fbpx

اپر چترال کے عوام مفاد پرستوں کی باتوں پر کان نہ دھریں،وفاقی بجٹ میں مستوج روڈ کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے جا چکے ہیں‘ پی ٹی آئی رہنماعبدالعزیز آداب‘ فضل الدین جوش

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) پی ٹی آئی یوتھ ونگ اپر چترال کے جنرل سیکرٹری عبدالعزیز آداب اور لاسپور پی ٹی آئی کے نوجوان رہنماء فضل الدین جوش نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی منصوبے کے شروعات کے خلاف احتجاج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں منصوبے پر عمل د رآمد نہ ہونے پر تو احتجاج تو سنا تھا لیکن مستوج کے بعد بعض نرالے لوگوں نے نرالہ احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں بعض افراد کی طرف سے مستو ج روڈ کے حوالے سے احتجاج کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہو ئے کہاکہ اب وہ وقت گیا کہ لوگوں کی لا علمی کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے‘کتنے افسوس کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ وفاقی حکومت نے سب ڈویژن مستوج کے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے کے لئے 16ارب روپے کے پراجیکٹ کو آنے والے مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا ہے اور سال 2019-20کے لئے مستوج روڈ کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے لوگوں کو ورغلا کر احتجا ج کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں‘انہوں نے کہاکہ سب ڈویژن کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس نام نہاد احتجاج میں شامل ہونے کے بجائے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا شکریہ ادا کرے جنہوں نے اپنے پہلے بجٹ میں مستوج سب ڈویژن اور اپر چترال کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے‘ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا دور ترقی کا دور ہو گا اور گلی کوچوں کی سیاست کرنے والے اس ترقی کے عمل میں اپنی آواز کھو دینگے اور عوام کو انشاء اللہ بغیر احتجاج کے تمام سہو لیات فراہم کی جائیگی‘ انہوں نے کہاکہ ہمیں وہ دن بھی یاد ہے جب شندور میں اپرچترال کو ضلع بنانے کے مطالبہ پر لوگوں کو لاٹھیاں برسائی گئی اور آنسو گیس پھینکے گئے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہو ئے کسی مطالبہ اوراحتجاج کا انتظار کئے بغیر نیا ضلع تشکیل دیا لیکن ان سیاسی بونوں کو اتنی توفیق نہ ہو ئی کہ وہ اس عظیم کارنامے پر باہر نکل کر حکومت کا شکریہ ادا کرتے انہوں نے اپر چترال کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان عناصر کی باتوں میں کان نہ دھریں اور اگر باہر نکلتے بھی ہیں تو حکومت کا شکریہ ادا کرنے کے لئے نکلیں نہ کہ احتجا ج کرنے کے لئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق