fbpx

گولین گول گلئیشیر پھٹنے سے طعیانی، موری پائیں سمیت دیگر دیہات بری طرح متاثر

موری پائیں کے 85 فیصد پانی کی ضروریات گولین گول سے حاصل کی جاتی ہیں۔

گولین (محمد نایاب فارانی)چترال سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گولین گول میں گذشتہ شب گلیشئیر پھٹنے سے جہاں گولین ہائیڈرو پاورہاؤس کو جزوی نقصان پہنچنے  سمیت وادی گولین میں لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ وہاں وادی گولین سے نکلنے والی پائپ لائنوں سے آباد ہونے والے دیہات میں بھی ایمرجنسی کی سی صورت حال ہوسکتی ہے۔ ان میں سرفہرست موری پائیں اور برغوزی کے دیہات ہیں۔ موری پائیں کے ساڑھے تین سو آبادی والے گاؤں کے پینے کے پانی کا 80 فی صد انحصار وادی گولین پر ہے جوکہ پائپ لائن کے ذریعے پورا کی جاتی ہے۔ جو کہ حالیہ طعیانی کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے۔ علاقے میں فصل حریف کی کاشت کا سیزن ہے اور آپباشی کے پانی کا 90 فیصد گولین سے آنے والی اسی پائپ لائن سے پوری کی جاتی ہے۔

Advertisements

علاقے کے مکین اس وقت انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں کہ کس طرح وہ کاشتکاری کے اس سیزن میں اپنے کھیتوں کو کاشت کریں گے جبکہ دوسری طرف پینے کے صاف پانی کی دستیابی بھی ان کے لیے انتہائی سنگین صورت اختیار کرگئی ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ دیہات کے لیے پینے اور آپباشی کے لیے وادی گولین سے آنے والے تمام پائپ لائینیں اس سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں جو موجودہ صورتحال میں مرمت کے لیے کئی مہینے لے سکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق