fbpx

درحقیقت(ملکی بقا قومی بقا )

تحریر: ڈاکٹر محمد حکیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بعض اوقات لوگوں کے کھوکھلے جذبات کو دیکھ کراور سن کر دل ودماغ پربوریت محسوس کرتا ہوں۔میں جب اپنی قومی تعلیم یافتہ حضرات کے تحریروں کو رسالوں اور فیسبک میں مطالعہ کرتا ہوں۔اور انکے ہاتھوں میں تھمائے موبائل کی قیمتی سیٹون کو گھماتے ہوئے دیکتھا ہوں تو مجھے لگتا ہے۔کہ میں دنیا کے سب سے ترقی یافتہ اور سب سےاسودہ حال ملک میں رہتا ہوں لیکن خدا اس گوگل کو ہدایت دے دیں کہ کبھی ہمارے حق میں بھی ہو۔میری بدقسمتی یہ کہ گوگل میرے راستےمیں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ ڈالر 148 کی ہوگئی والی بات مجھے بہت مایوس کرتی ہے۔اور اسی طرح قوم کے اکثریتی نوجوان طبقہ کی تحریروں سے مایوس ہوکر ان کے ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں کی طرح لگے ہوئے الفاظ بے ربط بے مقصد کو دیکھ کرمیں دلی اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں۔ جو کہ انگریزی میں ہوں یا اردو میں بحرکیف وزنی تو ضرور ہیں مگر فکر اقبال سے خالی ہیں۔
یقینَا ہم سب اس ملک خداداد کے باسی ہیں اسکی ترقی اور اسکی خوشحالی ہم سب کے لئے باعث افتخار ہے۔ہم میں سے ہر کوئی دن رات اس ملک کے کمزور معاشی و سفارتی صورت حال سے نالان ہے۔ خوف زدہ ہے۔ چشمیں اوردل ایک ساتھ اشکبارہیں۔اسی لئے ہماری مایوس قوم اتنی کسمپرسی میں اُمید کی آخری تیر تحریک انصاف کے کمین گاہ سے چلائی ہے۔اور توقع ہے کہ اس وقت شکار کرنے میں کامیابی یقینی ہوگی۔مگر نو مہینے تک اس کے کوئی ظاہری اثرات کہیں دور سے بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ پالیسی ساز نے ملک کو اندرونی اور بیرونی طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔اور ہم روز بروز آزمئشات میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب بھی آج تک اپنی ٹیم کے کھلاڑی چننے میں شک و شبہ کے شکار ہیں۔ پھر وزاراتوں کے لئے ایسے لوگوں کو چنناہے۔جو کہ قومی ادارون اور ان کے پیچیدہ امور کا تجربہ رکھتے ہیں اور نہ کوئی مسلہ پیش ہوجائے اس کو صلاح مشورے سے حل کرنے کی بصیرت اوراھلیت رکھتے ہیں۔ اس کا ایک ادننٰی سی مثال آجکل رونما ہونے والا محکمہ صحت خیبر پختونخٰوہ کا مسلہ ہے۔جو کہ ایک کمزور اور سیاسی بصیرت سے عاری وزارت کی عکاسی کرتا ہے۔کیونکہ سوشل میڈیا نے اس قوم کو اتنا برباد کیا ہوا ہے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں تبدیل کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑتا ۔اس لئے ملکی اصل اور حقائق پر مبنی حالات سے معاشرہ بے خبر رہتاہے۔ اس لئے قوم کو چاہئے کہ اس نازک مرحلے میں پھونک پھونک کر قدم رکھیں۔ کسی کی ذاتی تائدو تقلید کی بجائے ملکی سا لمیت اوربقا کو مقدم ومقدس سمجھیں۔ملکی بقا ہی بقائے قوم ہے۔میں نے شروع میں دو چیزون کا ذکر کیا تھا۔ ایک یہ کہ ہم محکمہ صحت کے موجودہ نئی اصلاحات کے بارے میں بلا تحقیق رائے زنی کرتے ہیں۔ اس سے ہم اجتناب کریں کیونکہ ایسا نہ ہو کہ فیسبک میں ہمارا گراف تہذیبی اور تمدنی طور پر مذید نہ گر جائے۔ویسے معاشی طور پر تو ہم کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔۔
آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ کوئی بھی ادارہ اپنے اصولوں پر کاربند ہوتا ہے۔بن اصول و ضوابط یہ ادارہ چل سکتا ہے اور نہ قوم اس کی خدمات سے مستفید ہوسکتی ہے۔اسی لئے میرا قوم سے مؤدبانہ التماس ہے۔کہ اپنی طرف سے ادارون کے مظبوط اصولون کی حمایت کرین۔اور مثبت رویہ اختیار کریں۔جس سے ملک اورقوم بڑی نقصان سے بچیں۔چونکہ موجودہ حکومت صوبہ کے مرکزی ہسپتالوں میں خدمات انجام دینےوالے ان ڈاکٹروں کی خدمات جو دوسرے جگہوں سے آکر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انکے پیدائشی علاقوں کو تبادلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اچھا اقدام ہے۔ہونا بھی اسطرح چاہئے۔کیونکہ یہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے۔کہ آ پ ان لوگوں کو دور علاقوں میں بیجھیں جہاں پر ٹکنکل لوازمات موجود نہ ہوں۔اور پھر ایک دفعہ قانون سازی کرکے اسے دوبارہ تبدیل کرنا پڑے۔
بجائے ایک ساتھ سارانظام درہم برہم کرنے سے بہتر ہے یہ کام مرحلہ وار کیا جائے۔اگر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے تو ہر ضلع میں یہ عمل شروع کیا جائے۔اچانک ایک بنی بنی بنائی نظام کو جڑ سے اکھاڑنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔دوسری ہم بات یہ ہے کہ اگر یقینًا حکومت ہسپتالوں کو شخصی کرنے جا رہی ہے ۔تو کیا یہ ادارے کامیابی سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوسکیں گے۔ کیونکہ دیہات کے لوگوں کی کوئی مناسب روزگار نہیں ہے۔کہ وہ اتنا فیس ادا کرسکیں جس سے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے تنخٰواجات اور پھر آپریشین و آدویات کے اخراجات نکل سکیں۔اگر ایسا ہوتا تو پھر پشاور کے بڑےبڑے تدریسی ہسپتالوں میں کیوں شور برپا ہے۔ دوسری اہم بات اگر MTI کے نظام سے حکومت کو فائدہ ہوا ہے۔ اس سے حکومت کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔اور تمام سٹاف کے تنخٰوہ جات بھی MTI کی آمدن سے ادا کی جاتی ہیں۔اور پھرغریب عوام پر بوجھ بھی نہیں ہے۔اس تفصیلات کو اورگزشتہ 6 سالوں سے چلنے والے نظام کی کار گزاری قوم کے سامنے لائی جائے۔ پھر قوم کارگزاری کی بنیاد پر گاؤں کے لیول تک اسے خوش آمدید کہے گی۔
حکومت سب سے پہلے تمام امورکو مدنظررکھ کر جسمیں ملکی بقاکی بنیاد پر پروگرام اور طویل المدتی منصوبے ترتیب دے دیں۔تاکہ آنے والی حکومتیں ان منصوبوں ہرکاربند رہیں۔اور موجودہ حکومت کے منصوبوں کو برقرار رکھنے پر مجبور ہوجائیں۔کیونکہ ہماری قوم اتنا امیر بھی نہیں ہے جس کی آمدن پہ کوئی ادارے چل سکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
إغلاق