fbpx

اےسی دروش کا پرصد  شیشی کوہ میں ایس آر ایس پی چترال کےزیر نگرانی تعمیر ہونے والی بجلی گھر کا دورہ،کام کے میعار پر اطمنان کا اظہار

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) بجلی موجودہ دور کی ایک عظیم نعمت ہے جس سے طالبعلم بھرپور فائدہ اٹھا کر تعلیمی میدان میں ترقی کر سکتے ہیں۔ اور ہم جس دور میں پیدا ہوئے تھے اس وقت بجلی کی نعمت عام نہ تھی۔ اور ہمیں رات کو پڑھنے کیلئے لالٹین کی روشنی بھی میسر نھیں تھی۔ آج کل کے نوجوان لالٹین کے نام سے بھی آشنا نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ کمشنر دروش عبدالولی خان نے جرمن حکومت کی مالی معاونت بواسطہ پاکستان غربت مکاو فنڈ (پی پی اے ایف)، ایس آر ایس پی چترال کے زیر نگرانی بین الاقوامی معیار کے مطابق یونین کونسل شیشی کوہ کے گاوں پرصد میں تعمیر ہونے والے 125 کلوواٹ پن بجلی گھر کے دورے کے موقع پر وہاں پر موجود عمائدین سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس سے پہلے جب اسسٹنٹ کمشنر دروش اپنے اسٹاف تحصیلدار دروش عبدالسلام اور نائب تحصیلدار معراج عالم خان کے ساتھ جب پرصد پہنچے تو وی او نشیمن پرصد کے جنرل سیکٹری مہتاب جان، نظام الدین، سراج اور دوسرے معززین اور عمائدین پرصد کے علاوہ پی پی اے ایف کے سینئر مینجمنٹ ایگزیکٹو انجنیر محمد الیاس، ایس آرایس پی کے پراجیکٹ مینجر صلاح الدین صالح اور فیلڈ انجنیر محمد یونس نے معزز مہمانوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اے سی دروش نے اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے پراجیکٹ کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس آر ایس پی اور پی پی اے ایف کے زمہ داران سے مختلف سوالات پوچھے۔ اس پر پی پی اے ایف کے سینئر مینجمنٹ ایگزیکٹو محمد الیاس نے بتایا کہ کے ایف ڈبلیو کی مالی تعاون سے پی پی اے ایف رینیوایبل انرجی ایچ آر ای کا شعبہ بنوں لکی مروت وغیرہ میں شمسی توانائی اور بونیر، بشو اپر دیر، پرصد، گولین اور گازین یارخون میں پن بجلی کے منصوبوں پر کام کا آغاز کیا تھا جن میں زیادہ تر یونٹ کافی عرصہ پہلے مکمل ہوے ہیں اور لوگ بجلی کی نعمت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ بشو، پرصد، گولین اور گازین تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ ان چاروں یونٹس میں مشینری کی تنصیب کا کام چند دنوں میں مکمل ہوگا تو یہ یونٹس بجلی پیدا کرنا شروع کریں گے۔ اور پرصد کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھوں 15 جون تک متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایچ آر ای پروگرام کے تحت جتنے یونٹس بننتے ہیں یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے دوسرے روایتی انداز میں بننے والے یونٹس سے بلکل مختلف ہیں۔ اس میں بین الاقوامی معیاراوراسٹنڈرڈ کو برقراررکھنے کیلئے ایک مشہور کنسلٹنٹ “انٹگریشن” کے خدمات حاصل کئے گئے ہیں۔ اور ان یونٹس کی وارنٹی 40 سال تک ہے۔ اور مشینری بھی چائنہ سے درآمد کی گئی ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنرنے ان اقدامات کو سراہتے ہوے موقع پر موجود لوگوں کو بتایا کہ آپ لوگوں کو چاہیے کہ پی پی اے ایف اور ایس آر ایس پی کے خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ اوراپنے حصہ کا کام مکمل زمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ ادا کریں اور ان قومی اثاثہ جات کی حفاظت و نگرانی میں کوئی کسر نہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے میں دیر میں ایس آر ایس پی کے کام سے بخوبی واقف ہوں شہزادہ مسعودالملک کی قیادت میں یہ ادارہ غریب اور ضرورت مند افراد کی بنیادی ضروریات جیسے بجلی، پانی، رسل وسائل کی مشکلات کو دور کرنے میں پورے صوبے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا علاقہ اگرچہ کافی پسماندہ ہے اور مزید توجہ اور ترقیاتی کاموں کا مستحق بھی ہے لیکن قدرتی وسائل جیسے پانی، جنگلات، پہاڑ اور قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ ان وسائل کو بروئے کار لانے میں پی پی اے ایف اور ایس آر ایس پی کو مزید اس علاقے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور اس پروجیکٹ کے حوالے سے لوگوں کے جتنے بھی تحفظات اور جائز مطالبات ہیں ان کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ لوگ ادارے کی کارکردگی سے مطمعن ہوکر ادارے کے ساتھ مزید تعاون کرنے کو تیار ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اور ان کی پوری ٹیم ہر وقت ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے۔ جب بھی ان کی ضرورت ہوگی تو وہ ہر قسم کی مدد اور تعاون کیلئے حاضر ہو جائیں گے۔ آخر میں جب انہوں نے لوگوں سے پوچھاکہ وہ کھل کر اپنی بات بتا سکتے ہیں یا اداروں کے متعلق کچھ شکوہ شکایات ہیں وہ بھی بلا جھجک کہدیں تو تمام لوگوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ وہ سب جرمن حکومت، حکومت پاکستان ، پی پی اے ایف، انٹیگریشن اور خصوصا” ایس آر ایس پی اور شہزادہ مسعودالمک کے بہت زیادہ شکر گزار اور ممنون ہیں کہ انہوں نے ان کیلئے بین القوامی معیار کا ایک پن بجلی گھر بناکر ان پر احسان کیا۔

علاقے کے عمائدین نے اسسٹنٹ کمشنر دروش کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ ضلعی انتظامیہ کا واحد زمہ دار افسر ہے کہ انہوں نے پرصد کا دورہ کیا۔ اور پرتپاک انداز میں انھیں رخصت کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق