fbpx

پشاور میں حفاظتی ٹیکہ جات کی مشترکہ مہم چلانے کا فیصلہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں 10مہلک بیماریوں کے خلاف مشترکہ مہم کا فیصلہ

پشاور(چترال ایکسپریس)صوبہ خیبر پختونخوا میں بچوں کو10مہلک بیماریوں کے خلاف بروز پیر 22جولائی سے مہم شروع کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے یہ مہم دو ہفتے جاری رہے گی اس بات کا فیصلہ ایمر جنسی آپریشن سنٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس کی صدارت ای او سی کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی نے کی اجلاس میں ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اکرم شاہ اور دیگرمعاون اداروں کے حکام نے بھی شرکت کی اجلاس میں ڈی ایچ او پشاور ڈاکٹرسبحانی نے اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ میں پشاور میں 10مہلک بیماریوں کی روک تھام کے لئے چلائی جانے والی مہم کے انتظامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ بچوں کو ان 10مہلک بیماریوں سے بچانے کے لئے ویکسینیشن ان کے صحت مند مستقل کے لئے انتہائی ضروری ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین آگے بڑھ کربچوں کو ان مہلک بیماریوں کی روک تھام میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں اور اپنے بچوں کو ٹی بی، ہیپاٹائیٹس،پولیو، خسرہ اورنمونیہ جیسی موذی بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات لگائیں اس مقصد کے لئے مراکز صحت کے ساتھ ساتھ مقامی حجروں میں بھی صحت کیمپ لگاکر بچوں کی ویکسینیشن کی جارہی ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر ویکسینیشن کی سہولت فراہم کی جائے اور معا؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎شرے کے تمام طبقات بالخصوص والدین کا قومی فریضہ ہے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے بچوں کو ان قریبی مراکز صحت اور صحت کیمپ لے جا کرانہیں 10مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسینیشن کرائیں والدین کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ ان کی ذرہ سی غفلت ان کے بچے کے مستقبل کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے عمر بھر کی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق