fbpx
تازہ تریننثار احمد

           شاباش چترال پولو ٹیم 

………تحریر: نثار احمد………….
سات جولائی کو جشن ِ شندور کے نام سے شندور جیسے پُرفضا مقام پر شروع ہونے والا میلہ نوع بنوع رنگینیوں اور تہہ در تہہ خوبصورتیوں کو اپنے پہلو میں لئے نو جولائی کو اختتام پذیر ہوا.
یوں عرصۂ دراز سے چلے آنے والے اس میلے میں رنگا رنگ قسم کے ثقافتی و روایتی شو پیش کئے جاتے ہیں مگر اس میلے کو شہرت کھیلوں کے بادشاہ پولو کی وجہ سے ملی ہے. چترال اور گلگت بلتستان کے مابین چلے آنے والے ان مقابلوں کا آغاز انیس سو چھتیس بتایا جاتا ہے. ابتداء میں کئی دہائیوں تک ان مقابلوں کا اہتمام گلگت اور چترال کے لوگ خود سے اپنے طور پر کرتے رہے بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور سے یہ مقابلے باقاعدہ ریاستی سرپرستی میں جاری و ساری ہیں. ان پولو مقابلوں کا “فری سٹائل” یعنی کسی بھی قاعدے اور ضابطے سے ماوراء ہونا انہیں دنیا کے باقی حصوں میں کھیلے جانے والے پولو مقابلوں سے ممتاز کرتے ہیں. چونکہ میچ کے دوران گراؤنڈ میں کوئی ریفری نہیں ہوتا اس لیے ہر کھلاڑی مخالف کھلاڑی کو ہر ممکن طریقے سے روکنے، اس پر گھوڑا دوڑانے، اس کی اسٹک گرانے اور اس سے بال چھیننے کی کوشش کرتا ہے.
سن دو ہزار انیس کے شندور میلے کے فائنل پولو میچ میں پچھلے سال کی طرح امسال بھی نہایت سنسنی خیز مقابلے کے بعد چترال نے گلگت کو ایک گول سے ہرا کر جیت کی کئی سالہ روایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا. چترال ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے کسی بھی استثناء کے بغیر انتہائی زمہ درانہ کھیل پیش کیا. نہ صرف چترال ٹیم کے کھلاڑیوں کا کھیل دلچسپ تھا بلکہ  گلگت کے کھلاڑی بھی جیت کے حصول کے لیے کشتیاں جلا کر میدان میں اُترے تھے.
دراصل گزشتہ تین چار سالوں سے گلگت ٹیم چترال کے مقابلے میں کئی کئی گولوں سے ہارتی رہی ہے. اس پس منظر میں حالیہ مقابلے میں گلگت کا فتح سے صرف ایک گول کے فاصلے پر رہ جانا جہاں گلگت ٹیم میں  واضح امپرومنٹ کی عکاسی کر رہا ہے وہاں مستقبل میں چترال ٹیم کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی بجا رہا ہے.
بہرحال کسی بھی ٹیم کی جیت تمام کھلاڑیوں کی بھرپور کوشش کی مرہون ِ منت ہوتی ہے. یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ایک کھلاڑی کی کمزوری پوری ٹیم کے حق میں ہار کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ایسے میں فائنل جیتنے کے بعد تقسیمِ انعامات اور کپتان شہزادہ سکند الملک کے ہاتھوں ٹرافی ہوا میں لہرائے جانے سے قبل ہی سوشل میڈیا میں جیت کا سہرا اپنی پسند، برادری اور علاقے سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے سر باندھنے کے لیے برپا رسہ کشی نے بڑی قبیح قسم کی بدمزگی پھیلائے رکھی یہاں تک کہ مین آف دی میچ کو بھی متنازعہ بنانے کی باقاعدہ ایک مہم چلی. حالانکہ کھیل کی دنیا سے ادنی شغف رکھنے والے شخص کو بھی اس بات کا ادراک ہو گا کہ عموماً مین دی میچ اُسی کھلاڑی کو بنایا جاتا ہے جس نے سب سے زیادہ گول کیا ہو. ظاہر ہے کہ ونر ٹیم میں پانچ گول کرنے والے اظہار علی خان کی موجودگی میں کسی اور کھلاڑی کو مین آف دی میچ قرار دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا.
بہرکیف کھلاڑیوں کو مختلف خانوں میں بانٹ کر علاقائیت یا قومیت کی بھینٹ چڑھانا ایک قابل اصلاح روش ہے جس کی حوصلہ شکنی کرکے آئندہ کے لئے اِس سے گُریز ہی بہتر ہے. وگرنہ مستقبل میں اس کے نتائج ٹیم میں نااتفاقی اور اپنی ہی ذات کی تشہیر کے لئے کھیلنے کی صورت میں نکلیں گے.  فاتح ٹیم کے کسی ایک کھلاڑی کا اقبال بلند کرتے کرتے اسی وِنر ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنا اُن کھلاڑیوں کی محنت کا بھی مذاق ہے اور ٹیلنٹ کا بھی.
پھر اس کھیل کسی بھی نمبر پر کھیلنے والے کھلاڑی کی اپنی اہمیت ہے. اگر ایک نمبر کا کھلاڑی مخالف ٹیم کے ڈیفینڈر کو انگیچ رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو دو نمبر کا کھلاڑی مخالف ٹیم پر پے در پے حملے کرکے اسکور بنانے کی کوشش کرتا ہے. اگر پانچ اور چھ نمبر کے کھلاڑی بیک لائن میں چٹان بن کر مخالف ٹیم کے حملوں کو پسپا کرتے ہیں تو سنٹرل لائن میں کھیلنے والے تین اور چار نمبر اپنے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگا کر کبھی فارورڈ تو کبھی بیک میں پہنچ کر مخالف ٹیم پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں. ایسے میں کسی بھی ایک کھلاڑی کی اہمیت کو کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا.
اخیر میں جیت کا تحفہ عطاء کرنے پر ہم تمام کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں. بقول کپتان شہزادہ سکندر الملک یہ صرف ایک ٹیم کی نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کے مقابلے میں پورے چترال کی جیت ہے.
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق