fbpx
تازہ ترین

شرپسند اورمفادپرست عناصرعوام دشمن سیاست سے باز رہے،اے این پی صدر اپر چترال چیئرمین فیض الرحمن

بونی(نمائندہ چترال ایکسپریس)معروف سماجی کارکن اورعوامی نشنل پارٹی اپر چترال کے صدرچیرمین فیص الرحمن نے بعض حضرات کی طرف سے گزشتہ دنوں لوٹ اویر کو ملانے والے زیرتعمیر پل کے گارڈر کی گرنےکے معاملے پرغیرضروری تنقید کرنے اور سوشل میڈیا میں اداروں کے خلاف بلاجواز پروپگینڈا کرنے پرانتہائی افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ گارڈر کا گرنا خالص تکنیکی مسلہ اور ٹھیکیدار کا نقصان ہے، قانون کے مطابق پل کے تیار ہونے کے ایک سال بعد تک بھی کسی بھی قسم کے حادثے کی صورت میں متعلقہ ٹھیکیدار ہی زمہ دار ہوتا ہے،ایکسین سی اینڈ ڈبلیو مقبول اعظم پر تنقید کرنے والوں کو شاید معلوم نہیں کہ کس طرح انہوں نے دن رات ایک کرکے ڈیزاسٹر کی مد میں جاری شدہ رقم کو واپس کرنے سے روک کر نو آرسی سی پلوں کی تعمیر پر خرچ کیا،ان اہم منصوبوں کی تعمیر پر اپنے بیٹے کو شاباش دینے کی بجائے ان پر تنقید انتہائی قابل مذمت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ہمارا علمیہ رہا ہے کہ بعض لوگ محص اپنی سیاست چمکانے کی خاطر ادارہ جاتی کاموں میں رخنہ ڈال کر عوام کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں،جب محسن چترال پرویز مشرف نےعوام کی درخواست پر 77 کروڑ کی خطیر رقم سے بونی ٹو مستوج روڈ کی تعمیر شروع کی تو علاقے کی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی،جب ٹھیکیداروں نے روڈ کی چوڑائی کے کام کو مکمل کرکے تارکول ڈالنے کے لیے پرواک کے مقام پر لیولنگ کر کے کریش ڈالنا شروع کردیا تو مستوج سے شہزادہ سکندرالملک نے کرپشن کے نام پرعوام کو ورغلا کر جلسہ کرنا شروع کردیا اور ساتھ ہی بونی سے سابق ایم پی اے سردار حسین نے اس اہم منصوبے کو کاغذی تارکول کا نام دے کر اتنا پروپیگینڈا کیا کہ عوامی ترقی کا یہ اہم منصوبہ سازشوں کی نظر ہو کر تحقیقات میں چلا گیا،اورمکمل تحقیقات کے بعد ٹھیکیداروں کوانکے پیسے مل گیے اور نقصان عوام کا ہواجو 10سال بعد بھی سردار حسین اور شہزادہ سکندر کو بددعائین دے کراس کچہ سڑک پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔اسی طرح جب ایم ایم اے کی حکومت میں بونی ٹو بزند تورکہو روڈ پر27 کروڑ روپے کی لاگت سے کام کا آغاز ہوااور فیصد کام مکمل ہو کر ایک کلومیٹر سے زائد جگے پر تارکول بھی ہوا تھا کہ تورکہو کے شرپسندوں نےکرپشن مخالف تحریک کا آغاز کردیا اور بعد میں تحریک حقوق نامی نام نہاد تنظیم کی طرف سے جلسوں اور جلوسوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ یہ اہم منصوبہ بھی نیب اوراینٹی کرپشن میں تحقیقات کی نظر ہو کر بند ہو گیا اور ٹھیکیداروں کو انکے پیسے مل گیے،اورغریب عوام آج تک اسی راستے پر دھکے کھانے پر مجبور ہے، اسی طرح جب اسی تحریک حقوق نامی تنظیم نے بونی واٹرسپلائی منصوبے میں کرپشن کا نعرہ لگاکر عدالت کا رخ کیا تو اختتام پر پانی کی نئی کنکشن لائن لینے والےغریب شہریوں پر تین ہزار کا نیا فیس مقرر کر دیا گیا،لہذا آج کے بعد اگر کسی نے بغیر تحقیق کے کسی بھی عوامی مفاد کے منصوبے کو ناکام کرنے کے  لیےکرپشن کے نام پر پروپیگنڈا کیا تو باشعور عوام اور تعلیم یافتہ نوجوانان انکا سخت محاسبہ کرینگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق