fbpx

داد بیداد………اے وطن کے سجیلے جوانو!

جمیل الدین عا لی کا یہ نغمہ ملکہ تر نم نو ر جہاں کی آواز میں بہت مقبول ہوا ٹیپ کا بند اب تک بچے بچے کی زبان پر ہے ”اے وطن کے سجیلے جو انو! میرے نغمے تمہارے لئے ہیں“ اس گیت کے براہ راست مخا طبین پا ک فوج کے وہ جوان ہیں جو ہماری سر حدوں کا دفاع کررہے ہیں تا ہم بالواسطہ طور پر یہ نغمہ وطن کے ہر جوان کو اپنی طرف متوجہ کر تا ہے لیکن تا زہ ترین خبر یہ ہے کہ ہمارے پا س وطن کے سجیلے جو انوں کے لئے کچھ بھی نہیں بچا حا لت سابقہ یعنی انگریزی تر کیب کی رو سے سٹیٹس کو (Status quo) کے حا میوں نے وطن کے سجیلے جو انوں کے تمام راستوں کی نا کہ بندی کر لی ہے اسلام آباد میں اقتدار کی راہداریوں کے اندر چار سطروں کا ایک خط گر دش کر رہا ہے خط میں بڑے گھر کے مکین نے وفاق اور صو بوں سے 2دنوں کے اندر رائے مانگی ہے کہ نو جوانوں کو ملا زمتیں دینے کا سلسلہ روکنے کے قا نون کو جلد از جلد کیسے نا فذ کیا جائے؟تجویز یہ ہے کہ نو جوانوں کا راستہ روکنے کے لئے بزر گوں کو 60سال کے بجا ئے 63سالوں تک ملا زمت پر رکھا جائے اور اس قا نون کو آئی ایم ایف کی بور ڈ میٹنگ سے پہلے نا فذ کر کے نیا قر ضہ حا صل کرنے کی راہ میں رکا وٹ کو دور کیا جائے ٹیکسوں میں ا ضا فہ، مہنگائی میں اضا فہ اور روپے کی قدر میں کمی کے علا وہ آئی ایم ایف کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ سر کاری ملا زم کی تنخوا ہوں اور پنشن کے اخراجا ت میں کٹو تی کی جائے ہر سال 2لاکھ ملا زمین پنشن لیتے ہیں ان کی جگہ دو لاکھ نو جوان آجاتے ہیں اگر پنشن لینے وا لوں کو پنشن لینے سے روکا گیا تو اس کے دو فائدے ہونگے دو لاکھ ملا زمین کی تر قی 3سال کے لئے مو خر ہو جائیگی اور دو لاکھ نئے ملا زمین کی بھرتی 3سا لوں کے لئے رُک جائیگی 3سالو ں تک مقا بلے کے امتحا نا ت نہیں ہو نگے محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ تعمیرات اور دیگر اہم سر کاری محکموں میں نئی بھر تیاں نہیں ہو نگی اعداد و شمار کے ما ہرین نے بڑے گھر کے مکین کو باور کرایا ہے کہ اس طریقے سے سالا نہ 3ارب روپے کی بچت ہو گی جو آئی ایم ایف کی قسطوں کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہو گی ان سطور کی اشاعت تک مذکورہ قانون بن چکا ہو گا اور نا فذ بھی ہو چکا ہو گا اُمید کی دو کرنیں باقی ہیں ایک ٹمٹما تی سی کرن یہ ہے کہ قو می اسمبلی میں سردار اختر مینگل اور چند دیگر اراکین اس بل کے راستے میں ڈٹ جا ئینگے اُمید کی دوسری کرن یہ ہے کہ سینٹ کے جہان دیدہ اور تجربہ کار اراکین اس بل کا راستہ روکنے کی کو شش کرینگے بل کا نام سرکا ری ملا زمین کیلئے ریٹا ئر منٹ کی عمر 60سال سے بڑھا کر 63سال کرنے کا بے ضر ر اور سادہ سا قا نون ہے بل میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ اس قا نون کے ذریعے نو جو اں انجینئروں، ڈاکٹروں اور یو نیورسٹیوں سے تازہ ڈگری لیکر آنے والے پر و فشنلز (Professionals)کا راستہ رو کا جارہا ہے سر کاری مشینری اور دفتری نظام کے اندر نئے خون کے داخلے کی راہیں مسدود کی جا رہی ہیں پاکستانی معا شرہ اب تک دو باتوں پر فخر کر تا تھا ایک بات یہ تھی کہ اس کی آبادی کا 60فیصد نو جوانوں پر مشتمل ہے اور نو جواں کی تعریف یہ تھی کہ 35سال سے کم عمر کی افراد ی قوت بکثرت دستیاب ہے دوسری بات یہ تھی کہ پا کستان میں امیر اور غریب کے در میاں جو متوسط طبقہ یا مڈل کلا س ہے و ہ طاقتور ہورہا ہے سول سو سائیٹی اور کارپوریٹ سیکٹر مل کر متوسط طبقے کو آگے بڑھا رہے ہیں حکومت اس میں معا ونت کار اور سہولت کار کا کر دار ادا کررہی ہے گذشتہ دو سا لوں کے اندر سر ما یہ کی گر دش پر عا ئد ہونے وا لی پا بندیوں نے متوسط طبقے کو غر بت کی طرف دھکیل دیا ہے سول سو سائیٹی کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ سیکٹر کو بھی سکڑ نے پر مجبور کر دیا ہے مڈل کلا س غر بت کی لکیر کو چھو رہا ہے متوسط طبقہ کے لئے اپنی سفید پو شی کا بھرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے یوں یہ اعزازبھی ہم سے چھین لیا گیا ہے دوسرا بڑا اعززجوان افراد ی قوت وا لا اعزاز تھا ریٹا ئرمنٹ کی عمر 63سال ہوگئی تو آئیندہ کے لئے نو جوا نوں کے سامنے کیرئیر کے راستے مسدود ہوجائینگے تر قی کے مو اقع پر تا لے لگ جائینگے سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ نئے پاکستان میں پرانے لو گوں کو پرانے نظام کی رکھوا لی اور سٹیٹس کو (Status quo) کی موثر نگرانی کے لئے مزید 3سالوں کی مہلت مل جائیگی اور ہمارے بڑوں کو ملا زمت کی مدّت میں تو سیع کے لئے درخواست لیکر بڑے گھروں کا طواف کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی نئے پا کستان کے خواب کو شر مندہ تعبیر کرنے کے لئے منا سب اور مو زوں طریقہ یہ تھا کہ ریٹائر منٹ کی عمر 55سال کرکے پنشن کمیو ٹیشن یعنی 15سالوں کے لئے آدھے پنشن کی یکمشت ادائیگی کا قا نون ختم کیا جا تا تو سر کاری خزانے میں ہر سال 3ارب روپے کی بچت ہو جا تی آئی ایم ایف کا منہ بند ہو جا تا قرض لینے کی ایک اہم شرط بھی پوری ہو جا تی لیکن ہماری قسمتوں کے فیصلے ان لو گوں کے ہا تھوں میں ہیں جو 60سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد مزید چندسال اپنے عہدوں سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں آج اگر جمیل الدین عالی زندہ ہوتے تو ہم ان کی خدمت میں بصد اداب التجا کرتے کہ وطن کے سجیلے جوانوں کے لئے حا لات حا ضرہ کی روشنی میں دوسرا نغمہ لکھیئے گا ”اے وطن کے سجیلے جوا نوں تمہارے لئے میرے پا س کچھ بھی نہیں ہے“ سو شل میڈیا پر نو جوا نوں کے جس گروہ نے سر گر می اور گرم جو شی کے ساتھ نئے پا کستان کا دفاغ کیا ہے ان کی خدمت میں ہم ملکہ ترنم نو ر جہاں کی آواز میں فیض احمد فیض کا نغمہ پیش کر سکتے ہیں ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ یہ زمانے کا بے رحم اصول ہے سیڑھی پر چڑھنے والا سیڑھی کو جلا دیتا ہے اور نو جوا نوں کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے جون ایلیا کہتا ہے ؎
کیا میری فصل کٹ گئی ہاں میری فصل کٹ گئی
کیا وہ جواں گذر گئے ہاں وہ جواں گذر گئے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق