fbpx

خیبر پختونخوا ہیلتھ ریفارمز

…….تحریر؛ خواجہ وزیر……..

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں ڈاکٹروں نے نوشیروان برکی اور ہیلتھ منسٹر کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ دونوں طرف سے الزامات کی بارش جاری ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس وقت ڈاکٹر جس دیدہ دلیری کے ساتھ سوشل میڈیا پر گالیاں نکال رہے ہیں یہ انکی تعلیم و پیشے سے میچ نہیں کھاتا۔ایک ملازم کا عوامی نمائندے کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا بغاوت کے ضمرے میں آتا ہے۔ ہشام اچھا ہے یا برا لیکن ہے عوامی نمائندہ اور ایک بہت بڑے عہدے پر فائض ہیں۔ ڈاکٹر ہشام اگر کچھ ریفارمز لاتا ہے تو اس پر اس قدر غصہ کیوں؟ اس قدر ہڑتالیں کیوں؟ مجوزہ ہیلتھ ریفارمز میں ایک چیز بلکہ ایک حرف برا نہیں۔ ان ہیلتھ ریفارمز سے صوبے کے غریب علاقوں کو فائدہ ہوگا۔ مجوزہ ہیلتھ ریفارمز میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام ڈاکٹر اپنے ڈومیسائل والے ضلعے میں نوکریاں کریں گے۔ اس وقت صوبوں میں ہزاروں رورل ہیلتھ سنٹرز، بیسک ہیلتھ یونٹس اور چھوٹے موٹے ہسپتال قاِئم ہیں۔ جہاں جانے سے ڈاکٹر صاحبان کتراتے ہیں۔ بہت سارے ایسے ہیں جہاں ڈاکٹرز تعینات ہیں۔ تنخواہیں لے رہے ہیں اور ڈیوٹیاں ندارد۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈیوٹی پر نہ جانا سو فیصد حرام کی کمائی ہے اور حرام کی کمائی کسی کو راس نہیں آتی۔ نکلتی ہے ایک روز اسی دنیا میں۔
ڈاکٹرز ریفارمز کی جب بھی بات ہوتی ہے تو ڈاکٹر حضرات چیخ اٹھتے ہیں کہ معاشرہ ہم سے جیلس ہے۔ عام لوگوں نے ڈاکٹروں کو قصائیوں کا نام کیوں دیا ہے۔ حالانکہ پاکستانی قوم تو محبت والی قوم ہے۔ ایک معمولی ڈاکٹر سے معاشرہ کیوں جلے۔ ڈاکٹروں سے بڑی چیز تو کمشنر ہوتا ہے، ڈی سی ہوتا ہے حتی’ کہ ایک تحصیلدار و اے سی ہوتا ہے لوگ ان سے کیوں نہیں جلتے۔ مثال دونگا حالیہ دنوں میں بنوں سے ڈپٹی کمشنر علی اصغر پشاور ٹرانسفر ہوئے۔ پورا بنوں اسکے پیچھے رو رہا ہے اسکے لاکھوں لوگ مداح ہیں۔ عابد علی شہید جو ڈی اِئی جی تھے لوگ اسکے مداح کیوں تھے۔ لوگ ان طاقتور عہدوں کے حامل لوگوں سے کیوں نہ جلے کہ صرف ڈاکٹروں سے جلے جو ہر گلی محلے میں ملتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ڈاکٹروں نے عوامی حمایت کھو دی ہے وجہ سب کے سامنے ہے۔ نہ ہسپتالوں میں ڈیوٹیاں کرتے ہیں اور نہ کلینک میں انصاف۔ فارمیسی والوں سے کمیشن، لیب والوں سے کمیشن، فارمیسی کمپنیوں سے کمیشن۔ کیا یہ سب حرام نہیں اللہ ایک روز حساب نہیں کرے گا۔
جہاں تک بات ہے ہیلتھ ریفارمز کی تو یہ ڈاکٹروں و عوام دونوں کے فائدے میں ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق