fbpx

غلام ابن غلام ابن غلام “

……….تحریر : محمد کوثر کوثر (ایڈوکیٹ)

عجیب منتق ھے “یوطی سرکار ” کی بیان کیا جارہا ہے کہ نوازشریف کی مصنوعی دہشت گردی سے پاک “مصنوعی”معاشی استحکام کی وجہ سے حکومت مجبوراً اپنی خودکشی کا پروگرام موخر کرتے ہوئے آٸی ایم ایف کے دربار میں حاضری دینے جارہی ہے جو کہ بمطابق اصول شریعہ بے وقت موت کو “ٹالنے”کے لیے حرام بھی مباح ہے ۔
بلکل سرکار ہم آپ کی مجبوری کو سمجھتے ہیں لہذا ہمیں کوٸی اعتراض نہیں مگر یہ صرف قرض کی حد تک محدود ہوتا تو ہم کا ہے کو معترض ہونے کی جسارت کرتے ۔قرض نوازشریف کیا مشرف خان بھی لیتا رہا ہے مگر اس طرح سارا ملک گروی نہیں رکھ دیے تھے۔آپ تو سارا ملک ہی ” اسی عطار کے لونڈے” کے پاس گروی رکھ چکے ہو۔
وزیر خزانہ آی ایم ایف کا گورنر اسٹیٹ بنک آٸی ایم ایف کا ایف بی ار ائی ایم ایف کا اور تو اور اب تو خان صاحب ایک تقریب میں موجودہ وزیرخزانہ کے ” فضاٸل و مناقب ” بیان کرتے ہوئے “مستند تریں” “روحانی تعلق ” کے طور پر “نسبتِ سلسلہٕ عالیہ آٸی ایم ایفیہ” کا حوالہ پیش کیا کہ “شیخی صاحبہ”جو کہ فی الوقت “گدھا”نشین ہیں نے ہمارے “خلیفہ”حضرت حفیظ شیخ و فضیلت شیخ” امام”رضا باقر”دامت برکاتھم”دونوں انتہاٸی قابل اور” مجاہدہ و مراقبے والے صاحب کشف ” بزرگ ہیں۔
مجھے “سلسلہٕ آٸی ایم ایفیہ”و فضیلت شیخیہ”پہ معاذاللہ کوٸی اعتراض نہیں بلکہ رونا اس پر آرہا ہے کہ بھاٸی جس کے پاس جانے سے خودکشی کو بہتر سمجھتے تھے اس کے ساتھ “لو افٸرز “بوس و کنار”تک “ناجایز تعلقات”محدود رکھتے تو شاید ہم حسب سابق “دیوث شوہر” کی طرح برداشت کر لیتے مگر آپ نے تو پہلی ہی بدفعل کروابیٹھے۔ یارو باتوں باتوں ہی میں ہماری عزت کب کے “لٹ” چکی ہے۔ آج پورا ملک اور قوم کو معہ اداروں سمیت بین الاقوامی مالییاتی فنڈ کے تنظیم کے زیر نگرانی تقریباً گروی رکھ دیا گیا ہے۔۔ہم کہاں سوئے ہوئے ہیں? یعنی ہم پہلے چھپکے غلام تھے مگر اب بلی تھیلی سے باہر آچکی۔ آج سترسال بعد پھر ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ستر سال پہلے تمہارے ساتھ ہم نے دھوکہ کیا تھا پہلے تم غیراعلانیہ ہمارے غلام تھے یاد رکھو تم پاکستانی آج بھی ہمارے غلام ہو۔
اس کا دوسرا مطلب ہمارے پرکھوں کی قربانی رایگان گٸیں ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ ہم “غلام ابن غلام ابن غلام” قوم تھے ہیں اور شاید رہینگے۔
جس طرح آزاد کشمیر ہماری ماتحت “آزاد”ریاست ہے ہم بھی سابقہ آقاوں کے ماتحت آزاد اسلامی پاکستان ریاست ہیں۔ ہم اسی لولی پاپ پہ ابھی تک بہل رہے ہیں۔کیونکہ ہم غلام ابن غلام ابن غلام قوم ہیں۔ہماری ذہنی استعداد اتنی ہے جتنی کسی مرغی کی نظریں دانے پہ۔۔۔۔یہ نہیں دیکھ پارہا کہ دھاگہ دانے سے بندھا ہوا تو نہیں۔کیونکہ ہم غلام ابن غلام ابن غلام قوم ہیں۔
اب اس قوم کے نوجوان طبقے کی سوچ ہی کو لیں۔درج بالا کے جواب وہ کیسے دینگے۔۔۔”یہ سب نوازشریف کا کیا دھرا ہے” ہمیں مشکلات کا اندازہ نہیں تھا”نوازشریف بھی تو آئی ایم ایف گیا تھا” تم لوگوں نے خزانے کو خالی کرکے گئے ہووغیرہ وغیرہ۔۔۔ وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ اب ہم حکومت میں آکے نو ماہ ہوچکے۔۔۔۔او بھاٸی نوماہ میں تو انسان پیدا ہوتا ہے اور تم ہو کہ ابھی تک “لالٹیں “بھی نہیں پکڑ پائے”
کیونکہ ہم غلام ابن غلام ابن غلام قوم ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جو ہمارے ملک کے “عقل کل ” یا کرتا دھرتا ہیں انکی عقل بھی “ڈالر کی گھاس “چرنے کی مزے لے رہی ہے۔۔۔ ہمارے یہ مہان قسم کے “پالیسی ساز”اگر مسلمان ہیں تو نادانی اور دنیاوی مختصر لالچ کے پیچے چل کے ھمیشہ ھمیشہ کی زندگی سے ھاتھ دھو بیٹھے ہیں۔بخدا وہ مقتدر حلقوں میں براجمان شخصیات غلامی کے رومیں بہہ کے غلامی کی زندگی میں عیاشی کو ترجیح دے کر مسلمانوں اور مسلمان ملک کو کفار کے ہاتھ گروی رکھتے آئے ہیں واللہ بااللہ ثم بسم اللہ وہ سب اگر کلمہ گو گذرے ہیں یا موجود ہیں سب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنینگے۔ان کے لیے آخرت میں کوٸی حصہ نہیں۔ کیونکہ یہ اسلام اور مسلمانوں سے غداری کے مرتکب ہوچکے ہیں ۔آقاۓ دوجہان غداروں کو مدینے میں برداشت نہیں کرتا تھا اور ہم انکے نام لیوا کھلم کھلا اسلام اور 22 کروڑ مسلمانوں سے غداری کرکے دوبئی امریکہ لندن اسٹریلیا میں رہایش کے لیے تڑپ رہے ہیں۔۔۔ بخدا اس گھناونے کام میں جسکا جتنا بھی کردار ہے وہ آخرت کی بھلاٸی سے محروم ہو چکا ہے۔
مسلمانوں کو کفار کا غلام بنانے میں ھاتھ بٹانے والے روزآخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے خسارے میں رہینگے اور یہی جمہور ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق