fbpx
عنایت اللہ اسیر

پیسکوکاچھوٹے ہوٹل اورمارکیٹ مالکان کو تین سے چار لاکھ کے ٹرانسفارمر خرید کرلگانے کا نوٹس،عوام کواحتجاج کرنے پر مجبور کرنے کی سازش

…….تحریر:عنایت اللہ اسیر…….

وابڈا(پیسکو) ٹسٹ کیس کے طور پر 1000 مربع فٹ پر پھیلے ہوے ہر تین کمرون کے دو منزلہ ہوٹل اور مارکیٹ مالکان کو اپنے اپنے لیے دو تین چار اور پانچ لاکھ کے ٹرانسفرمرز خریدنے کا نوٹس دے چکی ہے
ہمارے پانی سے بجلی پیدا کرکے 100 میگا واٹ نیشنل گرڈ میں شامل کرکے ماہوار کروڑوں روپیہ کمانے والاوابڈہ یا پیسکو ہمیں مفت بجلی دینے کے بجاے 18 روپیہ یونٹ دینے کے بعد بھی تسلی نہیں ہوئی اب ٹرانسفارمر کا نا قابل برداشت بوجھ بھی صارفین پر ڈالکر ہمین احتجاج یا یہ روزگار ہی بند کرنے پر مجبور کررہا ہے
ہمیں تو جنگلات بچانے کے لیے مفت یا پھر قرین انصاف یہ ہے کہ No profit No loss کی بنیاد پر تین روپیہ فی یونٹ بجلی دی جائے تاکہ ہم اس بجلی کو روشنی ,گرمائش,کھانا پکانےاوردیگر تمام سمال انڈسٹریزمیں راحت استعمال کرسکیں اور جنگلات کی کٹائی یکسر ختم ہوسکے اور چترال کے گلیشرز کا ٹوٹنا اور تیزی سے پگلنا بند ہوجائے ورنہ چند سالوں میں گولین اوردیگر پہاڑی سلسلوں میں گلیشرز ٹوٹ کر ختم ہوجاینگے اور کھربوں روپیے کے زیرے تعمیر ہایڈرل پاور کے منصوبے بننے سے پہلے ہی پانی کی وافر دستیابی سے محروم ہوجاینگے
نہ رہیگابھانس نہ رہیگی بانسری ان باتوں کو چھوٹی منہ بڑی بات سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے
بلکہ پورے چترال کو جنگی بنیادوں پربجلی کی مستحکم ترسیل اور محفوظ ڈسٹری بیوشن کا بندبست کرکے تمام جنگلاتی اورغیر جنگلاتی علاقوں تک بجلی پہنچاکر چترال کے باشندوں کو مضبوط لائنوں اور وافر مقدار میں ہر پچاس گھر پرایک سو کے وی کا ٹرانسفارمر لگاکر تین روپیہ فی یونٹ کے حساب سے ہمیں بجلی فراہم کی جائے حکومت پاکستان کا منظور کردہ 36 میگاواٹ پورے کا پورا ہمیں دیکر پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سر کی مانند بام دنیا کےان پہاڑی سلسلوںکو ننگا ہونے سے بچایا جائے
ہمارے قانون پسندی امن پسندی اور شرافت اور پاکستان سے والہانہ محبت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے
بہت جلد CAMAT کے پلیٹ فورم سے تجار یونین کے لوٹکوہ ,ایون دروش اور بونی مستوج ارندو کے تجار یونیینز کے ذمہ داران,ھوٹلا ایسوسی ایشن,میڈیکل اسٹورز یونین ڈرایورز یونین کے عہدیداران کا مشترکہ اجلاس بلاکر متفقہ لایحہ عمل برائے چوکیداری,صفائی اور کسی بھی حادثے کی صورت میں مدد اور ضلعی انتظامیہ اورضلعی حکومت کی سرپرستی رہنمائی اورعملی مدد سے تمام مثائل کے حل کے لیے کام کیا جاییگا
ہمارے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور تمام سیاسی قایدین سے مودبانہ گذارش ہے کہ واپڈا کے ذمہ داران سے چترال میں موجوزہ تمام ھایڈرل اسٹیشنز کے منصوبوں کے متعلق ڈسٹرکٹ کونسل میں تفصیلی بریفنگ دیکر نمایندگان چترال کو اعتماد میں لے لیں گھر مالک سے مشورے میں کیا حرج ہوگی ملکر پاکستان کی ہر لحاظ سے مضبوطی کے لیے کام کرینگے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق