fbpx
تازہ ترینمحکم الدین ایونی

سیاحت اور حکومتی دعوے

……….محکم الدین اویونی

ہماری حکومتیں اور ادارے ہمیشہ سے کمال کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ ان سے بلند بانگ دعوے کرنا ہی کوئی سیکھے۔ کیونکہ اُس پر عملدرآمد تو ان سے کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ اور نہ ان کے پا س کوئی سٹرٹیجی ہے۔ جس کی مثال یہ ہے۔کہ گذشتہ چھ مہینو ں کے دوران وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کئی اعلانات کئے۔ وفاق کی سطح پر وزیر اعظم عمران خان نے سیاحت کی ترقی کے سلسلے میں کئی اجلاسوں کی صدارت کی اور صوبائی لیول پر وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان اور منسٹر ٹورزم عاطف خان نے ایک درجن سے زیادہ اجلاس منعقد کئے۔ جس میں صوبے کی انتظامی امور کے اعلی حکام، ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخوا کے آفیسران اور متعلقہ اضلاع کے ایم پی ایز اور ضلعی انتظامیہ کے آفیسران شریک رہے۔ اس سے یہ توقع کی جارہی تھی۔ کہ حکومت سیاحت کی ترقی میں واقعی سنجیدہ ہے۔ اور سیاحوں کو سہولت دینے کیلئے بہت جلد اقدامات کئے جائیں گے۔ جن سے انٹر نیشنل اور ملکی سیاح مستفید ہوں گے۔ گو کہ اس حوالے سے غیر ملکی سیاحوں کیلئے آن لائن ویزہ، رجسٹریشن کے سہولت کی فراہمی اور بندوق بردار سکیورٹی کا خا تمہ قابل تعریف اقدام ہیں۔ لیکن صرف یہ اقدامات سیاحت کی ترقی کیلئے ناکافی ہیں۔ جب تک سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان نہ بنایا جائے۔ سوات، کاغان ناران، گلگت بلتستان میں سیاحوں کیلئے آمدو رفت کی سہولیات پہلے سے موجود ہیں۔ اصل مسئلہ دیر اور چترال کے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی آسان رسائی ہے۔ جو کہ تا حال صرف دعووں کی حد تک محدود ہیں جب تک ان علاقوں تک سیاحوں کی پہنچ میں آسانیاں پیدا نہیں کی جائیں گی۔ خوشحالی اور معاشی بہتری نہیں آسکتی ہے۔ ہمیں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کہ ہمیں اگر واقعی سیاحت کو آمدنی کا ذریعہ بنانا ہے تو ڈومیسٹک ٹورزم کو فروغ دینا پڑے گا۔ ہمیں انٹر نیشنل حالات ہمیشہ موافق رہنے کی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ کیونکہ ہمارے خطے میں حالات کی تبدیلی میں دیر نہیں لگتی۔ مو جودہ حالات حکومت کی طرف سے سیاحتی اقدامات کے اعلانات کے باوجود سیاحوں کو جن مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ ناقابل بیان ہے۔ صوبائی حکومت اور ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخوا یہ جاننے کے باوجود کہ چترال میں مختلف تہواروں کے دن شروع ہو گئے ہیں۔ اور پاکستان کے دوسرے شہروں سے لوگ ٹھنڈے موسم، پر امن ماحول، قدیم کلچر اور قدرتی نظاروں کا لطف اُٹھانے کیلئے چترال کا رخ کریں گے۔ سیاحوں کو چترال کے اندر سہولت دینے میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اور ترقی سیاحت کے حکومتی دعوے شرمندۂ تعبیر ہوتے نظر نہیں آرہے۔ حکومت سے اب تک یہ بھی نہیں ہو سکا کہ مین چترال پشاور روڈ پر ٹورسٹ کی رہنمائی کیلئے سائن بورڈ نصب کرے۔ جس میں مختلف گاؤں کے نام، سطح سمند ر سے بلندی وغیرہ تفصیلات درج ہوں۔ بہت سے سیاحوں کو دیکھا گیا ہے کہ مین روڈ پر معلوماتی سائن بورڈ نہ ہونے کے باعث پشاور سے آتے ہوئے کالاش ویلی کی بجائے چترال پہنچ جاتے ہیں۔ اور گولین جانے والا سیاح گرم چشمہ کی راہ لیتا ہے۔ اسی طر ح مستوج یا گلگت جانے والے سیاح انجانے میں بروغل پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ سیاحوں کو تمام معلومات راستے میں ہی فراہم کئے جائیں۔ اور ان کیلئے مختلف مقامات پر معلومات کی فراہمی کیلئے سنٹرز قائم کئے جائیں تاکہ وہ آسانی سے اپنی منزل پا سکیں۔ یہ کام ضلعی انتظامیہ یا ٹورزم کارپوریشن بہت کم فنڈ سے کر سکتی ہے۔ جو کہ سیاحوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن اس پر کوئی سوچے تو بات ہے۔ مجھے حکومت کی اس بات پر بھی ہنسی آتی ہے۔ کہ آئے روز نئے سیاحتی مقامات دریافت کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے۔ کہ جو دریافت شدہ سیاحتی مقامات ہیں۔ وہاں تک پہنچنے کیلئے سڑکیں نہیں ہیں۔ مقامی لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ خاص کر تہوار وغیرہ مواقع پر تو سفر کرنا نا ممکن سا ہو گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے ایک طرف سیاحت کی ترقی کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف انتہائی اہمیت کی حامل سڑکوں پر توجہ ہی نہیں دی جارہی ہیں۔ گرم چشمہ روڈ اور کالاش ویلی روڈ جن کی تعمیر کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔ کو دانستہ طور پر تعمیر ہونے نہیں دیا جارہا۔ حالانکہ ان سڑکوں کے ٹینڈر تک ہو چکے ہیں۔ لیکن مختلف بہانوں سے ان کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے۔ایسے میں سیاحت کیا خاک ترقی کرے گی۔ جب ایک سیاح جس کے پاس تفریح کیلئے پانچ دن ہوں۔ اور اس کی چھٹیاں چترال کی کھنڈر سڑکوں میں رش میں پھنس کر گزر جائیں۔ اُسے کھانے کیلئے ریسٹورنٹ قیام کیلئے ہوٹل،اور سودا سلف کیلئے دکان دستیاب نہ ہو۔ اور خد ا نخواستہ صحت خراب ہونے پر اپنی جان کو ہسپتال تک نہ پہنچا سکے۔ اُس کی کیا سیاحت ہو گی۔ حالیہ عید اس کی زندہ مثال ہے۔ کہ سینکڑوں سیاحوں نے بغیر کھائے پئے گاڑیوں کے اندر رات گزاری کیونکہ روڈ تنگ ہونے کی وجہ سے ایون سے لے کر کالاش ویلیز تک گاڑیوں کی نہ ختم ہونے والی قطار یں تھیں۔ جس کی وجہ سے سیاحوں کا قیمتی وقت راستے میں ضائع ہو ا۔ بلکہ ان کو انتہائی تکالیف اُٹھانی پڑیں۔ گو کہ چترال ٹریفک پولیس نے اپنی طرف سے ہر ممکن کو شش کی۔ اور اپنی عید سیاحوں کیلئے قربان کر دی۔ پھر بھی خراب اور تنگ سڑکوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا۔ کہ روانی سے گاڑیاں گزاری جاتیں۔
فروغ سیاحت کیلئے یہ ضروری ہے۔ کہ حکومت جو دعوی کرتی رہی ہے۔ اُسے حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہو۔ اور اس شعبے کی ترقی کیلئے درکار فنڈ فراہم کرے۔ جبکہ ضلعی سطح پر انتظامیہ اس سلسلے میں الرٹ ہو۔ ہوٹلوں اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے ہاتھوں سیاحوں کو لوٹنے کے عمل کو روکا جائے۔ اور ہوٹلوں میں مناسب سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ اگر حکومت واقعی سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ تو اس شعبے سے وابستہ تمام سٹیک ہولڈرز جن میں سیاحوں سے لے کر ہوٹل مالکان، ڈرائیور برادری، گائڈ ز سب کو آگہی دینے کے ساتھ ساتھ خراب اور کھنڈر روڈز کی مرمت اور نئے روڈز کی فوری تعمیر کا انتظام کرے۔ بے ہنگم سیاحت کی بجائے چترال میں کنٹرولڈ ایکو ٹورزم کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔ تاکہ سیاحتی ترقی کے جنون میں ماحولیاتی آلودگی کے عفریت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ اور مقامی لوگوں کی معاشی حالت حقیقی معنوں میں بہتر ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق