fbpx
تازہ ترین

دروشپ کے مقام پر موجود چوم بور پل گرم چشمہ، کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے

گرم چشمہ (نمائندہ چترال ایکسپریس) گرم چشمہ روڈ سے سفر کرتے ہوئے دروشپ کے مقام پر موجود پل جو کہ چوم بور پل کے نام سے مشہور ہے جس کی ہر پانچ مہینے بعد مرمت میں لاکھوں روپے گنوائے جاتے ہیں۔لاکھوں روپے کے سالانہ کی اس بجٹ سے اس مقام پر آر سی سی پل آسانی سے تعمیر کیا جاسکتا ہے مگر سی این ڈبلیو کا محکمہ انتہائی کم لاگت سے آر سی سی پل تعمیر کرنے کے بجائے اسی پل کی ہر پانچ ماہ بعد مرمت کے نام پر لاکھوں روپے ضائع کرتی ہے جس میں یقینا کئی بااثر افراد کا حصہ ہوتاہے۔ گرم چشمہ کا علاقہ آلو کی پیدوار کے لئے پورے علاقے میں شہرت رکھتی ہے مگر آلو کی فصل کو مارکیٹ تک پہنچانے میں یہ پل سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے اس سال فروری کے مہینے سے پل کی شہتیریں ٹوٹ چکی ہیں ہلکی گاڑیاں بڑی مشکل سے پل پار کرسکتی ہیں آلو کی بیچ کے جو ٹرک گرم چشمہ آئے وہ پل کراس کرنے میں ناکام رہے بلکہ باقاعدہ سی این ڈبلیو نے پل کے دونوں اطراف اشتہار لگایا کہ پل ٹوٹ چکا ہے اور کسی فرد کے گاڑی سمیت پل کراس کرتے ہوئے پل گرنے کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پل کے ایک حصے کو باقاعدہ پتھر رکھ ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا جس کی وجہ سے ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
علاقے کے لوگوں نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی حکومت ہر سال آلو کی پیدوار پر ٹیکس میں اصافے کی کوشش تو کرتی ہے مگر اس پل کی مرمت کرنے پر کوئی بھی فرد توجہ دینے پر تیار نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پل کی مرمت کے نام پر کچھ بااثر لوگ لاکھوں روپے خردبرد کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اگر سی اینڈ ڈبلیو کے پاس آر سی سی پل کی تعمیر کے لئے فنڈز موجود نہیں تو علاقے کے لوگ چندہ جمع کرکے آر سی سی پل تعمیر کرسکتے ہیں اور پل کی تعمیر کے لئے کسی بھی محکمے کو جتنی رشوت چاہئے وہ بھی چندے کی رقم سے فراہم کرسکتے ہیں۔ کیونکہ روزانہ سینکڑوں کے حساب سے علاقے کے لوگ اس پل سے سفر کرتے ہیں، گرم چشمہ کے علاقے کو باقی ملک سے ملانے کا یہ واحد ذریعہ ہے۔ اس پل سے سینکڑوں کی تعداد میں بچے سکول و کالج جانے کے لئے سفر کرتے ہیں اور پل کی خستہ حالت سے کسی بھی وقت کوئی بھی سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق