fbpx

خود کشی حرام ہے

۔۔۔۔۔۔۔تحریر:احسان الحق وفا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اہلیان چترال کی توجہ ایک اہم امر کی طرف مرکوز کرانا چاہتا ہوں میٹرک کے نتائج پشاور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کے مطابق 25جون کو متوقع ہے میٹرک کے نتائج کے اعلان ہوتے ہی چترال میں طلبہ اور طالبات فیل ہونے کی صورت میں اپنی جان کو دریا چترال کے بےرحم موجوں کی نظر کرکے اپنی قیمتی جان کو ضائع کردیتے ہیں اور خودکشی جیسے گناہ کبیرہ کے مرتکب جاتے ہیں حلانکہ خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔ قرآن و حدیث کے دلائل پر بحث سے قبل آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اسے اتنا بڑا جرم کیوں قرار دیا۔ درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت اور کسبی نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانہِ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگزاجازت نہیں دیتا۔ زندگی اور موت کا مالکِ حقیقی اﷲ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشا ربانی ہے: وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوَاْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَo ’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبانِ اِحسان بنو، بے شک اﷲ اِحسان والوں سے محبت فرماتا ہےo‘‘ البقرة، 2: 195 امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے: وقيل: أراد به قتل المسلم نفسه. ’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔‘‘ بغوی، معالم التنزيل، 1: 418 ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًاo وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرًاo ’’اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo‘‘ النساء، 4: 29، 30 امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: {وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ} يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل. ’’{اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو}۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔‘‘ رازی، التفسير الکبير، 10: 57 مزید برآں امام بغوی نے ’’معالم التنزيل (1: 418)‘‘ میں، حافظ ابن کثیر نے ’’تفسير القرآن العظيم (1: 481)‘‘ میں اور ثعالبی نے ’’الجواهر الحسان في تفسير القرآن (3: 293)‘‘ میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں (جو کہ اگلے صفحات میں آرہی ہیں)۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔ احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا. ’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔‘‘ بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2: 697، رقم: 1874 یہ حکم نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) ان تمام آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ کو سامنے رکھتے ہیں ہمیں معاشرے سے اس قبیح فعل کو روکنے کے لئے انتھائی ضروری اقدام کرنی ہوگی تاکہ چترال جیسے پرامن فضاءخودکشی جیسے لغت سے پاک ہوجائے اس میں سب سے اہم کردار علماء کرام کا ہوگا علماء کرام سے التماس ہےکہ وہ اس جمعہ کے خطاب میں (خودکشی حرام ہے) کے موضوع پرمفصل گفتگو کریں تاکہ عوام الناس میں شعور پیدا ہو اور تمام سکول وکالج کے اساتذہ کرام بھی اس میں بھرپور انداز میں رول آدا کرسکتے ہیں اپنے لکچر میں اس موضوع کو ضرور زیربحث لائیں اور تمام والدین سے گزارش ہے کہ وہ گھر میں اس مسئلے پر بات کریں اور بچوں اور خصوصاً بچیوں پر اتنی سختی نہ ہو کہ وہ خودکشی پر اتر آئے ان کے ذہن کو پہلے سے تیار رکھے کہ فیل ہونے کی صورت میں والدین کی طرف سے کوئی سخت موقف نہیں آئیگا ڈر اور خوف کی کیفیت کو پہلے سے ختم کیا جائے تاکہ بچوں اور بچیوں کا ذہن اس طرف مائل ہی نہ ہو اللہ تعالی پوری انسانیت کو خودکشی جیسے گناہ سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق