fbpx
تازہ ترینناصر علی

ڈپلومہ یا ڈگری پروگرام فیصلہ آپ کا

…………تحریر: ناصر علی شاہ (آر این)………..

بدلتے حالات کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا انسان کی فطرت ہے جو کہ ترقی کے اس دور میں نت نئے ایجادات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کی بھی کوشش کرتا ہے.موجودہ دورجدید تعلیم کا متقاضی ہے ایڈوانس تعلیم سے ہی ہم زندگی میں آگے بڑھ سکیں گے اور مریضوں کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں. کئی دہائیوں سے پاکستان میں جنرل نرسنگ یعنی تین سالہ ڈپلومہ کورسز کروائے جارہے ہیں. اسی ڈپلومہ کی اپنی اہمیت تھی اور انہیں ڈپلومہ ہولڈرز نے اپنے تین سالہ ایجوکیشن اور پریکٹس کو لیکر مریضوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہیں اورایسے قابل پروفیشنلز بھی موجود ہیں جنہوں نے خدمت کو جاری رکھتے ہوئے اعلی ڈگریاں حاصل کی. انہیں کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے یہ وہی لوگ بتا سکتے ہیں جو اس دور سے گزر چکے ہیں. تین سالہ ڈپلومہ کے بعد کسی بھی فیلڈ میں ایک سالہ سپیشیلیٹی کورس کرنا لازم تھا تب جاکر بی ایس این کی جاتی تھی اور پوسٹ آر این ( بی ایس این) کے لئے بھی دو سال کا تجربہ لازمی ہوتا ہے بصورت دیگر اچھے ادارے میں داخلہ نہیں ملتا. نرسنگ میں ایسے پروفیشنل بھی موجود ہیں جن کو کسی نہ کسی وجہ سے نہ سپیشیلٹی کا موقع ملا اورنہ پوسٹ آر این ڈگری پروگرام کا. کاش کافی پہلے ڈپلومہ بند کردی گئی ہوتی تو آج سارے ڈگری ہولڈر خدمت میں معمور ہوتے. یہ پاکستان نرسنگ کونسل کی غلط پالیسیوں اور طرف داریوں کا نتیجہ ہے جوکہ ابھی تک یہ پروگرام چل رہا ہے. ڈگری پروگرام ( بی ایس این) یہ 4 سال کا کورس ہے جوکہ 8 سمسٹر پر مشتمل ہوتا ہے. اس پروگرام میں انٹرنیشنل لیول کی کورسز کے ساتھ ساتھ کلینکل بھی کروایا جاتا ہے کورس مکمل ہونے کے بعد ہاف سیلری میں 1 سال کا انٹرنشپ بھی دیا جاتا ہے جسمیں بہ نسبت ڈپلومہ کے سیکھنے کو زیادہ ملتا ہے. سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈگری پروگرام ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ ہونے کے باعث پروفیشنل بلا خوف و جھیجک پوری دنیا میں ملازمت کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لیتے ہیں کیونکہ پوری دنیا میں ڈگری کورسز کروائے جارہے ہیں.شروع میں ہم دور جدید کی بات کر چکے ہیں اور جدیدیت کا مقابلہ ڈپلومہ پروگرام سے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پوری دنیا میں اس کا تصور ختم ہوچکا ہے. ہائیر ایجوکیشن کمیش کا دو ٹوک موقف ہے کہ ڈپلومہ پروگرام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا. 2018 میں دوبارہ خبردار کیا جاچکا ہے اگر ڈپلومہ پروگرام کرائے گئے تو تسلیم نہیں کی جائیگی. ہماری پاکستان نرسنگ کونسل سے پرزور مطالبہ ہے کہ لوگوں کے لئے مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کے بجائے 3 سالہ ڈپلومہ پروگرام کو ختم کرکے تمام صوبوں میں 4 سالہ ڈگری پروگرام شروع کروانے کا انتظام کریں تاکہ مریضوں کی اچھی خدمت کے ساتھ ساتھ بندہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں اور معاشرے میں بھی مقام حاصل کر سکیں.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق