fbpx

دروش پولیس نے کیسو کے مقام پر قتل ہونے والے ذاکر احمد ساکن ایون کےقتل میں ملوث پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے

چترال ( محکم الدین ) دروش پولیس نے گذشتہ روز کیسو کے مقام پر قتل ہونے والے ذاکر احمد ساکن ایون موڑدہ کے پانچ قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے . تاہم ایک مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا ہے .جو کہ ایک ادارے کا ملازم ہے.گرفتار ہونے والے ملزمان میں محمد حضرت ولد شیر اعظم , نعیم الہادی ولد پیر محمد , ضیا الرحمن و ثنا الرحمن پسران مستجب خان اورعقیل احمد ولد پیر محمد ساکنان کیسو گول شامل ہیں. جبکہ مرکزی ملزم فضل ہادی ولد ولی محمد کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آ ئی ہے . اور مزید تفتیش جارہی ہے . واضح رہے کہ ذاکر احمد ولد میاں گل گذشتہ عید کو اپنے رشتے داروں سے ملنے کیسو گیا تھا . جہاں انہیں موبائل پرکال کرکے رشتے دار کے گھر سے باہربلایا گیا.جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا تھا.لیکن چار دن بعد اس کی مسخ شدہ لاش کیسو کےایک برساتی نالے میں دریائے چترال کے کنارے پر انتہائی مخدوش حالت میں ملی . جنہیں پوسٹ مارٹم کے بعد ابائی قبرستان ایون موڑدہ میں سپردخاک کیا گیا  درین اثنا مقتول کے بڑے بھائی محمد ایاز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے . کہ ان کا بھائی بے قصور ہے . اسے ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے . جس کئلیے وہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا, آئی جی پی خیبر پخونخوا اور دیگر متعلقہ حکام سے انصاف چاہتے ہیں . انہوں نے کہا . کہ ان کے بھائی کے قتل کے مرکزی ملزم فضل ہادی جو ایک ذمہ دار ادارے میں ملازم ہے . کی پشت پناہی کی جارہی ہے . اور اس کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں .انہوں نے کہا . کہ ان کا پولیس پر بھر پور اعتماد ہے . کہ اس حوالے سے تمام تر قانونی تقاضے پورے کرکے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی راہ ہموار کریں گے.انہوں نے کہا . کہ وہ واقعے کے اصل محرکات سامنے کا انتظار کر رہے ہیں . کہ کس نے بار بار کال کرکے میرے بھائی کوبلایا.اور اس کو قتل کرنے کی راہ ہموارکی . انہوں نے کہا . کہ ٹیکنالوجی نے ایسے واقعات کو سامنے لانے میں آسانی پیدا کردی ہے .اور متعلقہ ادارے اس کو بہتر طور پر جانتے ہیں .انہوں نے امید ظاہر کی .کہ پولیس تمام ملزمان کوگرفتار کرے گی .اور اس قتل کی بنیاد بننے والی کو بھی کٹہرے میں لایا جائے گا . محمد ایاز مقتول کے تین سال اور دو ماہ کی دونوں بچیوں کو گود میں لئے زارو قطار روتے ہوئے کہا . کہ ان معصوم بچیوں کو یتیم بنایا گیا ہے.ان کو انصاف فراہم کرنا پولیس ,حکومت اورعدلیہ کا کام ہے .اور وہ اس کا انتظار کر رہے ہیں.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق