fbpx
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……..عید کے بعد

اگست 2014ء میں پا کستان عوا می تحریک اور پا کستان تحریک انصاف نے اُس وقت کی حکومت کے خلا ف تحریک چلا ئی، دھر نا دیا اور وزیر اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطا لبہ کیا تو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیتہ العلما ئے اسلام نے اصو لوں کی بنیا د یہ مو قف اختیار کیا تھا کہ پا ر لیمنٹ مو جو د ہے جمہو ری ادارے مو جو د ہیں کوئی مطا لبہ ہے تو پا ر لیمنٹ مین آ کر پیش کر و حکو مت کے 4سال ابھی با قی ہیں 4سال حکومت کر نا ان کا حق ہے جمہو ریت، آئین اور قا نون میں اس کی اجا زت ہے اب جون 2019ء میں مو جو دہ حکومت کے 10ما ہ پورے ہو جائینگے اور اپو زیشن جما عتوں میں سے مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور جمعیتہ العلما ئے اسلام نے عید کے بعد جو ن ہی کے مہینے میں حکومت کو گرانے کے لئے تحریک چلا نے کا اعلا ن کیا ہے ہمارے دوست سہیل وڑایچ ایسے مو اقع پر ایک سوال پو چھتے ہیں ”کیا یہ کھلا تضا د نہیں؟“ پوری صورت حال کو چار زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے پہلا زاویہ بڑ ا وا ضح ہے اگر کوئی جما عت خود کو جمہوری پارٹی کہتی ہے تو اس کو یہ بات ماننا پڑے گی کہ انتخا بات میں جیتنے والی پارٹی کو مدت کی تکمیل تک حکومت کرنے کا حق حا صل ہے انتخا بات میں شکست کھا نے والی جما عتوں کو یہ بات تسلیم کر کے آئینی مدت پوری ہو نے تک انتظار کر نا چا ہیئے اور اگلی انتخا بی مہم میں حکومت کے خلا ف سارا مواد لیکر میدان میں آنا چاہئیے دوسری بات یہ ہے کہ جمہو ریت میں پا رلیمنٹ کو با لا دستی حا صل ہو تی ہے حکو مت کے خلا ف جو شکا یت ہو اس کو پا ر لیمنٹ میں لا یا جاتا ہے پا رلیمنٹ میں اس پر بحث کی جا تی ہے پا رلیمنٹ کے ہو تے ہوئے سیا سی مسائل کو سڑ کوں اور گلیوں میں زیر بحث نہیں لا یا جا تا تیسرا زا ویہ تھوڑا سا مختلف ہے مو جودہ حا لات میں ملک اور قوم کو بے شمار دشمنوں کا سامنا ہے ان دشمنوں کا مقا بلہ کرنے کے لئے سیا سی، سما جی اور معاشرتی سطح پر کامل اتحا د اور اتفاق کی ضرورت ہے سیا سی سطح پر کوئی ہیجان بر پا کرنا ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں کوئی محب وطن پارٹی ایسا نہیں کر سکتی چو تھا زاویہ بھی تیسرے زا ویے سے ملا ہو ا ہے پا ک فوج ملک کی سلا متی اور یک جہتی کی علا مت ہے اس وقت حکومت کے خلاف کسی بھی تحریک کو پا ک فوج کی حما یت حا صل نہیں ہو سکتی ایسی کوئی بھی تحریک پاک فوج کے کر دار کو بھی سیا ست میں ملوث کریگی جو ملک اور قوم کے لئے نقصان دہ ثا بت ہو گی کم از کم جمہو ری قو توں کو کسی بھی حکومت مخا لف تحریک سے فائدہ نہیں ہو گا 2014میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی پو زیشن بھی مو جودہ حالات میں احتجا جی سیا ست کی طرف جا نے وا لوں سے مختلف تھی دونوں جما عتوں کی تاریخ کوئی نہیں تھی اُن کی جمہوری جدو جہد کا کوئی پس منظر نہیں تھا اُن کے سیا سی منشور اور سیا سی نظریات کا کوئی پس منظر نہیں تھا دونوں جما عتیں سیا ست میں نو وارد تھیں اور دھر نا دیکر اپنا مقام بنا نا چاہتی تھیں معلوم اور نا معلوم دونوں طرح کی طا قتیں اُن کی پُشت پر کھڑی تھیں وہ پار لیمنٹ پر لعنت بھیجتے تھے تو کسی کو تعجب نہیں ہوتاتھا 2019ء میں اپو زیشن جما عتوں کا یہ حا ل نہیں ہے احتجا جی تحریک کی کا ل دینے وا لی تینوں جما عتیں اپنی تاریخ رکھتی ہیں یہ جمہوری اور پار لیمانی جدو جہد کی تاریخ ہے یہ وہ جما عتیں ہیں جو 1973کے آئین کی منظوری کے وقت پار لیمنٹ میں مو جود تھیں یہ وہ جما عتیں ہیں جنہوں نے 1974میں قاد یا نی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے وقت پار لیمنٹ میں اپنا اصولی، آئینی اور جمہوری کر دار ادا کیا تھا مو جو دہ حکومت کے چار سال انتظا ر کرنے سے ان جما عتوں کو با لکل فر ق نہیں پڑے گا بلکہ ان کو مزید عزت ملے گی ان کی قدر میں مزید اضا فہ ہو گا اگر اُن کا مو قف یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے تو اس پر بات کرنے کی جگہ پار لیمنٹ ہے اگر انکا یہ مو قف ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کا تازہ ترین معاہدہ پچھلے 12معا ہدوں کے مقا بلے میں نقصان دہ اور ضرر رساں ہے ہماری خود مختاری پر ایک کاری ضرب ہے تو اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہو سکتی ہے پار لیمنٹ میں حکومت کے پا س صر ف شاہ محمود قر یشی ہے جو دلا ئل دے کر بات کرتا ہے اپو زیشن کے پا س دلا ئل کے ساتھ بات کرنے والے ڈیڑھ سو (150) تجربہ کار پا ر لیمنٹرین ہیں دونو جوان اراکین اسعد محمود اور بلا ول بھی شاہ محمود قریشی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دلا ئل دیتے ہیں پارلیمنٹ کے اندر بحث مبا حثے میں اپو زیشن کا پلّہ بھا ری ہے اور بھاری رہے گا اگر اپوزیشن کا یہ خیا ل ہے کہ حکومت فا شسٹ ایجنڈا رکھتی ہے مخا لفت بر داشت نہیں کر تی، مخا لفین کو نیب اور دیگر ادا روں کے ذریعے ہرا ساں کرتی ہے تو اس کا نقصان اپو زیشن سے زیا دہ حکومتی پارٹی کو ہو گا فا شزم زیا دہ دیر نہیں چل سکتی کوئی فا شسٹ پار ٹی دوسری بار الیکشن نہیں جیت سکتی اگر اپو زیشن کہتی ہے کہ ملک میں اظہار رائے پر پا بندی ہے میڈیا پر سنسر شپ نا فذ ہے میڈ یا ہاوسز کو انتقام کا نشانہ بنا یا جاتا ہے تو اس کا نقصان بھی حکومتی پارٹی کو ہو گا میڈ یا پر پا بندیاں لگانے والی حکومتیں ہمیشہ اپنا ہی نقصان کر تی ہیں اگر اپو زیشن کہتی ہے کہ حکومت کو گرانا ضروری ہے تو اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں غیر مقبول حکومت کو آئینی مدت سے پہلے گرا یا گیا تو وہ سیا سی شہادت کا در جہ پا ئے گی انتخا بات میں پھر جیت کر آئے گی اس لئے مو جو دہ حکومت کوآئینی مدت پو ری کرنے دو، خا قانی ہند ابراہیم ذوق نے 100با توں کی ایک بات کہی ہے ؎
کسی بے کس کو اے بیداد گر ما را تو کیا مارا
جو خود مر رہا ہو اس کو اگر مارا تو کیا مارا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق