fbpx

چترال سائنس میلہ،مصنوعی دھاتی سطح گلوبل وارمنگ اور کلائمٹ چینج کا زمہ دار قرار، معروف صحافی سردار عبدالرحمن کااسٹال لوگوں کی توجہ کامرکزرہا

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)ڈائریکٹوریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی گورنمنٹ آف خیبرپختونخواکے زیراہتمام گورنمنٹ ڈگری کالج چترال میں ایک روزہ سائنس میلہ منعقد کیاگیاجس میں چترال بھرسے سکولوں،کالجوں،یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات اور جنرل پبلک نے اپنے اپنے اسٹالزلگائے جسں میں طلبہ وطالبات کے علاوہ عام عوام نے بھرپورشرکت کی۔سائنس میلے کی خاص بات دروش کے رہائشی اور معروف صحافی سردار عبدالرحمن کااسٹال لوگوں کی توجہ کامرکزرہاجہاں وہ اپنے نودریافت مصنوعی دھاتی سطح کے متعلق وزیٹر زکوپریزینٹیشن دیتے ہوئے کہاکہ صنعتی انقلاب کے بعدسے اب تک زمین کی قدرتی سطح کے اوپرانسان نے ایک مصنو عی دھاتی سطح گھروں کی چھتوں،موٹرگاڑیوں،کنٹینرز،آئیل اینڈگیس ڈپوزاور دیگر انسٹالیشن کی صورت میں زمین کی قدرتی سطح کے اوپر نہایت غیردانشمندانہ انداز میں پھیلادی ہے۔اب یہ دھاتی سطح کامجموعہ زمین پرموجود برف زاروں اور گلیشئیرزکی مجموعی رقبے سے بڑھ چکی ہے جوسورج کی روشنی کوواپس منعکس کرتی ہے،تابکاری کا باعث بنتی ہے اور خصوصاً حرارت کی انتقال کابنیادی سبب بن گئی ہے۔کیونکہ یہ دھاتی شیٹس یا پلیٹس اتنے پتلے ہوتے ہیں کہ اگرسورج کے سامنے رکھ دی جائیں تومنٹوں میں توے کی طرح گرم ہوجاتے ہیں اور چھونے پرباقاعدہ انسانی ہاتھ جل جاتا ہے۔اسی طرح فضاء میں موجود نمی اور اکسیجن کویہ گرم سطح جلادیتی ہے جواس کی سطح پر سراب کی مانند بھاپ کی صورت میں انسانی آنکھوں سے بھی دیکھاجاسکتا ہے۔اسی طرح سردیوں میں یہ دھاتی سطح نہایت سردہوکربھی نمی کو برف کی صورت میں اپنی سطح پرجمادیتی ہے جو دونوں صورتوں میں فضاء میں موجود نمی کی قدرتی شرح کوغیرمتوازن کرکے موسمی تغیرات کا سبب بن رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوکُش،ہمالیہ اور پامیرریجن میں موجود انسانی آبادیوں کے تقریباً سترفیصد گھر اور دیگر تعمیرات انہی میٹل شیٹس کے بنے ہوئے ہیں جوگرم ہوکر الپائن ریجن میں موجود برف اور گلیشئیرزکوپگھلارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گریٹ ہمالیہ ریجن (ہندوکش،پامیر،ہمالیہ)میں کوئی انڈسٹریزموجود نہیں جس کی وجہ سے یہاں گرین ہاؤس گیسز یاکاربن ڈائی اکسائیڈکاکوئی مسئلہ نہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں کا آسمان شفاف نیلا اور ستارے بھرپوراندازمیں روشن اور چمکدار نطرآتے ہیں۔منتظمین کی طرف سے مقرر جیوری نے سردار عبدالرحمن کے پیش کردہ نظریے کو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک نیااپروچ قرار دیتے ہوئے ایوارڈکاحقدار ٹھہرایا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق