fbpx

موڈی سرکار ہوش کے ناخن لویہ بازو میرے ازمائے ہوے ہیں مضبوط پاکستان ہی مضبوط ہندوستان کی ضمانت ہے

 سماجی کارکن. عنایت اللہ اسیر چترال

اگر خدانخواستہ خاکم بدھن ہندوستان کے ناعاقبت اندیشیون سے پاکستان کو کجھ ہوگیا تو تاریخ اپنے اپ کو دوہرانے میں دیر نہیں لگائے گی
اور مشرقی بنگال سے لیکرایران اورافغانستان تاجکستان اورچیچنیاء تک کے ڈیڑھ ارب مسلمان ہندووں کے مظالم سے مسلمانوں کو چھڑانے کے لیے ایک آواز کے ساتھ اٹھینگے اور پورے عالم سے اگراپنے مظلوم ستم رسیدہ مسلمان بہنوں اور بھائیوں کی مدد کے لیے مسلمان مجاہدین ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے توان کاراستہ روکنا ایران,افغانستان ,بنگلہ دیش اور پاکستان کے مسلم حکمرانوں کے بس کی بات نہیں ہوگی برصغیر پاک وہند پر حسب سابق مسلمانوں کی حکومت دوبارہ قائم ہوجائیگی ۔سورج کو مشرق سے طلوع ہونے سے انکار کرنے والے چمگادڑ ہی ہوسکتے ہیں اور اس امن سلامتی عزت و احترام سے تمام مذاہب اور تمام نسل کے انسانیت کو ایک ادم علیہ سلام کی اولاد اورخلیفائے اللہ سمجھ کر صرف خدا خوفی اورتعلق بااللہ ہی کو عزت اور مرتبے کی بنیاد پر تمام رنگ و نسل ,رنگ وبواور زبان وعلاقہ اورنسلی زمانہ جاہیلیت کے چھوٹے بڑے کے تعصبانہ زہینت سے پاک تمام نسل ادم کو عزت و اکرام کی بنیاد پر دیکھنے والا دین صرف اسلام ہے. “و لقد کرمنا بن ادم” ہی کی نگاہ سے دیکھ کر. ( لا اکراہا فی الدین). کے بہترین حسن سلوک کا سبق صرف دین اسلام ہی دیتاہے اوراگر ہندوستان کے تمام اچھوت اور شودراجتماعی طور پراسلام قبول کریں جس کی اجازت خود انڈیا کا قانون دیتا ہے اوریہ ہرانسان کا بنیادی حق بھی ہے تو پھر اسلام کے سائے میں وہ سب برابری کی بنیاد پرتمام مسلمانون کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہوکر نمازاورایک دسترخوان اورایک پلیٹ میں کھانا اورایک ہی سیٹ پربیٹھ کر سفراورایک ہی قبرستان میں باعزت دفن کے یکسان حقدار ہونگے. تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ہندوستان میں (ایک ہی صف میں کھڑے ہونگے تب محمود و ایازنہ کوئی بندہ کسی کا نہ کوئی بندہ نواز) اور مندر کے سامنے کسی خود رودرخت کے پتے کو ہاتھ لگانے پر کوئی ان کے نوجوان معصوم بچے کے ساتھ ظلم نارواء نہیں کرسکے گا ان کے بچے تمام مسلم اسکولوں اور سرکاری اسکولوں , دارالعلوموں اورمدارس میں برابری کی بنیاد پراعلی تعلیم حاصل کرکے جنرل,ڈاکٹرز,انجینرز,وکیل,افسرزاور شیخ القران والحدیث ہوکران کا پورہ نسل زلت کی ذندگی سے نکل کر عزت کی زندگی اسی ہندوستان میں مسلم ایٹیمی عالمی سب سےبڑے ازاد اسلامی ملک میں رہ کر پورے عالم کے مسلمان ممالک کی قیادت کرینگے
اس سورج کا طلوع کا ذریعہ خود ہندوستان کے متعصب ظالم ھندو حکمرانوں کا دیگر تمام اقلیتی برادری کے ساتھ بے عزتی اورظلم زیادتی کا سلوک اور خاص کر کشمیر کے نہتے مسلمان اکثریت کے ساتھ ننگی بربریت اوران کی انکھین پھوڑنا اور ہمارے مسلمان ماووں,بہنوں اوربیٹیوں کے ساتھ جنسی تشدد اورہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا خون ناحق بہانا ہی ہوگا
“اللہ کے گھر دیر ہے اندہر نہیں ہے”
لہذہ ھندوستان کو مسلہ کشمیر کشمیریوں کے آزاد مرضی کے مطابق حل کرکے اس خطے کو جنگ کی طرف بڑنے سے بچاکر امن اور بھائی چارہ کا ماحول بحال کرکے اپنے ملک کے باشندوں کے تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دیکرتعلیم,صحت ,سڑکوں کی تعمیر اور زراعت کی ترقی پر توجہ دیکر جنگی جنون سے نکل ایے ورنہ ھندوستان کے مظالم کشمیر میں اس حد تک بڑ چکے ہیں کہ مزید کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و زیادتی اور ننگی بربریت ناقابل برداشت ہوچکی ہے اور اگرعالم اسلام کے مسلمان اور انڈیا کے مسلمان جاگ گیے اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے متحد ہوکر کمر بستہ ہوئےتو انڈیا کا انجام روس سے مختلف نہ ہوگا
اللہ پاک نےپاکستان کو زمین کے ایک ایسے جغرافیائی خطے میں قائم کرکے ایک ایٹیمی قوت کے طور پر مضبوط کیا ہے کہ اب پوری دنیا کو اگر زمینی راستے سے سمندر سے خشکی کے راستے سنٹرل ایشیاء تک رسائی حاصل کرنا چاہے تو پاک سرزمین ہی کے ذریعیے اجاسکے گی اور اگر انڈیا ھٹ دھرمی چھوڑ کر پر امن بقایے با ہمی کا راستہ اپنایے تو انڈیا پاک وطن کا زمین استعمال کرکےافغانستان,ایران اورسنٹرل ایشیا تک مختصر راستے کی تعمیر کرکے شب و روز استعمال کرسکتا ہے جنگ وجدل قتل وغارت کے ماحول میں پاکستان اورانڈیا اپنے اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے بجائے امریکہ اور دیگر ممالک کے ہتھیاروں کا تجربہ گاہ ہی رہینگے
امن رواداری اوراحترام ادمیت اور قوت برداشت ہی دونوں ممالک کے بہتر مستقبل اور ترقی کا ضامن ہے ورنہ ظلم کی رات اپنے فطری انجام کو پہنچ کر ہی دم لیگا پھر مسلم افغانستان,مسلم ایران اورملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان جنونی ہندووں کے ہاتھوں خدا نخواستہ انسانی تباہی کے ایٹیمی جنگ کے خطرے سے نکل کر مستقل امن میں بر صغیر کے تمام کم و بیش دو ارب انسان مکمل نکل کر امن اشتی باہمی احترام باہمی تعاون کے ساتھ بہت بڑے مسلم ریاست ہندوستان کے پڑوسی ایٹیمی چھوٹے اسلامی ازاد حکومت کے طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا پھر نہ مسلہء کشمیر رہیگا دونون سایڈ کی مسلم ایٹیمی قوتیں امن اور بھائی چارے سے باہمی افہام وتفہیم سے رہینگے نہ رہیگا مودی کا بانس نہ بجے گی بانسری امن کبھی بھی کمزوروں کا خون بہاکر امن قایم نہیں کیا جاسکتا
زخموں کاعلاج اور زخم لگاکر کرنے کی بجائے گرم پانی سے مرہم پٹی سے کیا جاسکے گا اگر مودی سرکار نے اپنے متعصبانہ اکثریت کے زعم میں اپنا اقلیتوں کے ساتھ ظلم ذیادتی کارویہ بند کرنے کے بجاے اور طاقت کے نشے میں اقلیتوں پر مظالم کا بازار گرم کیا تو یہ متعصب ھندو حکومت کے ہاتھوں ہی روس کی طرح ہندوستان کے حصے بخرے ھونے کا پانچ سالہ اخری دور ہوگا
انمالمومینون اخوہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق