڑ گیا۔ہم قرض خواہوں کے رحم و کرم پہ رہے۔سود ادا کرتے رہے ان کی شرائط مانتے رہے۔اغیار معاشی میدان میں ہمیں اپنا غلام بنا کر پھر ہمارا نام و نشان مٹانا چاہتے ہیں۔غالب نے کہا تھا
قرض کی پیتے مئے اور سمجھتے تھے یہ کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
ہماری فاقہ مستیاں رنگ لا رہی ہیں۔ایک طرف ہم قرضوں کے بوجھ تلے سسکیاں لیتے رہے دوسری طرف شاہ خرچیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔اور دونوں ہاتھوں سے ملک لوٹتے بھی رہے۔۔غریب پستا رہا۔امیر امیر تر ہوتا رہا۔اب یہ حال ہے کہ بجٹ کو بم کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ گرانی بڑھے گی۔۔تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ڈرائیور کرایہ بڑھاتا ہے۔۔دکان دار قیمتیں بڑھاتا ہے۔۔کارخانہ دار اپنی قیمتیں بڑھاتا ہے۔مزدور زیادہ معاوضے کامطالبہ کرتا ہے۔۔نوکر پیشہ اپنی تنخواہ اور مراعات کا مطالبہ کرتا ہے تو مجبوراً حکومت کو اپنا اقتدار بچانے کے لئے اور ملک چلانے کے لئے مذید قرض لینا پڑتا ہے اور ہم قرضوں تلے دبتے چلے جارہے ہیں۔ہمارا کیا بجٹ ہو گا مقروض قوم کا۔۔بجٹ ان کا ہوتا ہے جن کاپیسہ ان کا ہو۔جن کی دولت ان کی ہو۔۔میں ٹیکس،ریوینو، مد،مدات،مدارات وغیرہ پر بات نہیں کرتا۔میں اس قوم کے مستقبل اور انجام پہ سوچتا ہوں۔اگر کوئی وزیر اعظم یہ کہے کہ اؤ قناعت اپناتے ہیں۔اس سال تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔سادگی اپنائیں گے۔فضو ل خرچیاں نہیں ہونگی۔قیمتوں میں بھی ا ضافہ نہیں ہوگا۔کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگے کا مگر اپنا ٹیکس امانت سمجھ کر ادا کرو۔قومی خزانے اور ملک کی دولت کو قومی امانت سمجھو تو اس کی بھی کیا ضمانت ہے کیونکہ پہلے وزیر اعظم کو قناعت اپنا نا ہوگا۔قومی نمائندوں کو عیاشیوں سے توبہ کرنا ہوگا۔بڑے بڑے بیوروکریٹ اور محافظیں کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کیا یہ ہم سے ہوسکے گا۔۔اس کے لئے بہت بڑی قربانی کی ضرورت ہو گی ہم ایسی قربانی کے عادی تھوڑی ہیں۔اگر یہ سب ہم سے نہیں ہو سکتا تو بجٹ کا خوف تو چھڑے گا بجٹ خوشیاں کہاں سے لائے گا۔ہمارے حکمرانوں کو جرات کرنی ہوگی اور ہمیں خلوص کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا تب جاکے ہم اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں۔ہر فرد اپنے آپ کو امین تصور کرے ہر فرد قربانی دے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق