fbpx
اقبال حیات آف برغزی

ر وزے کے تقاضے

………..تحریر: اقبال حیات آف بر غذی ……..

روزہ صرف کھانے پینے پر قدغن لگانے کا نام نہیں۔ بلکہ اس کا دائرہ پورے وجود تک پھیلا ہو تا ہے۔ بدن کے ہر اعضاء سے سرزد ہو نے والی نا فر مانیوں اور خلاف شرع کاموں سے اجتناب یہاں تک کہ دل کی کیفیات کو بھی صاف اور شفاف رکھنے سے روزے کے تقاضے پو رے ہو سکتے ہیں۔ جہاں غیر اخلاقی باتوں کے سننے، نظروں کے ناروا استعمال ہا تھ پاؤں کی بے رہ روی اورزبان کی آلودگی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وہاں فاسد خیا لات، بد خواہی اور ہر قسم کی منفی تصورات کو بھی دل کے قریب پھٹکنے نہ دینا روزے کی روح کی سلامتی کا آئینہ دار ہے۔ چونکہ روزہ غریب اور افلاس کی کیفیت سے آگاہی اور اس بنیاد پر دوسروں کی غمخواری کے فلسفے اور خدا اور بندے کے درمیان براہ راست تعلق کی حیثیت کا حامل عمل ہے۔ اس لئے معاملات کو اس ضابطے کے مطابق انجام دینے کی اہمیت مسلمہ ہے۔ کسی روزہ دار کی افطاری کا اہتمام کر نے سے روزے کے برابر ثواب ملنے کا اسلامی تصور یقینی طور پر اس امر کا متقاضی ہے کہ کاروبار کے دوران بھی جائزاور ناجائز منافع خوری کا خیال رکھتے ہو ئے خریداروں کے دسترس کو یقینی بنا یا جا ئے۔ اور روزہ داروں کی ضروریات سے نا جائز فائدہ اُٹھانے سے اجتناب کیا جا ئے۔ بصورت دیگر دنیاوی لحاظ سے کمائی کا رنگ نظر آئیگا۔ مگر اخروی اعتبار سے روزے کے فیوض و بر کات سے خاطر خواہ استفادے کی صورت نہیں بن سکتی۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کا بھی یہ فرض بنتا ہے۔ کہ وہ خصوصاََ رمضان کے مقدس مہینے میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر کڑی نظر کے سلسلے میں کسی قسم کی رورعایت اور غرض و غایت کو فرض کی ادائیگی میں حائل ہو نے نہ دے تاکہ خدا ترس عوام کے گلے پر کند چھری چلا نے جیسے قبیح فعل کا ارتکاب نہ کر سکیں۔ اگر چہ بحیثیت مسلمان ہمیں خود رمضان کے مقدس مہینے کی حرمت کا خیال رکھتے ہو ئے بند گان خدا سے خصوصی محبت کے مذہبی تقاضے کے لئے خود میں تڑپ پیدا کر نا ہے اور اس سلسلے میں کسی کی نگاہ داری اور انتباہ کی ضرورت نہیں مگر بد قسمتی سے ہم مادہ پر ستی کے چنگل میں ایسے پھنسے ہو ئے ہیں کہ دینی تقاضوں اور خدا کی رضا جوئی کے تخیلات سے ذہن کے نہاں خانے خالی ہو چکے ہیں۔ اور اغیار کی اپنی مذہبی اہمیت کے حامل ایام کے دوران بندگان خدا کی خیر خواہی کے جذبے کو دیکھ کر بھی شر مسار نہیں ہو تے اور ہماری دینی غیرت انگڑائی نہیں لیتی۔ اس لئے رضائے الہی کے حصول کی خوش بختی سے سر فراز ہو نے کے لئے روزے کی بنیادی فلسفے کے رنگ کو رنگین کر نے کی صورت میں افطار کے وقت دعا کے لئے اُٹھنے والے ہاتھ انعام و اکرام خدا وندی سے کھبی بھی خالی نہ ہونگے۔ بصورت دیگر اگر رسمی طور پر روزے کے مقدس مہینے کو بو جھ سمجھ کر اور تراویح کے لئے تیز نماز پڑھنے والے امام کے متلاشی ہو کر اپنا یا جائے تو سوائے بھوک اورپیاس کی کیفیت سے دو چار ہو نے کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ جس عمل میں حکم خداوندی کی بجا آوری کا جذبہ اور شوق شامل نہ ہو وہ عمل “مچوڑ یوخسمت انگار تو ذوہچ “کے مترادف ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق