fbpx

صدا بصحرا……..وطن کا ایوان بالا

وطن عزیز پاکستان کا ایوان با لا آج کل قوم کی اُمیدوں کا محور بن چکا ہے قو می اسمبلی پر ”اقلیت کے غلبے“ اور ذرائع ابلاغ پر سنسر شپ کی پا بندیوں کے بعد صرف ایوان با لا یا سینیٹ ایسا ادارہ رہ گیا ہے جو پا کستان کے مظلوم عوام کی تر جما نی کر سکتا ہے اور کر تا بھی ہے عد لیہ میں 3ججوں کی اضا فی آسا میاں تخلیق کرنے کے لئے قانون سازی کی آڑ میں ججوں پر مزید پا بندیاں لگا نے کا قا نون قو می اسمبلی سے ڈنڈے کے زور پر منظور کرا یا گیا تھا جب یہ بل ایوان با لامیں آیا تو سینیٹروں نے کثرت رائے سے اس قانون کو مسترد کردیا حا لانکہ سینیٹ کی متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کو با ہر سے ڈکٹیشن دیکر بل پر دستخط کرائے گئے تھے اس طرح اعلیٰ عدلیہ کے 3معزز،ایماندار اور صاحب کر دار ججوں کے خلاف ریفرنس کے ذریعے انتقامی کاروائی کے خلاف مذمتی قرار داد بھی ایوان بالا نے منظور کی اس سے پہلے وزیر ستان کے عوام کی مشکلات اور ان کے مطا لبات سننے کیلئے منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پارلیمنٹ ہاؤس بلا یا ان کے مطا لبات، خد شات اور معروضات کو سن کر مکا لمے کے ذریعے وزیر ستان کے نئے اضلاع میں لو گوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات دینے کی سفارش کی چار سال پہلے گھر وں سے نکا لے جا نے والے لو گوں کی با عزت واپسی اور جن بے گنا ہ لو گوں کے گھر، پلا زے، دکانات، کاروباری مراکز اپریشن میں مسمار کئے گئے ان کو معاوضہ دے کر نئے سرے سے کاروبار شروع کرنے کے قابل بنا نے کی سفا رش کی گئی مگر ایوان با لاکی سفارشات کو یہاں کوئی وقعت اور اہمیت نہیں دی جاتی وزیر ستان میں انسانی حقوق کا مسئلہ بہت گھمبیرہے اس کو سر ی لنکا کی تامل آبادی کے مسا ئل سے بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے سری لنکا کی فوج نے مئی 2009ء میں ٹامل ٹائیگر ز کے لیڈر پر با کھرن کو قتل کر کے 26سالہ خا نہ جنگی کا خا تمہ کر دیا اور LTTEکے دشہت گردوں کو قومی دھارے میں لا کر با عزت زندگی کی سہو لتیں فراہم کیں وزیر ستان کے مسئلے کو انڈو نیشیا میں بالی دھما کوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حا ل سے بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے یہ 2002کا واقعہ ہے انڈو نیشیا کے مشہور سیا حتی مقام با لی میں دہشت گردوں کے گروہ نے ایک نائٹ کلب پر حملہ کر کے 200افراد کو قتل اور 200سے زائد افراد کو زخمی کر دیا اس وا قعے کے مجرموں تک رسائی کے لئے قانون حر کت میں آیا تو دہشت گردوں کا نیٹ ورک پکڑا گیا اس نیٹ ورک میں 6000سے زیا دہ تر بیت یا فتہ دہشت گردوں کی نشان دہی کی گئی چند بندے ملک سے با ہر تھے باقی سب کو گرفتار کیا گیا گرفتاری کے بعد پوچھ گچھ ہوئی 2006ء میں دہشت گردوں کے سامنے دو آپشن رکھے گئے سخت سزائیں یا مصا لحا نہ رویے پر آما دگی 100دہشت گردوں کو سزائیں دی گئیں باقی سب نے مصا لحا نہ رویے پر اماد گی ظا ہر کی ان کو 3گروہوں میں تقسیم کیا گیا پہلا گروہ نو جوا نوں کاتھا ان کو بحالی کے مر اکز میں تر بیت دے کر ان کی عمر اور تعلیم یا پیشے کی منا سبت سے سر کاری ملا زمیتیں دی گئیں فوج اور پو لیس میں بھی ان کو کھپا یا گیا تاکہ ان کی تر بیت سے مثبت فائدہ اُٹھا یا جا سکے ادھیڑ عمر لو گوں کو کا رو بار کے لئے گرانٹ فراہم کئے گئے جو کا روبار کرنے پر اما دہ نہیں ہوئے انکو عمر بھر کے لئے تیار گھر اور سو شل سیکیورٹی دیدی گئی ان کے گھریلو اخراجات،بچوں کی تعلیم، علاج معا لجے کا انتظام حکومت نے اپنے ذمے لے لیا اوراس طرح 4سال بعد انڈ ونیشیا ء میں کوئی دہشت گر د نہیں رہا آج وزیرستان میں چار طرح کے لوگ فریادی ہیں پہلے نمبر پر وہ ہیں جن کے گھر، دکان اور کاروباری مراکز مسمار ہو ئے معا و ضہ یا متبادل روزگار نہیں ملا دوسرے نمبر پر وہ ہیں جنہوں نے فوجی اپریشن کے وقت حکومت کے کہنے پر نقل مکانی کی ان کو انگر یز ی میں آئی ڈی پی (Internally displaced persons) کا نا م دیا گیا اُن سے وعد ہ کیا گیا کہ قیام امن کے بعد تمہیں واپس گھروں میں لاکر آباد کیا جا ئے گا مگر وہ لوگ اب بھی در بدر ہیں تیسر ے نمبر پر ایسے لوگ ہیں جن کے گھروں سے 10،10 جنازے اُٹھے با پ مارا گیا، ماں ماری گئی، بھا ئی بہنیں قتل کی گئیں جنکا کوئی سہارا زندہ نہیں بچا گذشتہ 15 سالوں سے وہ عسکر یت پسندوں کی پنا ہ میں ہیں کیونکہ سیکیورٹی فورسزنے اُن پرمقد مات بنا ئے ہو ئے ہیں اورچو تھے نمبر پر وہ لو گ ہیں جن کے عز یز واقارب کے مر نے کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم گمشد ہ افراد میں ان کے نام آگئے ہیں عام خیال یہ ہے کہ گمشد ہ لوگ سرکاری اداروں کی تحویل میں ہیں اور زند ہ ہیں یہ لوگ اپنے خو نی رشتہ داروں کی آزادی اور گھر وں کوو اپسی چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جلسہ عام سے خطاب کر تے ہو ئے پی ٹی ایم کے مطالبات کودرست اور جائز قرار دیا تھا ان کے لب و لہجے پر تحفظات کا اظہار کیا وزیرستان کے مسئلے کو انڈ ونیشیا ء کا ماڈل سامنے رکھ کر حل کیا جاسکتا ہے اور وزیر، محسو د، داوڑ اور تمام قبائل اس کے لئے تیار ہیں علاقے میں منظور پشتین، علی وزیر، اور محسن داوڑ کی بڑھتی ہو ئی مقبولیت کی یہی وجہ ہے یہ ایسے مسائل ہیں جن کو انسا نی المیہ کہا جاتا ہے اس وجہ سے جنرل با جو ہ نے مئی 2018 ء میں کہا تھا کہ پی ٹی ایم والے ہما رے بچے ہیں ان کے ساتھ سختی کا سلو ک نہیں کیا جاسکتا انگریز ی رو ز مرہ کی رو سے اگر ”گڈ سینس پریو یل“کرے (if good sense prevails) پی ٹی ایم والوں کو دو ماہ کے اندر قومی دھا رے میں لا یا جاسکتا ہے مگر حکومتی وزرا کا خیال ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم کی جا ئے اگر اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیا نات جاری رہے تو مسئلہ مز ید گھمبیر صورت اختیار کر یگا اور فائد ہ ہمارے دشمنوں کو ہوگا ان حالات میں ایوان بالا اُمید کی آخر ی کرن ہے ایوان با لا نے منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کو بلا کر جس طرح مکالمہ شروع کیا تھا اُس مکا لمے کو آگے بڑھا نے سے وزیرستان کی نئی انتظا میہ کو درپیش تما م مسائل حل ہو سکتے ہیں یحییٰ خانی اور ٹکا خانی فار مو لا کسی مسئلے کا حل نہیں 1972 ء میں منو بھا ئی نے پیر و ڈی گیت میں کہا تھا
آؤ بچو شکل دکھا ئیں تم کو یحییٰ خا ن کی
اینٹ بجا دی جس نے میر ے پاکستان کی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق