fbpx

ترش و شیرین۔۔۔۔۔امڈتے سیّاح اور سیاحت کے فروغ سے جُڑے چند مسائل 

…….نثار احمد …….
ایک وقت وہ بھی تھا جب بلند قد و قامت والے گورے سیاحت کی غرض سے فور وِیل جیپوں پر بیٹھ کر گرمیوں میں بڑی تعداد میں بمبوریت کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے تھے. یہ ہمارے بچپنے کے دن تھے. ایون میں اپنے گھروں کے قریب بمبوریت روڈ سے متصل نالے پر نہانے کے لئے جانا ہم بچوں کا معمول ہوتا تھا. جونہی گوروں سے بھری کوئی جیپ نمودار ہوتی تو ہم نالے میں عجیب و غریب انداز میں غوطہ خوری کی مشق کرتے. کبھی کبھار کوئی دل والا گورا اس لمحے کو انجوائے کرتا اور زیرِ لب مسکراتے ہوئے پانچ یا دس کا نوٹ پھینک کر چلتا بنتا تو مجھ سمیت پوری بچہ پارٹی کی گویا لاٹری نکل آتی..
پھر نائن الیون کا واقعہ کیا ہوا کہ حالات بتدریج خراب ہوتے گئے پھر وہ وقت بھی آیا کہ گوروں کی آمد تقریباً ختم ہو کر رہ گئی. اب پھر سے آہستہ آہستہ یہ سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے.
غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ گزشتہ چند سالوں سے چھوٹی عید کی چھٹیاں معتدل مقام میں گزارنے کے لئے گرم علاقوں سے بڑی تعداد میں ملکی سیّاح بھی چترال کا رُخ کرتے ہیں. اِن میں سے بیش تر بمبوریت جانے اور کیلاشہ کلچر کو قریب سے دیکھنے کی خواہش سینوں میں لئے گھروں سے گروہ در گروہ چترال کی طرف چل پڑتے ہیں. گو کہ بمبوریت اپنی مخصوص خوبصورت پُرکشش و دلکش جغرافیائی پوزیشن کے بل بوتے پر بھی تفریحی مقام کے طور پر ایک عرصے سے اپنا لوہا منواتا آ رہا ہے لیکن وہاں دنیا کی قدیمی روایتی کیلاشہ تہذیب اپنے اجزاء ترکیبی میں ایسی جاذبیت رکھتی ہے کہ تہوار کے دنوں میں باہر سے آیا ہوا ہر شخص یہاں جانے کو بیتاب ہوتا ہے.  یہاں جانے والے سیّاحوں کا رَش اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ایون سے بمبوریت کا پینتیس سے چالیس منٹ کا راستہ اللہ اللہ کرکے بمشکل پانچ سے چھ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے. مجھے کل کی طرح یاد ہے کہ پچھلے سال عید کے چوتھے دن سکول کی چھٹی کے بعد جی ایچ  ایس بمبوریت سے روانہ ہو کر ایون میں واقع اپنے گھر پہنچتے پہنچتے میرے پورے پانچ گھنٹے صرف ہوئے تھے.
 بمبوریت روڈ کا مسئلہ یہی نہیں کہ چند ایک مقام پر یہ پُرخطر ہے بلکہ ساتھ ساتھ زیادہ تر مقامات پر یہ نہایت تنگ بھی ہے. تنگ اتنا کہ زیادہ تر مقامات پر دو گاڑیاں باہم ایک دوسرے کو کسی صورت میں کراس نہیں کر پاتی ہیں. نتیجتاً ازدحام کی صورت میں گھنٹوں گھنٹوں سیّاح بھی بیچ روڈ میں پھنسے رہتے ہیں اور لوکل ٹریول کرنے والے مقامی افراد بھی. پچھلے سال ازدحام میں پھنس کر وقت گزاری کرتے ہوئے قریب میں موجود پنڈی سے آئے ہوئے ایک سیّاح کو میں نے تھوڑا سا کُریدا. غصّے میں پریشر کُوکر بنے اس پنڈوی سیاح کا جواب یہی تھا کہ دوبارہ کبھی بھول کر بھی یہاں نہیں آنا ہے. ظاہر ہے کہ اُن کے اس تُرش جواب کے پیچھے اگر تھوڑا بہت بہت اہلیانِ بمبوریت کی “مہمان نوازی” کا دخل تھا تو کافی حد تک بمبوریت روڈ کی خستہ حالی اور ناگفتہ بہ حالت بھی کا ہاتھ تھا.
اس میں دو رائے نہیں کہ چترال میں سیاحت کا فروغ  چترال کی تمام سڑکوں خصوصاً ایون بمبوریت روڈ کی درست و خراب کنڈیشن سے وابستہ ہے. سڑکیں آرام دہ ہوں گی تو لوگ آئیں گے. لوگ آئیں گے تو لوکل لیول پر تجارت پَھلے گی. تجارت فروغ پذیر ہو گی تو پیسہ بھی آئے گا اور ساتھ ساتھ خوشحالی بھی..لیکن اگر سڑکیں اسی طرح خراب رہیں تو ان سڑکوں میں جُھولا جھولنے کے لئے لوگ چترال آنے کا انتخاب کیوں کر کریں گے؟ . جھولا جھولنے کے لئے تو شہروں میں باقاعدہ پارک بنے ہوئے ہیں. یہاں آنے کی بجائے وہ وہاں جا کر جھولنے کا اپنا شوق پورا فرما لیا کریں گے.
گزشتہ ادوار میں ایون بمبوریت روڈ کے لئے فنڈ مختص ہونے کی بات سننے کو ملتی رہی لیکن یہ روڈ اب تک جوں کی توں خستہ حال منتظرِ مرمت ہے. اب شاید اس روڈ کی پختگی و درستگی کا خواب تعبیر میں ڈھل جائے کیونکہ اسی بمبوریت روڈ پر کبھی پیدل اور کبھی گاڑی میں سفر کرنے والے اسی سر زمین (رمبور) کے سپوت وزیر زادہ صاحب کے مخصوص نشست پر ایم پی اے بن جانے سے یہ اُمید انگڑائی لے کر پھر سے بیدار ہوئی ہے کہ مطلوبہ ریکوائرمنٹس کی تکمیل کے بعد جلد از جلد اس روڈ پر کام شروع ہو جائے گا. اس روڈ کے بن جانے کی وجہ سے نہ صرف علاقے میں سیاحت بڑھے گی بلکہ لوکل آبادی کی جان بھی روز روز کی بندش سے چھوٹ جائے گی.
سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کو کھینچ لانے کے لئے مقامی سطح پر ہوٹلنگ کی طرف توجہ دینا بھی اشد ضروری ہے. ظاہر ہے ہر سیّاح تبلیغیوں کی طرح کمر پہ  سلیپنگ بیگ ٹانک کر اور ہاتھ میں سلنڈر اُٹھائے نہیں پھیرتا. اُسے رات گزارنے کے لئے صاف کمرہ اور کھانے کے لئے سستا طعام درکار ہوتا ہے. اگر اُسے معقول پیسوں میں رہائش اور طعام کی سہولت ملے گی تو وہ بار بار آئے گا ورنہ موقع پرست ” مقامی دوکاندار ” اگر چیز معمول کے مطابق معقول ریٹ پر بیچنے کی بجائے مہمان گاہک کو لُوٹنے پر توجہ دے گا تو پھر یہ سیاح یا تو اگلے سال آئے گا ہی نہیں، یا پھر سلیپنگ بیگ اور اشیاء خورد نوش سے لے کر سلنڈر تک سب کچھ اپنے ساتھ لے کر آئے گا. بقول پرنسپل ڈگری کالج ممتاز حسین صاحب ثانی الذکر سیاحت بس کچرا لے کر آتی ہے. اس سے ہماری معیشت کو خاطر خواہ فائدہ خاک ہو گا.
ایک طرف جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ چترال شہر اور مضافات میں ہوٹلوں کی تعمیر پر توجہ دیجائے وہاں دوسری طرف ہمیں ہوٹل مالکان اور دوسرے دکانداروں کی زہن سازی کی بھی ضرورت ہے. اُن کے زہن میں یہ بات بیٹھانے اور بسانے کی ضرورت ہے کہ لوکل سطح پر مقامی لوگوں کی طرف سے سیاح مسافروں پر ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، رہائش اور طعام کے معاملے پر بے تحاشہ “ظلم” نہ ڈھایا جائے. اگر عام دنوں میں ایک ڈرائیور اپنی غواگئی میں پانچ مقامی بندوں کو لے کر سات سو میں ایون سے بمبوریت جاتا ہے تو اجنبی سیاحوں کو لے کر پانچ ساڑھے پانچ ہزار میں جانا یقیناً ظلم ہے. اسی طرح عام دنوں میں بمبوریت میں تین یا چار بیڈ والے ایک کمرے کا کرایہ اگر آٹھ سو سے ہزار تک ہے تو سیزن میں سیّاحوں کی کثرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے آٹھ ہزار تک لے جانا کسی طور پر درست نہیں . چکن کڑاہی، جس میں دو سو پچاس کی مرغی، تیس کا ٹماٹر، بیس کی پیاز، چار کی نمک اور پندرہ بیس روپے کے مصالحہ جات ڈَلتے ہیں ایک ہزار میں دینا کہاں کا انصاف ہے.  عام دنوں کے مقابلے میں ریٹ زیادہ کرکے آستین چڑھا کر دونوں ہاتھوں سے مہمان سیّاحوں کو لُوٹنا نہ صرف کاروباری اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ اس سے عمومی طور پر چترالیوں کا انتہائی منفی تاثر بھی مہمانوں کے زہن پر منقش ہوتا ہے. یہ جو کہا جاتا ہے کہ چترالی نہایت مہمان نواز اور وضعدار لوگ ہیں. میرا سوال یہ ہے ایسے مواقع پر ہماری روایتی وضعداری اور مہمان نوازی گھاس چرنے چلی جاتی ہے؟؟؟ اس بابت آگاہی پھیلانا وقت کا اہم تقاضا ہے.
آخری ایک گزارش انتظامیہ سے یہ ہے کہ مہذب انداز میں یہ بات آنے والے سیّاحوں کی گوش گزار کی جائے کہ زور زور سے میوزک بجاکر دوسروں کو تنگ کرنے سے گُریز کریں. بے ہنگم شور شرابے کے زریعے دوسروں کو موسیقی سنوانے کو یہاں ہرگز اچھا نہیں سمجھا جاتا. آپ اپنی گاڑی میں بیشک اچھل کود کریں، موج مستی کریں لیکن لاؤڈ-اسپیکر لگا کر فُل والیم میں “یا قربانا” لگا کر دوسروں کی زندگی اجیرن تو نہ بنائیں..
امید ہے کہ ان معروضات پر غور و خوض کیا جائے گا.
موبائل میں فیڈ بیک کے لئے میرا نمبر یہ ہے.
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق