fbpx
اقبال حیات آف برغزیتازہ ترین

فریاد کریں تو کس سے؟

………. تحریر: اقبال حیات آف برغذی……..

گولین گول میں گلیشر کے ٹوٹنے سے جہاں وسیع طور پر تباہی ہوئی ہے وہاں گاؤں برغذی پرپڑنے والے اس کے اثرات کو اگر اولیت دی جائے تو بے جانہ ہوگا۔ کیونکہ اس علاقے کا پورہ آبی نظام برباد ہوا ہے۔ اور یوں متبادل پانی کے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اس گاؤں کے مکین کربلا کی کیفیت سے دوچار رہں۔ ہر ذی روح پانی کی بوند کو ترستا ہے۔ وسیع وعریض رقبے پر کاشت فصلوں کے نقصانات کے احتما ل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔درختوں سے پھل گررہے ہیں۔مال مویشیوں کی تشنگی ان کی چیخ وپکار سے عیاں ہوتی ہے۔ چہچہاتے پرندے نقل مکانی کرنے کی وجہ سے ان کی آواز معدوم ہوتی جارہی ہے۔ مختصر یہ کہ اس گاؤں کے باسی مشکلات ومصائب کی بدترین حالات سے گزررہے ہیں۔مگر بدقسمتی سے آزمائش کی ان مشکل ترین گھڑیوں میں عام لوگوں میں نہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانے والے مصائب کا شکارمہاجریں کے لئے انصار کی طرف سے دل کے دروازے کھولنے کا جذبہ او نہ فرات کے کنارے کتے کی بھوک سے موت کی ذمہ داری لینے والے حکمران نظرآتے ہیں۔آگے بڑھ کر سہارا بننے کی امید سے ہر ایک طرف نظریں اٹھتی ہیں۔مگر ابتلاکسی ان گھڑیون میں دکھ بانٹنے والا دوربین لگانے سے بھی نظرنہیں آتا۔ نہ کوئی حکومتی اہلکار حالت زار معلوم کرنے کے لئے اس مصیبت زدہ گاؤں کا رخ کرنے اور نہ عام قرآن کی زبان میں بھائی نام سے موسوم علاقے کے مسلمان غمخواری کا اظہار کرتے ہوئے دست وبازو بننے کے لئے آگے بڑھنے کی زحمت اٹھاتے ہیں۔اس علاقے کے عوام پر بیتنے والے حالات ہی فریاد کنان ہیں مگر سننے کے لئے کان کھولنے والا کوئی نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق