fbpx

میثاقِ تحفظِ پاکستان “

……………تحریر: محمد کوثر کوثر ایڈوکیٹ………..

 1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان کے موقع پر خوں آشام بنگال کے عنوان سے شاعر انقلاب جناب حبیب جالب مرحوم نے شاید باقی ماندہ پاکستان کے لیے یہ اشعار فرماۓ ہیں۔ محبت گولیوں سے بو رہے ہو وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو یہ اشعار ہمیں آج بھی دعوت فکر دے رہے ہیں۔ آج ہم پاکستانی ایک ایسے ماینڈ سیٹ رکھنے والی قوم بنتے جارہے ہیں کہ ایک دوسرے سے فکری یا علمی یا سیاسی یا انتظامی اختلافات کو دشمنی یا کفر یا غداری کا لیبل لگانے کی حد تک تک لے جانے سے دریغ نہیں کرتے۔ ہم یہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ان رویوں کے نتایج کتنے خطرناک نکل سکتے یں۔ آج حال یہ ہے کہ ہم اسی بغض و عناد اور ایک دوسرے کو نہ ماننے کی ضد میں دشمن کے مقاصد کو کامیاب بناتے جارہے ہیں۔ آج قومی سیاسی پارٹیوں کے ذہنوں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہا ہے کہ شاید خدانخواستہ فوج انکا مخالف ہے تبھی مختلف سیاسی پارٹیاں کبھی خلاٸی مخلوق تو کبھی اسٹبلشمنٹ یا بوٹ والے کے القابات ایجاد کیے اب تو کھلم کھلا فوج کا براہ راست نام لیکر گفتگو کیا جانے لگا ہے۔ یہ انتہاٸی خطرناک صورتحال ہے۔کبھی کبھار س تصور ہی سے رونگٹھے کھڑے ہوتے ہیں ۔ہم خود اپنے دشمن کے ھاتھ مظبوط کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ ذراسوچیے کہ مسلم لیگ ن پی پی پی, مولانا فضل الرحمن دیگر مذہبی سیاسی علاقاٸی اور لسانی جماعتوں کے سپوٹرز کو ملا لیں تو لگ بھگ چار کروڑ ووٹرز بنتے ہیں اوران ووٹرز کو گھرانوں میں تقسیم کریں تو لگ بھگ 19کروڑ بنتے ہیں اور انہی 19 کروڑ کے بچے دس لاکھ کے اسی فوج میں ہماری تحفظ کےخاطر اپنے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔اب یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہوں تو پھر باقی کیا بچتا ہے؟دوسری جانب سوشل میڈیا ودیگر ذرایع سے یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اتنے کروڑ عوام اپنے ہی سیکیورٹی فورسز کے خلاف شمشیر بے نیام ہیں۔ایسے صورتحال میں خود ہی تصور کریں کہ انجام گلستان کیا ہوگا؟۔۔ذرا سوچیے۔۔۔ ہمارے افواج ہمارے عزت و ناموس کے محافظ ہیں انکے بجاۓ کیا انڈین فورسزمیرے عزت وناموس کے محافظ ہوسکتے ہیں؟ میرے افواج میرے جان ومال و اولاد کے محافظ ہیں کیا یہ ممکن ہے کہ امریکی یا روسی فوج میرے جان مال واولاد کے محافظ ہوں؟۔۔۔ ذرا سوچیے۔۔۔اختلاف راۓ ھوسکتا ہے مگر اس پر غداری یا کفر کے تمغے دینا کہاں کا انصاف ہے؟ہم سب کو اپنی یہ ماینڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا۔فوج اچھی ہے یا بری ہے مگر ہے تو اپنی نا۔۔۔کوٸی اسراٸیل کی فوج تھوڑی ہے۔ہمارے زخموں پہ مرہم ہمارے ہی محافظ رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں حالات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہم کہیں انجانے میں دشمن کی جال میں تو نہیں پھنس چکے؟ آج دشمن گھر میں گھس کر ہمیں مارنے پہ تلا ہوا ہے۔دشمن باہر بیٹھ کے گھر کےاندر اپنوں کو ہی آلہ کار بنا کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا جارہا ہے۔ افسوس کہ یہ ہے کہ ۔ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت سے مسلے کا حل نکالنے کے بجاۓ ایک دوسرے پر الزام تراشی اور کفر یا غداری کے خطابات سے نوازتے ہوئے معاشرے میں دہشت گردی یا غنڈہ گردی کو فروغ دے کر ہم اپنے ہی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ بلاشبہ ہمارے مقتدر حلقوں اور تمام سیاسی و مذہبی قیادتوں کی ان غیرسنجیدہ رویوں کی وجہ سے ہم خود اور ہمارے آنے والے نسل کی زندگی غیر محفوظ بنتی جارہی ہے۔ کیا ریاست کے تمام کرتے دھرتے “میثاق تحفظ پاکستان”کےعنوان پہ ایک جگہ بیٹھ کے بہتر فیصلے پہ متفق نہیں ہوسکتے تاکہ یہ تو معلوم کیا جاسکے کہ آخر بنیادی مسلہ کیا ہے۔ سیاسی قیادت قوم کا ترجمان ہوتا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قایدیں اس نکتے پر متفق ہوں اوراس تاثر کو دور کریں۔سیاسی قیادت فوج کے اعلی قیادت کے ساتھ یا فوجی قیادت ایک قدم آگے بڑھ کے تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیں تو عجب نہیں کہ ھم بحیثیت قوم 70% مسائل اسی دن میں حل کرسکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ریاست کے تمام قوتوں کو ایک پیج پہ آنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ کیونکہ بحیثیت ایک شہری کے مجھے یہ غم کھایا جارھا ہے کہ کیا اس ملک میں میں اور میری نسل اسی کسمپرسی بےیقینی اور خوف کے سائے میں زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا ھوئے ہیں؟ کیا میری طرح میری نسل نو کو بھی ناانصافی ظلم اور مشکلات میں غلامی سے بدتر زندگی مقدر میں ملے گی؟ کیا ایک فلاحی ریاست میں امن وسکوں سے جینے کا حق مجھے حاصل نہیں ہے؟ ہم آج بقول شاعر مشرق غلامی سے بدتر ہے یقینی والی زندگی گذار رہے ہیں۔ہر آنے والا دن ایک نئی مصیبت اور نیا طوفان لیے طلوع ہوتا ے۔کیا یہ تاریک صبحیں میرے اور میرے نسل نو کو ورثے میں ملینگے؟آخر کب تک قوم اور فوج اپنے ہی لاشوں کو کندھا دے کر دفناتے رہینگے۔؟ سوچۓ۔۔۔اپنے لیے اور اپنی نٸی نسل کے لیے۔۔۔ سوچۓ اس ملک کے لیے ۔۔۔۔سوچۓ اپنی آزاد دھرتی پاکستان میں مطمٸن زندگی گذارنے کے لیے۔۔۔۔ذرا سوچۓ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق