fbpx

داد بیداد………محمد مُرسی شہید

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مُر سی فو جی حکومت کے زیر عتاب تھے اورعدا لت میں پیشی کے مو قع پر دل کا دورہ پڑ نے سے 17جون 2019ء کے دن انتقال کر گئے ان کی عمر 68برس تھی ان کو شہا دت کی مو ت نصیب ہوئی محمد مُر سی کی زندگی، ان کی مختصر مد ت صدارت،انکی معزولی اور اُن کے خلاف مقدمہ چلا نے سے لیکر ان کی وفات تک اسلامی نظام حکومت کے حا میوں کے لئے کئی اسباق پو شیدہ ہیں بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی ایما ء پر مصری فوج نے ان کو معزول کیا اُن پر جھوٹے مقدمات بنائے عدا لتوں پر دباؤ ڈال کر اُن کو اتنی اذیت دی گئی کہ کمرہ عدالت میں ان کی موت وا قع ہوگئی مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ چیچنیا کے صدر جعفر وا دا یوف اور افغا نستا ن کے امیر ملا محمد عمر کی طرح سابق مصری صدر محمد مُر سی نے بھی جلد بازی سے کا م لیکر دشمنوں کو سا زش کا مو قع دیا اگروہ جلد بازی میں چند بڑے فیصلے نہ کر تے تو ان کی حکومت دیر پا ثا بت ہو سکتی تھی تر کی میں نجم الدین ار بکان نے جلد بازی کی اُن کی حکومت کو فوج نے چلنے نہ دیا اُن کے انجام سے سبق لیکر رجب طیب اردگانے تحمل، بر داشت، صبر اور جا مع حکمت عملی سے کام لیااس نے نہ صرف اپنی سیا سی جماعت کو مضبوط کیا بلکہ اپنی حکومت کے ذریعے تر کی میں سیکولر زم اور اسلامی طرز سیا ست کے امتزاج سے پائیدار نظام حکومت کی بنیاد رکھی جو نہ صرف کامیاب ٹھہری بلکہ کئی بغا وتوں کو کچلنے کے قا بل بھی ہوئی مُر سی کا پس منظر بہت دلچسپ ہے مصر میں اخوان المسلمون کے نا م سے اسلامی تحریک کی بنیاد ایک مدرس حسن البنّا شہید نے 22سال کی عمر میں رکھی 1928سے 1949تک انہوں نے تحریک کی سر براہی کی 1949ء میں حسن البنّاقاتلا نہ حملے میں شہید کر دیئے گئے اُن کے بعد سید قطب نے تحریک کی قیا دت سنبھا لی 1966ء میں جمال عبد النا صر نے سید قطب کو عدا لتی حکم کے ذریعے پھا نسی کی سزا دلوائی اُن کی شہادت کے بعد تحریک مزید مضبوط ہوئی مر شد عام کے منصب پر جو بھی فائز ہوا اُس نے قیادت کا حق ادا کیاپاکستان میں مو لا نا مو دودی نے جما عت اسلامی کی بنیاد حسن البنّا اور سید قطب کی تحریک سے متاثر ہو کر رکھی تھی 2010ء میں شام،تیونس، لیبیا اورمصرمیں آنے والے انقلابات کو عرب بہا ر کا نام دیا گیا مصری نو جوا نوں نے فر وری 2011ء میں قا ہرہ اور دیگر شہروں کے اندر سو شل میڈیا کے ذریعے احتجاجی ریلی نکا لی، دھر نا دیا اور حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹ دیا عبوری کونسل نے 2012ء میں انتخا بات کرائے تو اخوان المسلمون نے بھا ری اکثریت سے کامیا بی حا صل کی اور محمد مُر سی کو صدر منتخب کیا یہ بات پہلے سے طے تھی کہ اخوان المسلمون کی حکومت اسلامی شر عی حکومت ہوگی فلسطینیوں کی حما یت کرے گی امریکہ کے سامنے ڈٹ جائیگی اور ملک میں اسلامی قوانین نا فذ کرے گی مگر اس کا طریقہ کار طے نہیں تھا اگر یہ کام 5یا 10سالوں میں بتدریج انجام کو پہنچتا تو پائیدار خطوط پر استوار ہو تامگر محمد مُر سی اور ان کے حا میوں نے پہلے ہی سال قانون سازی کے ذریعے صدر کو باد شاہ والے اختیارات سونپ دیئے عورتوں کی تعلیم پر پا بندی لگائی عورتوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی اور اسرائیل کے خلاف جارحا نہ لہجہ اختیار کیا سا بق صدر حسنی مبارک پر مقدمہ چلا یا وہ مصری فضائیہ کے سابق افیسر تھے اور 30سال حکومت میں رہے تھے ان اقدامات کے نتیجے میں واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں گھنٹیا ں بجا ئی گئیں زنجیریں ہلائی گئیں مصری فوج کو متحرک کیا گیا اور کمانڈ ر انچیف عبد الفتاح السیسی کے ذریعے اخوان المسلمون کی حکومت کو معزول کرکے ما رشل لا ء نا فذ کیا گیا پھر عدا لتوں کے ذریعے محمد مُر سی کو گرفتار کرلیا گیا جنرل عبد الفتاح السیسی کو عہدہ صدارت پر فائز کیا گیا حسنی مبارک کو قید سے رہائی ملی اخوان المسلمون کے ہزاروں حا میوں کو قتل کیا گیا صر ف رباع کے شہر میں 800سے زیادہ لو گ فوج کی گو لہ باری میں شہید کئے گئے محمد مر سی نے 30جون 2012سے3 جو لائی 2013تک ایک سال 3دن مصر پر حکومت کی اس وقت اخوان المسلمون کی اہم شخصیات میں علا مہ یو سف القر ضا دی بقید حیات ہیں ان کی عمر 92سال ہے اور دوحہ قطر میں جلا وطنی کے دن گزار رہے ہیں جعفر وا دا یوف، ملا محمد عمر اور محمد مُر سی کی جلد بازی نے حا لات کا رخ موڑ دیا اور کامیاب انقلاب کو نا کامی سے دو چار کر دیا ان وا قعات سے چار سبق اخذ کئے جا سکتے ہیں پہلا سبق یہ ہے کہ امریکہ اوریو رپ کو مسلما نوں کے روزہ، حج اور نماز سے کوئی تکلیف نہیں ہو تی اسلامی نظام حکومت سے اُن کو تکلیف ہو تی ہے اس لئے اسلامی تحریکوں کو حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے دوسرا سبق یہ ہے کہ اسلا می ملکوں میں فوج اور عدا لتیں با ہر سے ڈکٹیشن لیتی ہیں باہر سے ہلکا سا اشارہ آجائے تو مقبول قیادت اور مضبوط حکومت کا تختہ الٹنے میں دیر نہیں لگتی تیسرا سبق یہ ہے کہ تیسری دنیا کے تر قی پذیر ملکوں میں جمہوریت ایک ڈھکو سلا ہے عوامی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ووٹ کا کوئی تقدس نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے اور آخری سبق یہ ہے کہ مقبول ترین لیڈر کے لئے بھی عوام قر بانی نہیں دیتے عوام جا نے والے کا ساتھ دینے کی جگہ آنے والے کی قر بت حا صل کرنے پر اپنی توا نیاں صرف کر تے ہیں محمد مُر سی نے عدالت کے کٹہرے میں جان دیکر ثا بت کیا کہ ”ووٹ کی کوئی عزت نہیں“

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق