fbpx
تازہ ترینعبدالواحد شاہی

قرآنِ مجید اور علا مہ اقبالؔؒ

…………..تحریر: عبدالواحد شاہیؔ………

اب تک کے اردو شعراء میں سب سے زیادہ اقبالؔ پر لکھا گیا ہے۔یہ انفرادیت صرف اقبالؔ کو حاصل ہے کہ اُن پر لکھی گئی کتابیں ”اقبالیات“ کے نام سے دنیائے ادب میں الگ پہچان رکھتی ہیں۔

اقبالؔ پر لکھنے والے سبھی اِس بات پر متفق ہیں کہ اقبالؔ کی شاعری قرآنِ مجید کی تشریح و تفسیر ہے۔ لکھنے والوں نے اِس موضوع پر اتنا لکھا ہے اِس دشتِ بے آب کو گلہائے رنگ رنگ کا گلستان بنا دیا ہے۔ اب میں بھی اِس موضوع پر خامہ فرسائی کر کے انگلی کٹا کے شہیدوں میں نام لکھوانے کی جسارت کر رہا ہوں۔

اقبالؔ اور قرآنِ مجیدکا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ والد شیخ نور محمد کی تربیت کے اثرسے وہ بچپن ہی سے باقاعدگی کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے تھے۔اُن کی تلاوتِ کلامِ پاک کاطریقہ نو عمری سے ہی اصولی تھا۔ یعنی وہ قرآنِ پاک کی صرف لفظی تلاوت پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ آیاتِ کریمہ کے باطن میں اُتر کر معنی و مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
کلامِ پاک کی اِس اصولی اندازِ تلاوت کی تلقین دراصل اُن کے والد کی طرف سے تھی، جس کا تذکرہ اقبالؔ نے ۴۳۹۱ء کو سفرِ افغانستان سے واپسی پر رفیقِ سفر سید سلیمان ندوی سے یوں کیا تھا:
”جب میں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا تو نمازِ فجر کے بعد قرآنِ مجید کی تلاوت میرا معمول تھا۔ ایک روز حسبِ معمول میں تلاوت میں مصروف تھا کہ والد صاحب میرے پاس سے گزرے۔ فرمایا: کبھی فرصت ملی تو میں آپ کو ایک بات بتاؤں گا۔ کچھ مدّت بعد اسی طرح مسجد سے آکر میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں تلاوت کرتے کرتے رک گیا۔ وہ فرمانے لگے: تم کیا پڑھ رہے ہو؟ مجھے اُن کے اس سوال پر تعجب ہوا، اور کچھ ملال بھی، کیوں کہ انہیں معلوم تھاکہ میں قرآنِ مجید کی تلاوت کر رہا ہوں۔ بہرحال میں نے بڑے ادب سے جواب دیا: قرآنِ مجید۔کہنے لگے: تم جو کچھ پڑھتے ہو اسے سمجھتے بھی ہو؟کہا: کیوں نہیں، کچھ نہ کچھ سمجھ لیتا ہوں۔والد صاحب خاموش ہوئے اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ میں سوچتا رہا: اس سوال جواب کا مقصد کیا تھا؟
چند دن گزر گئے۔بات آئی گئی ہو گئی۔ اس واقعے کو چھٹا روز تھا۔ حسبِ معمول میں تلاوت کر رہا تھا کہ والد صاحب کمرے میں آئے، اور جب میں نے تلاوت ختم کر لی تو مجھے بلایا اور اپنے پاس بٹھا کر بڑی نرمی سے کہنے لگے: بیٹے!قرآنِ مجید وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس پر اِس کا نزول ہو۔ جب تک تم یہ نہ سمجھو کہ قرآنِ مجید تمہارے قلب پر بھی اسی طرح اتر رہا ہے جیسے رسول اللہﷺ کے قلبِ اقدس پر نازل ہوا تھا تو تلاوت کا مزہ نہیں اور تم قرآنِ مجید کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے ہو۔اگر تم تلاوت اس طرح کرو، جیسے یہ تم پر نازل ہو رہا ہے یعنی اللہ خود تم سے ہم کلام ہے تو یہ تمہاری رگ و پے میں سرایت کر جائے گا“۔
”بالِ جبریل‘‘کا یہ شعر اقبالؔ نے اسی واقعے کی یاد کو حیاتِ ابدی دینے کی غرض سے کہا ہے:
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی، نہ صاحبِ کشاّف
اقبالؔ کی زندگی، اُن کے کردار و افعال اوراُن کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے والد محترم کی اِس تلقینِ خاص پر من و عن عمل کیا۔
اقبالؔ نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے۔وہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے اور سب سے مقبول اردو شاعر ہیں۔ بحیثیتِ فارسی شاعر اُن کے مقام و مرتبے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک روایت کے مطابق آج تک برّصغیر میں ”جاوید نامہ“ کے پائے کی کتاب تحریر نہیں ہوئی ہے۔
مولانا روم کی مثنوی کے متعلق عارف جامی ؔنے کہا تھا:
مثنویئ مولویئ معنوی
ہست قرآن در زبانِ پہلوی
اقبالؔ کو رومیئ ثانی کہا گیا ہے۔ انھوں نے نہایت جامع، فصیح اور دلکش انداز میں مطالبِ قرآن کو نظم کیا ہے،لہذا اس اعتبار سے کلامِ اقبالؔ کو بجا طور پر”ہست قرآن در زبانِ مشرقی“ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں اِس حوالے سے کلامِ اقبالؔ کا مختصر مدلّل جائزہ ملاحظہ فرمائیے۔

مِلکیتِ زمین کے متعلق قرآنِ مجید میں بیشتر مقامات پر واضح انداز میں آیا ہے کہ زمین کا مالک اللہ ہی ہے، مثلاََ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے: ”کیا تم اپنی فصلوں پر غور کرتے ہو؟ اُن کو تم نشونما دیتے ہو یاہم اُنھیں کھیتوں میں لہلہاتے ہیں؟ تم جو پانی پیتے ہو،اِس پر کبھی غور بھی کرتے ہو؟ بادلوں سے اس پانی کو برسانے والے تم ہو یا ہم ان بادلوں کو برساتے ہیں؟“۔
اب ملاحظہ فرمائیے، اقبالؔاِن آیاتِ مبارکہ کی تشریح و تفسیر کس قدر فصیح اور دلکش انداز میں نظم کرتے ہیں۔ طرزِ ادا بھی قرآنِ مجید ہی سے مستعار لیتے ہیں:
پالتا ہے بیج کو مٹّی کی تاریکی میں کون؟ کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے صحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار؟ خاک یہ کس کی ہے؟کس کا ہے یہ نورِ آفتاب؟
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیب؟ موسموں کو کس نے سکھلایا ہے خوئے انقلاب؟
دہ خدایا، یہ زمین تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں تیری نہیں، میری نہیں
اِسی طرح روئے زمین پر حاکمیتِ اعلیٰ کے متعلق قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر واضح انداز میں آیا ہے کہ خالقِ کائنات ہونے کی بنا پر اللہ تعالیٰ ہی زمین کے حاکمِ اعلیٰ ہیں۔ایک جگہ ارشاد ہوا ہے:”حاکمیتِ اعلیٰ صرف خدا کے لیے ہے“۔ اقبالؔ ایک شعر میں اِس ارشادِباری تعالیٰ کو نہایت بلیغ انداز میں یوں نظم کرتے ہیں:
سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی باقی بتانِ آزری
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:”رسولِ اکرمﷺ کے ساتھی کفار کے مقابلے میں بہت شدید مگر آپس میں بے حد نرم دل اور نرم خو ہیں“۔
اقبالؔ کے ہاں ایک سے زائد مقامات پر اِس آیتِ مبارکہ کی خوبصورت تفاسیر منظوم شکل میں ملتی ہیں، جیسے:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
اگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزالِ تاتاری
اقبالؔ مذکورہ آیتِ کریمہ کے مضمون کو کھول کھول کر بیان کرتے ہوئے مسلمان کو تلقین کرتے ہیں:
مصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبت میں حریروپرنیاں ہو جا
گزر جا بن کے سیل و تند رو کوہ و بیاباں میں
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
قرآنِ مجید کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب نورِتوحید سے دنیا کا کونا کونا منوّر ہو جائے گا۔ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”مُعاندین چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہیں گے“۔
ملاحظہ فرمایئے اقبالؔ اِس مضمون کو ایک شعر میں کتنے بہترین انداز میں نظم کرتے ہیں:
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
لفظ ”اتمام“ کی موزونیت قابلِ غور ہے، قرآنِ مجید ہی سے مستعار لیا گیا ہے۔ متعلقہ آیتِ مبارکہ میں یہ لفظ یوں آیا ہے:”واللہُ مُتِمُّ نُورہ“۔

قانونِ الٰہی ہے کہ انسان کو دنیا میں ایمان اور تقویٰ کی بنیاد پر ہی بلند درجہ عطا کیاجاتاہے۔ قرآنِ مجید میں ایک سے زائد مقامات پر آیا ہے کہ اہلِ زمین میں برتری مومن کا ہی حق ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے:”اگر تم مسلمان ہو تو تم ہی کو بلندی حاصل ہوگی“۔ اِس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کیے،اُن سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اُنہی کو زمین میں خلافتِ الہٰی دی جائے گی، جیسا کہ اُن سے پہلے لوگوں کو دی گئی“۔
اب زرا ملاحظہ فرمائیے اقبالؔ ایک ہی شعر میں اِس قانونِ الٰہی کو ایجاز کے ساتھ فصیح انداز میں یوں نظم کرتے ہیں:
سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
دوسرے مقامات پراِس سے بھی زیادہ واضح اور دلکش انداز میں انھوں نے اِس مضمون کو نظم کیا ہے، مثلاََ:
جہاں تمام ہے میراث مردِ مومن کی
مرے کلام پہ حجّت ہے نکتۂ لولاک
عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث
مومن نہیں تو صاحبِ لولاک نہیں ہے
قرآنِ کریم میں ایک مقام پرحضرت ابراہیمؑ اور اُن کے فرزند حضرت اسماعیلؑ کا مکالمہ بیان ہوا ہے۔ جب ابراہیم ؑ پنے فرزند کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ:”اے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ کہو اب تمہارا کیا خیال ہے؟“تو فرزند بے تامل برجستہ جواب دیتے ہیں:”ابّا جان!آپ کو جو حکم ملا ہے اُس پر عمل فرمائیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے“۔
ملاحظہ فرمائیے اِس واقعے میں چھپے ایک پیغام کو اقبالؔ ایک شعر میں کیسے بلیغ انداز میں نظم کرتے ہیں:
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی
درجہ بالا سطور میں آیاتِ قرآنی کی روشنی میں کلام ِ اقبالؔ کے نہایت قلیل حصّے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حق یہ ہے کہ اقبالؔ کا تمام کلام، اُن کے تمام تصوّرات و افکار کا ماٰخذ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوّیﷺ ہے۔
علاوہ ازیں اِس مختصر تجزئیے میں دلائل کے طور پر اقبالؔ کے اردو اشعار ہی پیش کیے گئے ہیں،حالانکہ اُن کا بیشتر کلام زبانِ فارسی میں ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کے افکارو تصوّرات اردو کے مقابلے میں زبانِ فارسی میں بہترانداز میں بیان ہوئے ہیں۔ اقبالؔ خود بھی اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے زبانِ اردو کے مقابلے میں فارسی کو زیادہ مناسب اور موزوں سمجھتے تھے،اور وہ اِس کا اقرار بھی کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ برّ ِصغیر کے مقابلے میں اقبالؔ کو اُن ممالک میں زیادہ قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جہاں زبانِ فارسی رائج ہے۔
بہرحال کلامِ اقبالؔ فارسی میں ہو کہ زبانِ اردو میں قرآنِ مجید اور تعلیماتِ اسلامی کوہی اپنا محورو مرکزبنا کر انہی کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔
اقبالؔ اپنے دور کے مسلم اُمّہ کی تنزّلی باالخصوص برّ ِصغیر کے مسلمانوں کی تباہ حالی سے سخت رنجیدہ اور نالاں تھے اور تا دمِ مرگ یہی کیفیت رہی:
بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
وہ جب اپنے دور کے غلام اور خستہ حال مسلمانوں کا اُن کے جہاں گیر اور جہاں دار آبا سے موازنہ کرتے ہیں تو انہیں اپنے دور کے مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجہ صاف نظر آنے لگتی ہے:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
اقبالؔ اسلام کو آفاقی مذہب سمجھتے ہیں۔اُن کے خیال میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانیت کی مشکلات اور مسائل کا حل صرف قرآنِ مجید میں موجود ہے۔قرآنِ کریم پرعمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور اہلِ دنیا فلاح و نجات اور مسرّت و طمانیت حاصل کر سکتے ہیں:
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است
چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق