fbpx

شندور میلہ کی مختصر تاریخ اور چترالی ثقافت کے زندہ امین

چترال اور گلگت میں صدیوں سے کھیلے جانے والے قدیم طرز کے فری سٹائل پولو کو شندور میلے کی وجہ سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی،
امیراللہ یفتالی کی کوششوں سے 1980کے بعد شندور میلہ خیبر پختونخوا کے سالانہ کیلنڈر ایونٹ میں شامل ہوگیا جو ہرسال جولائی میں سجتاہے
پولو کھیل، شندور کی روایات اور مہمان نوازی میں ہرچین لاسپور کا یفتالی خاندان اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا، ان کے دسترخوان کی وسعت تاریخی اور مثالی ہے۔
امیر اللہ یفتالی کا ہرچین میں عجائب گھر چترال کی ثقافت، ادب، کھیل،سیاسی، عسکری اورسماجی زندگی کا امین ہے، جو صوبے میں اپنی نوعیت کا پہلا عجائب گھر ہے۔

…………..تحریر: محمد شریف شکیب………

کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا کھیل پولو چترال اور گلگت بلتستان میں صدیوں سے کھیلاجاتا ہے۔ یہاں کھیلا جانے والا فری سٹائل پولواس خطے کی پہچان ہے۔ تاہم شمالی علاقہ جات میں کھیلے جانے والے پولو میچ کو عالمی شہرت شندور پولو ٹورنامنٹ کی وجہ سے ملی۔ سطح سمندر سے ساڑھے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع شندور جھیل اور پولو گراونڈ افسانوی حسن اور شہرت رکھتے ہیں۔یہاں کے پولو گراونڈ کو مقامی زبان میں ”مہوران پاڑ“ یعنی پریوں کا مسکن کہا جاتا ہے۔ شندور میں چترال اور گلگت کی پولو ٹیموں کے درمیان کھیلوں کے مقابلے نوابوں کے دور میں ہوتے رہے ہیں۔ 1911میں برطانوی بادشاہ جارج پنجم کے دورہ ہندوستان کے موقع پر ان کے اعزاز میں پولو کے مقابلے ہوئے۔ ریاست نگر کی ٹیم ان مقابلوں کی فاتح رہی۔ آج بھی جارج پنجم کی دی ہوئی ٹرافی نگر قلعہ میں بطور یادگار موجود ہے۔ برطانوی پولے ٹیکل ایجنٹ مسٹر کاب بھی پولو کے بہت شوقین تھے۔ انہوں نے شندور میں چترال اور گلگت کی پولو ٹیموں کے درمیان میچ کا اہتمام کیا۔ جو چترال کی ٹیم نے غفار لال کے بہترین کھیل کی وجہ سے جیت لیا تھا۔ چترال اور گلگت کی پولو ٹیموں کے درمیان ایک میچ1979میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر چترال شکیل درانی کی ذاتی دلچسپی سے شندور میں منعقد ہوا تھا۔ اگلے سال ڈپٹی کمشنر نے وادی لاسپورکی معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور پولو کے نامور کھلاڑی امیر اللہ یفتالی کو گلگت حکام کے ساتھ شندور میلے کے انعقاد کے سلسلے میں مذاکرات کے لئے بھیجا۔ امیر اللہ یفتالی کی کوششوں سے 1980کے عشرے سے شندور میلہ کیلنڈر ایونٹ میں شامل ہوگیا۔ اور ہر سال جولائی میں یہ میلہ شندور میں سجتا ہے۔ شندور میلے کی وجہ سے چترال اور گلگت بلتستان میں کھیلے جانے والے فری سٹائل پولو کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اس کھیل میں چھ چھ کھلاڑیوں کی ٹیمیں شرکت کرتی ہیں۔ کھلاڑی کو گھوڑا تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔پولو کے کھلاڑی کسی قاعدے کے پابند نہیں ہوتے۔ گول کرنے کے بعد گیند کو فلائی ہٹ لگایا جاتا ہے۔ ایک ٹیم کا کھلاڑی زخمی یا ان فٹ ہوجائے۔دوسری ٹیم کا اسی شرٹ نمبر کا کھلاڑی بٹھادیا جاتا ہے۔ شندور پولو ٹورنامنٹ اب خیبر پختونخوا حکومت کی اہم کیلنڈر ایونٹس میں شامل ہوچکا ہے۔ شندور کو کئی اہم شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل ہے جن میں اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق، وزیراعظم بے نظیر بھٹو، صدر فاروق لغاری اور صدر پرویز مشرف شامل ہیں۔ جنرل مشرف نے شندور میلے کے موقع پر لواری ٹنل پر کام دوبارہ شروع کرنے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔ جس کی بدولت چترال کی سات لاکھ کی آبادی کو قید کی زندگی سے چھٹکارہ ملا ہے اور چترال کا ملک کے دوسرے علاقوں میں سال بھر رابطہ قائم ہوچکا ہے۔چترال میں پولو کے فروغ اور شندور میلے کے انعقاد کے سلسلے میں چند شخصیات کا کردار نہایت اہم رہا ہے جن میں بابائے پولومظفر علی، صوبیدار محبوب عالم، سردار خان مرحوم،چترال سکاوٹس کے کرنل مراد مرحوم اورشہزادہ سکندرالملک کا نام قابل ذکر ہے۔ کرنل مراد نے شندور میں شاندار ریسٹ ہاوس تعمیر کروایا۔ تماشائیوں کے بیٹھنے کے لئے چبوترے بنوائے اور چترال سکاوٹس کی مستقل چوکی قائم کی۔ تاہم پولو اور شندور کی تاریخ ایک خاندان کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ وہ خاندان بابائے لاسپور گل ولی خان یفتالی کا خاندان ہے۔ صوبیدار گل ولی خان کے والد ولایت خان کا پیشہ سپہ گری تھا۔ انہوں نے 1948میں کشمیر کی جنگ میں داد شجاعت دی۔ جس کی وجہ سے انہیں اعزازی لیفٹنٹ بنادیا گیا۔ اور وہ ولایت خان کے نام سے کم اور لیفٹننٹ بابا کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔ ولایت خان کے منجھلے صاحبزادے صوبیدار گل ولی خان نے باپ سے بھی زیادہ شہرت حاصل کی۔ ان کی مہمان نوازی ضرب المثل کی طرح مشہور ہے۔ شندور آنے والی تمام ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی میزبانی کا شرف انہیں حاصل رہا ہے۔ ان کا دسترخوان بہت وسیع تھا۔ صرف ناشتے میں پندرہ سے بیس مختلف آئٹم پیش کئے جاتے میں انڈے کے تین، گوشت کے تین، دودھ، ملائی اور پنیر کے پانچ مختلف آئٹم شامل ہوتے۔جبکہ ظہرانے اور عشائیے میں دسترخوان پر پچیس سے تیس اقسام کے طعام سجائے جاتے تھے۔4جون1916کو پیدا ہونے والے صوبیدار گل ولی خان نے بھرپور زندگی گذاری۔ وہ بی ڈی سسٹم کے تحت طویل عرصہ ممبر رہے۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر، یونین کونسل کے چیئرمین رہے۔ ان کی مرضی کے بغیر وادی لاسپور میں پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ وادی لاسپور میں گل ولی خان کی متوازی حکومت ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کا دسترخوان صرف افسروں، حکمرانوں اور اعلیٰ شخصیات کے لئے ہی نہیں کھلتا تھا۔ غریبوں، مسافروں اور عام لوگوں کے لئے بھی ان کا دسترخوان کھلا رہتا اور اس پر وہی بیس پچیس اقسام کے طعام سجے رہتے تھے۔صوبیدار گل ولی خان 4اگست 1912کو96سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ ان کے صاحبزادے امیراللہ خان یفتالی نے اپنے دادا اور والد کی روایات کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ ان سے چار قدم آگے نکل گئے۔چترال کا سب سے اہم میلہ شندور ٹورنامنٹ کا مسلسل انعقاد ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا دسترخوان آج بھی ہر خاص و عام کے لئے کھلا رہتا ہے۔ انہوں نے ہرچین میں اپنے گھر کے قریب منفرد عجائب گھر بھی بنایا ہے۔ جو چترال کی ثقافتی، ادبی، سیاسی، تاریخی اور لسانی روایات و اقدار کا آئینہ دار ہے۔ یہاں صدیوں پرانے آلات حرب بھی رکھے گئے ہیں، گھریلو استعمال کی اشیاء، عمومی پوشاک، کھیلوں کا سامان، پولو کھیل اور گھوڑے پالنے کا سامان بھی دستیاب ہے۔ خواتین کی دستکاریاں بھی ہیں ان کی پوشاک اور زیورات بھی یہاں اصلی حالت میں موجود ہیں۔ بلاشبہ امیراللہ خان یفتالی کو چترالی ثقافت کا زندہ امین کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق