fbpx
تازہ ترینعنایت اللہ اسیر

…گردگان بر گمبد۔۔۔۔۔۔۔سپاس نامہ

تحریر:عنایت اللہ اسیر
……….03469103996……..

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ چترال کے بڑے بڑے مسائل شندور فیسٹیویل ہی کے مواقع پر ہی حل ہوئے ہیں
1: چترال سکاوٹس کا ایک ہزار سے دس ہزار ہونا جنرل ضیاء ،کرنل مراد کے دور کا چترال کے باشندوں پر بہت بڑا احسان اور تاریخ ساز فیصلہ تھا جس کے ثمرات ہر چترال کا باشندہ حاصل کررہا ہے
2: لواری ٹنل کا ناممکن مسئلہ جس پر اج تک 40 ارب خرچ اچکا ہے جس کی تکمیل 50 ارب تک مکمل ہوجایگا
اسی شندور میں جنرل مشرف کے جراءت مندانہ مردانہ اور رندانہ مضبوط فیصلے کے نتیجے میں اج چترال کے باشندوں کے بہت بڑے مسلےء کے حل کے طور پر دستیاب ہے اللہ تعالی ان کو اجر دے ہم چترال کے باشندے اج بھی اگر جنرل مشرف بذات خود چترال سے کسی بھی سیٹ کے لیے بحیثیت قانونی امیدوار کھڑا ہوجائے تو کسی اور کو اس کے مقابلے میں تکلیف کرنے کی ضرورت نہ ہوگی
اج بھی اگر 9 جولائی 2019 کو شندور کے اس شاندار جانداراورمزیدار فائنل میچ کو دیکھنے کے لئے وزیراعظم  صرف ادھ گھنٹے ہی کے لیے ارمی چیف کو ھمراہ لیکر تشریف لاتے تو تین گھنٹے کی ان کی اسلام آباد سے باہر رہنے سے چترال کے دو بڑے بڑے مسائل کے لیے ہم ان دونوں کے سامنے اپنی درخواست رکھ دیتے اوران کو گلگت بلتستان اورچترال کے پاکستان سے دل و جان سے ذیادہ محبت رکھنے ہزاروں باشندوں سے بل مشافہ بات کرنے کا بہترین موقع فراہم ہوتا اور جمہوری حکومت اورپاک ارمی کے ایک پیج پر ہونے کا عوام الناس میں اعلی ثبوت اور مظاہرہ ہوتا ہمارے خواب ادھورے کرکے ہمارے وزیراعظم نے اچھا نہیں کیا اوراسی دورے ہی میں گولین کے سیلاب ذدہ اور مصبت ذدہ خاندانوں سے ان کا دکھ بھی بانٹ کر واپس تشریف لے جاتے

سپاس نامہ

ہمارا ایک مطالبہ ارمی چیف سے یہ ہوتا کہ چترال میں پاک ارمی نے پورے چترال میں جس طرح فربٹیر کور پبلک اسکولز (FCPS) ادارون کا جال چترال کے باشندوں پراحسان کے طور پر بچھایا ہے اوردروش میں جس شاندار عمارت اور جدید طرز تعمیر کے نمونے کا پہاڑ FCP ڈگری کالج کی داغ بیل کی بنیاد ڈھالی گئی ہے یہ تمام علمی ادارے اور یہ ڈگری کالج کسی کے انچے ویژن میشن اور تعمیری سوچ فکر اور چترال کے باشندوں کے مستقبل کے لیے چترالی نہ ہوتے ہوئے بھی ایک بہتر سوچ اور چترالیوں کے بچوں کے لیے بہترین سوچ اور سہانے خواب کی تعبیر کے مانند ہیں اوراج چترال کے پاکستان اور پاک ارمی سے والہانہ پرخلوص محبت رکھنے والے باشندوں کے ہزاروں بچوں کے لیے عملی طوراتنے کثیر تعداد میں ارمی پبلک اسکولز کھولنے والے کمانڈنٹ چترال سکاوٹس اور اس کے چترال کے بچوں اور بچیوں کے شاندار مستقبل کے کیے شوچنے والی عظیم ماہرتعلیم گھر والی چترالیوں کی ماں بہن بیٹی کو ایک ساتھ چترال سے برگیڈئیر کے عہدے پر ترقی دیکراگر چترال سے ان علمی اداراں کے اپنے پاوں پر کھڑا ہونے سے پہلے تبدیل کرکے چترال سے کہیں اور لے جایا گیا جو کہ قانوں کے مطابق عین درست اور according ti rule ہوگا اس ترقی پانے پرہم کرنل معین صاحب اوران کی فیمیلی کو مبارک باد دیتے ہیں
مگر چترال کے یہ تمام تعلیمی ادارے اس مخلصانہ مشنری جزبہ علمی اور چترال کے باشندوں بچوں اور بچیوں کے بہتر مستقبل کے فکر سے شرشار کمانڈنٹ اور بچیاں اور بچے اس عظیم خاتوں کے کے سرپرستی اور علمی خدمات سے محروم ھوجاینگے
لہذہ ہم سب چترال کے ماووں بہنوں بیٹیوں اور بھاییوں اور تمام باشندگان چترال کا ارمی چیف اور کور کمانڈر 11 کور ظہر شاھین خٹک صاحب سے پر زور مطالبہ ہے کہ چترال کے باشندوں کے معصوم محبت اور بہترین مستقبل کی خاطر برگیڈیر معین صاحب کی خدمات کو چترال بٹالین کے کمانڈر کے طور دو سال تک اکسٹند کیا جائے تاکہ ان کی نگرانی اور ان کے فیمیلی کی رہنمائی میں زیر تعمیر تمام FCP کے تمام اسکول اپنے اپنے منزل کی طرف روانہ ہوجایں چیف اف ارمی اسٹاف کا یہ چترال کے باشندوں پر احسان ھوگا
دوسرا اہم ترین اور پورے ملک کے مفاد میں ایک قابل عمل کم خرچ بالا نشین اورمعاشی طور پر کثیر زرمبادلہ کمانے کا بہترین ذریعہ بھی ہوگا
چترال کے تمام زمینی ٹرک ایبل جیپ ایبل اور پیدل راستوں کو افغانستان ,چایناء اورسنٹرل ایشیاء کے تمام ممالک کے ساتھ جایز تجارت کے لیے کھولا جائے اور سیاحت ,تجارت اور میڈیکل سہولیات اوررشتہ داریوں کی بنیاد پرچترال انے اور چترال سے افغانستان ,چاینا اور سنٹرل ایشیاء کے تمام ممالک تک جانے اور آنے کے لیے وزٹ ویزاء اور ویزاء ایکسٹنڈ کرنے کے سہولیات بھی ڈشٹرکٹ گورنمنٹ اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ ملکر جاری کرنے کے اختیارات رکھتے ہوں،یہ کام کسٹم دفاتر گرم,میردین چشمہ,ارندو,مستوج اور لاسپورمیں کھولکر سویل انتظامیہ ارمی پولیس اور بارڈر پولیس ملکر بہتر انتظام کر سکتے ہیں
یہ کام ہفتوں میں عملی طور پر کرکے زر مبادلہ کمانا شروع کیا جا سکتاہے
بارڈر پر اباد تمام باشندوں سے بہترین تعلق سے غیر قانونی امد و رفت اور تجارت کی مواثر نگرانی کی جا سکے گی
ان تمام ذمینی راستوں کی دس سے بیس لاکھ کے Money and food for work اور ایک اسکیویٹر,لوڈر ,ڈرل مشین اور ٹریکٹر کے ذریعیے دس سے بیس دن میں بحال کیا جاسکے گا پھر امدن ھی امدن
پھر ڈرائی پورٹ,دروش,چترال اور مستوج میں قایم کرکے کروڑوں کا مال ہفتوں میں افغانستان,چایناء,اور سنٹرل ایشاء کے تمام مارکٹس تک دنوں اور گھنٹو ں پہنچا کرکروڑون کا زریعے مبادلہ کمایا جاسکے گا
سب سے صرف ایک درد مندانہ اپیل ہے کہ یہ درخواست ہے ہمارا سپاسنامہ وزیرےاعظم پاکستان اور محترم ارمی چیف تک پہبچا کر مشکورفرمایین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق