fbpx

آرکاری روڈ کے ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ یا بلو کی رقم بھی اس سڑک پر صحیح معنوں پر خرچ کیا جائے۔عبدالقیوم/عبدالمجید کی پریس کانفرنس

چترال (محکم الدین) ممبر ڈسٹرکٹ کونسل گرم چشمہ عبد القیوم، ممبر تحصیل کونسل عبدالمجید، ویلج ناظم شیر محمد اور چیرمین لوکل سپورٹ آرگنائزیشن شرف الدین وغیرہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے۔ کہ پسماندہ ترین آرکاری ویلی روڈ کی تعمیر کیلئے منظور شدہ ڈیڑھ کروڑ کے فنڈ میں 62فیصد بلو کو منظور نہ کیا جائے۔ یا اس بلو کے عوض صحیح معنوں میں کام اس سڑک پر دوبارہ کیا جائے۔ بصورت دیگر وہ اس فنڈ کو بندر بانٹ ہونے نہیں دیں گے۔ چترال پریس کلب میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ کہ اس سے پہلے بھی اس سڑک کی تعمیر کے نام پر ملی بھگت سے فنڈ خرد برد کئے گئے ہیں۔ اور فنڈ خرچ ہونے کے باوجود سڑک کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اب بھی اس آڑ میں فنڈ ہڑپ کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ لیکن آرکاری کے لوگ اور اُن کے نمایندگان کسی صورت ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ عبد المجید اور عبد القیوم نے کہا۔ کہ 62فیصد بلو کے علاوہ دفتری اخراجات ہیں۔ جس کے بعد یہ فنڈ پچیس فیصد بھی نہیں بچتی۔ ایسے میں سڑک کی تعمیر ٹھیک طریقے سے ہونا کیسے ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عوام آرکاری کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ اور فنڈ کو ہضم کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ اس سڑک پر سفر کرتے ہوئے اب تک سینکڑوں سے افراد حادثات کاشکار ہو کر جان بحق ہوئے ہیں۔ جبکہ اب بھی اس روڈ پر لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سفید آرکاری میں پُل سیلاب میں بہہ گیا ہے۔ جو سابقہ ٹھیکہ دار کی ناقص کارکردگی کا ثبوت ہے۔ اب ایک ہزار کی آبادی نقل وحمل سے محروم ہو چکا ہے۔ انہوں نے گرم چشمہ روڈ کی تعمیر میں ٹھیکیدار کی غفلت اور سستی کے حوالے سے باز پرس کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے ٹھیکیدار رحمت سلطان کے ذریعے آرکاری سڑک پر 13لاکھ روپے کے خرد برد کا حساب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ آرکاری روڈ کے ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ یا بلو کی رقم بھی اس سڑک پر صحیح معنوں میں خرچ کرکے اسے بہتر بنایا جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق