fbpx

ترش و شیرین….سوشل میڈیا یا گالیوں کا اکھاڑہ 

……. نثار احمد ………….
      گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف چترال نے سوشل میڈیا پہ پارٹی موقف کی منظم انداز میں تشہیر و تبلیغ کے لئے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کا اعلان کر دیا. اس ٹیم میں چترال کے طول و عرض سوشل میڈیا میں پارٹی کے کے لئے سرگرم چیدہ چیدہ نوجوان ایکٹوسٹ کے اسماء گرامی ڈالے گئے ہیں. نوجوانوں میں انتہائی مقبول سماجی ویب سائٹ فیس بک ٹیم کی ذمام ِ قیادت تھوک کے حساب سے پوسٹس اپنی وال کی زینت بنانے والے قاری میر فیاض کے سپرد ہوئی ہے. قاری صاحب تحریک انصاف علماء ونگ پنجاب کے نائب صدر بھی ہیں. اسی طرح ٹوئٹر پر افغان رضا کو نگران بنا کر بیٹھایا گیا ہے.
بک فیس بک ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت دوسرے برقی ابلاغی ٹُولز کے لئے پی ٹی آئی کی طرف سے مختلف فعال کارکنوں کی باقاعدہ نامزدگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی اپنے موقف، کارگردگی اور پالیسیس کو ہر فرد تک پہنچانے میں نہایت سنجیدہ ہے.  اگرچہ قبل ازیں جے یو آئی بھی پشاور میں سوشل میڈیا کانفرنس منعقد کر کے سوشل میڈیا کو وقت دینے والے ورکرز کو سوشل میڈیائی محاذ پہ مورچہ زن رہنے کا ٹاسک دے چکی ہے جس میں چترال سے وابستہ جے یو آئی کے چند نوجوان کارکن بھی شامل تھے تاہم چترال کی حد تک اس کانفرنس کے اثرات تاحال پردہ ء خفا میں ہیں.
دور ِ حاضر کے ابلاغی زرائع میں سوشل میڈیا کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس دور کو “سوشل میڈیا” کا دور کہنا کسی بھی منطق سے غلط نہیں ہو گا. آج کل تقریباً ہر شخص کے پاس نہ صرف سمارٹ فون ہے بلکہ وہ فیس بک اور وہاٹس ایپ کا استعمال بھی ضرور کرتا ہے. اس کے علاوہ نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ سمجھے جانے والے اہل علم ساتھ ساتھ ٹوئٹر بھی استعمال کرتے ہیں.
گو کہ اعتبار و بھروسہ کی دنیا میں فیس بک ٹوئٹر کے مقابلے میں کافی نیچے ہے. جتنا رطب و یابس مواد فیس بک میں گردش میں رہتا ہے ٹیوٹر میں اُس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا. لیکن رسائی و استعمال کے اعتبار سے فیس بک ٹوئٹر کو پیچھے چھوڑ کر کافی آگے نکل چکا ہے. پاکستان میں سب سے زیادہ صارف بھی فیس بک ہی کے ہیں. بالخصوص چترال جیسے دور اُفتادہ علاقوں میں ٹوئٹر استعمال کرنے والے بہت کم ہیں.
چودہ سے سولہ گھنٹے کروڑوں پاکستانیوں کے زیر ِ تصرف رہنے والا فیس بک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پاور فُل ٹول ہے جو کئی بار مین اسٹریم الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو دن میں تارے دیکھنے پر مجبور کر چکا ہے. وہ زمانہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے جب کسی کو کانوں کان خبر پڑنے سے پہلے ہی بڑے بڑے میڈیا ہاوسز مال پکڑ کر کسی خبر کو دبائے رکھنے یا بری طرح پھیلانے کا قبیح فیصلہ بند کمروں میں سرانجام دیا کرتے تھے.
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف سوشل میڈیا بڑے بڑے میڈیا ہاوسز کی اجارہ داری کو کھلم کُھلا چیلنج کرکے برسرِ میدان اُن کا منہ چڑا رہا ہے وہاں دوسری طرف بہت سارے مسائل کا سبب بھی خود سوشل میڈیا بن رہا ہے. بالخصوص ٹھیٹھ چترالی مزاج و ثقافت کا بھرم رکھنے والے مجھ جیسے قشقاریوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کا ہاضمہ جدید چیزیں ہضم کرنے کے معاملے میں سخت کنجوس واقع ہوا ہے. بہت ساری چیزیں ہم نگل کر ہضم کرنے سے پہلے ہی اگل لیتے ہیں. سماجی رابطوں کی اس بہترین سائٹ کو بھی ہم نے ایسا ہی ٹول بنا کر چھوڑا ہے کہ جسے ہضم کرنا ہمارے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے. اس پلیٹ فارم سے باہمی رابطے بڑھانے، خیالات کی ترسیل، مفید اطلاعات کے پھیلاؤ، ایک دوسرے کو سمجھنے اور اختلافی نقاط ِ نظر کو باقی رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا طریقہ و سلیقہ سیکھنے کی بجائے ہم اِسے فضول جملے بازی، فکری تخریب کاری، وقت کا ضیاع اور باہمی فاصلے بڑھانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں.
ہمارے یار دوستوں کی ایک بڑی تعداد یہی سمجھتی ہے کہ شاید مارگ زگر برگ صاحب نے فیس بک تخلیق ہی سیاسی، نسلی، مسلکی اور مذہبی مخالفین کی کان کھینچائی اور کردار کشی کے لئے کی ہے. تصاویر میں ایڈیٹنگ اور توڑ مروڑ کرکے مخالف کیمپ کے لیڈروں کی تضحیک و تمسخر کو اس میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی بہتان طرازی، الزام تراشی اور بدگوئی کو کوئی بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے.
 شروع شروع میں یہی خیال کیا جاتا تھا کہ سیاسی مخالفین کی نان اسٹاپ کردار کشی، میڈیا ٹرائل اور اُن کی مٹی پلید کرنے کے معاملے میں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیائی ورکرز فائق درجے پر فائز ہیں اب معلوم ہو رہا ہے کہ ماشاءاللہ اِس “کارخیر” میں جے یو آئی کے سوشل میڈیائی ورکرز بھی پیچھے نہیں ہیں.  اگر پی ٹی آئی کا ایک ورکر مولانا فضل الرحمن کے لئے کسی بھی قسم کے ناروا و نازیبا الفاظ کے استعمال کو اپنا پیدائشی اخلاقی حق سمجھتا ہے تو جے یو آئی کا کارکن بھی عمران خان پر اخلاق سے گرا ہوا بازاری جملہ کَسنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا. نتیجتاً اردو میں نئی متعارف ہونے والی صنف “گالیاتی ادب” سے فیس بک صارفین کو مفت میں محظوظ ہونے کا موقع سرفیس بک ملتا رہتا ہے.
  ایک باشعور شہری ہونے کے ناتے کوئی بھی شخص نہ صرف نواز شریف، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن سمیت کسی بھی سیاستدان کی کارگردگی کا بے رحم احتساب کر سکتا ہے بلکہ بھرپور انگشت نُمائی کرکے پارٹی پالیسیوں پر بھی سوال کھڑا کر سکتا ہے لیکن تنقید کے نام پر تنقیص کا ارتکاب بڑا گناہ ہے . ظاہر ہے تنقید و احتساب اور تنقیص و تضحیک میں باریک فرق ہوتا ہے. ایک طرف اسلام اگر تنقید کی اجازت دیتا ہے وہاں دوسری طرف تنقیص و تضحیک کی سخت مذمت بھی کرتا ہے. اسلامی تعلیمات میں تنقیص و تضحیک، نام بگاڑنے اور بہتان طرازی کی حوصلہ شکنی جابجا کی گئی ہے.
اِن دو جماعتوں کے ذکر کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ باقی جماعتوں والے سارے کے سارے دودھ کے دھلے حاجی ثناء اللہ ہیں. چونکہ یہ دو جماعتیں تنقیص و تشنیع کو باقاعدہ ایک ارٹ سمجھ کر چوبیس گھنٹے فیس بک پر باہم برسرِ پیکار اور یاوہ گوئی میں مصروف ِ عمل رہتے ہیں اس لئے اِن کا ذکر بطورِ خاص ہوا ہے. ورنہ ہر خواندہ و ناخواندہ کی فیس بک تک رسائی کے بعد اس حمام میں کون کس درجے کا ننگا ہے ہرگز محتاج ِ تحریر نہیں ہے.
سامنے کا کڑوا سچ یہی ہے کہ جب فیس بک پر پڑے رہنے کے وجہ سے کتاب بینی کی فرصت نہ ہو، سیاسی و تاریخی واقعات کا درست تناظر زہنوں میں نہ ہو اور ٹھوس معلومات کی بجائے سنی سنائی اناپ شناپ سے کام چلانا پڑ رہا ہو تو پھر لوگوں کے پاس آپس میں تبادلہ ء خیال نہیں، بلکہ “تبادلہ ء گالم گلوچ” ہی بچ جاتا ہے. اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں بچتا.
تحریک انصاف کی طرف سے قاری فیاض کو فیس بک لیڈ ملنے کے بعد ہم اُن سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر کے فیس بک کے شائستہ، معقول، مثبت اور مفید استعمال میں نوجوانوں بالخصوص پی ٹی آئی ٹائگرز کی رہبری کریں. اپنے زیر ِ اثر چترالی نوجوانوں کی مثبت خطوط پر تربیت کرتے ہوئے اُن کے زہن میں یہ بات بیٹھا لیں کہ “مذاق اُڑائے، گالی دئے اور نام بگاڑے بغیر بھی دوسروں کی کمزور پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے. دوسروں کی تنقیص و تضحیک کے بغیر بھی اپنی پارٹی کی اچھی کارکردگی کو اجاگر اور مخالف پارٹی کی ناقص منصوبہ بندی کو طشت از بام کیا جا سکتا ہے. اور یہ کہ تھوڑا بہت لکھنے کے لئے بہت زیادہ پڑھنا پڑتا ہے”.. ظاہر ہے کہ خربوزا خربوزے کو دیکھ کر ہی رنگ پکڑتا ہے اگر نوجوانوں میں سب سے زیادہ مقبول جماعت تحریک انصاف سے اس نیک کام کا آغاز ہو جائے تو تمام نوجوانوں کے حق میں اس کے مثبت مفید نتائج و اثرات مرتب ہوں گے.
 بہر کیف سوشل میڈیا میں جب ساری جنگ ہی بے بنیاد پروپیگنڈے  کی بنیاد لڑی جا رہی ہو تو ایسے میں اصلاح ِ حال کی توقع رکھنا بھی مشکل امر ہے.. دیکھتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کو عقل کب آتی ہے اور کب یہ ” شعور” جیسی انمول چیز سے مالا مال ہوتے ہیں.
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق